لفافہ

حجاب کے نام

محبوب رسالہ

حجاب اسلامی ہمارے گھر کا محبوب رسالہ ہے۔ شدت سے انتظار رہتا ہے۔ ہماری بڑی اور جوائنٹ فیملی ہے۔ پہلے بچیاں آپس میں لڑتی تھیں۔ اب میں نے باری لگا دی ہے۔ سوچتی ہوں ایک کے بجائے اب تین شمارے منگانا شروع کردوں۔

مئی کے شمارے کا تفصیلی مطالعہ کیا اور اپنے تاثرات کا اظہار اس خط کی صورت میں ضروری سمجھا۔

یوں تو تمام ہی مضامین اچھے لگے مگر گوشہ استقبال رمضان نے بر وقت قارئین کو متوجہ کیا ہے۔ مثالی خاتون، رشتہ داروں میں محبت اور بچوں کو کتابوں سے دور نہ کیجیے، بہت پسند آئے۔ افسانوں کا کالم بھی اچھے افسانوں سے سجا ہوا ہے۔ ہار اور جیت، ناکام بغاوت بعض منفی اور تلخ حقائق کو اجاگر کرتے ہیں۔ کاش کہ لوگ عبرت حاصل کریں، اسی طرح افسانہ برقع بھی پسند آیا۔

خواتین لکھنے والی تو اب حجاب میں بہ کثرت نظر آنے لگی ہیں مگر شعر و نغمہ کے کالم میں خواتین نظر نہیں آتیں۔ اس طرف توجہ دی جائے تو شاعرات کو بھی حجاب اسلامی سے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

آنسہ شیخ

ریٹائرڈ ٹیچر (بیدر، کرناٹک)

[آپ کا خط باعث مسرت ہے۔ آپ تین کیوں اور زیادہ رسالے منگوائیے اور ’’جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو‘‘ کے مصداق اپنے ملنے جلنے والوں کو بھی حجاب پڑھوائیے۔]

خوش خبریاں

اس ماہ حجاب اسلامی ڈسٹری بیوٹر صاحب کی وجہ سے بہت جلد موصول ہوگیا، اس لیے خط لکھ پا رہی ہوں ورنہ ڈاک والوں کی مہربانی سے ہمیشہ ۱۰؍ تاریخ کے بعد ہی رسالہ دیکھنے کو ملتا تھا۔ ابھی حجاب کا تفصیلی مطالعہ تو نہیں کیا ہے مگر سرسری نظر میں دیکھنے سے مشمولات اچھے لگے۔

یہاں آکولہ میں لکھنے والیوں کی بھی اچھی ٹیم تیار ہو رہی ہے، حسب سہولت آپ کو وہ تحریریں ارسال کر رہی ہوں۔ آپ کے حکم پر مضمون بھی لکھ دیا ہے باوجود مصروفیات۔

ہمارے گھر میں ایک خوشگوار مصروفیت کا اضافہ ہوا ہے۔ گھر میں خوشیوں کا بسیرا ہے۔ اسماء تزئین باجی کے گھر میں ایک ننھی شہزادی آئی ہے۔ ہماری طرف سے اسماء باجی اور بھائی صاحب کو مبارکباد۔ انہوں نے اس کا نام خدیجہ مریم رکھا ہے۔ وہ ابھی یہیں ہیں۔ اپنا مضمون شائع کرنے پر آپ کو شکریہ اور سلام کہہ رہی ہیں۔

سلمیٰ نسرین بنت عبد الرحیم صاحب

اکولہ (بذریعہ واٹسپ)

[تمہارا خط کئی پہلوؤں سے مسرت کا باعث ہے، ڈسٹریبوشن سسٹم کی کامیابی، لکھنے والیوں کی ٹیم کی تیاری اور سب سے اہم ’’خوشگوار مصروفیت کا اضافہ‘‘ ہماری جانب سے خدیجہ مریم کے والدین اور تمام متعلق افراد کو مبارکباد۔ اللہ سے دعا ہے کہ اسے نیک اور صالح بنائے اور وہ دین کی خدمت کے جذبے کے ساتھ پروان چڑھے۔ آمین]

ایک خط قابل توجہ!

یہ تحریر جس غرض سے لکھنا چاہتا ہوں وہ غرض بعد میں لکھوں گا۔ پہلے ’’حجاب اسلامی‘‘ کے تعلق سے لکھتا ہوں۔ ’’حجاب اسلامی‘‘ سے میرا پرانا تعلق ہے۔ جناب مائل صاحب مرحوم سے تو کچھ خط و کتابت بھی رہی تھی۔ الحمد للہ جناب مولانا عامر عثمانی مرحوم سے بھی کچھ خط و کتابت رہی تھی۔ سوچتا ہوں کہ اگر میں ان بڑے قلم کاروں کی تحریروں کو محفوظ رکھتا تو اچھا ہوتا۔ گزشتہ ۲۴ سالوں سے میں ’’حجابِ اسلامی‘‘ پڑھ رہا ہوں اور Circalate بھی کر رہا ہوں۔ یہ عمل اس لیے ہے کہ حجاب میں ہیرے موتی بھی ملتے ہیں۔ یہ رسالہ شروع سے ہی اسلامی، سماجی اور معاشرتی اصلاح کی فکر میں ہے اور بعد میں صحت کی فکر میں بھی یعنی گوشہ صحت کا بھی آغاز ہوا۔ یوں کہیے کہ دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تحریروں، جو کہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں پر مشتمل ہے۔ مگر مجھے بہت ہی افسوس اور شرمندگی کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ جناب مائل صاحب مرحوم یا جناب ڈاکٹر ابن فرید صاحب مرحوم یا عالی جناب کی کوشش سے معاشرتی اصلاح قطعی نہیں ہوسکی۔ اگر ہماری عورتوں میں معاشرتی اصلاح کا جذبہ ہوتا تو جہیز کا چلن ختم ہوسکتا تھا۔

اب مجھے یاد آیا کہ حجاب اسلامی کے موجودہ ایڈیٹر سے بھی میری تھوڑی سی خط و کتابت رہی ہے۔ میں نے آپ کو لکھا تھا کہ ’’حجاب‘‘ کے تمام مضامین صرف خواتین کے تعلق سے ہی نہ ہوں بلکہ مردوں کے تعلق سے بھی ہوں۔ میں نے آپ کو یہ بھی لکھا تھا کہ پرانے حجابوں کی تحریروں میں سے کچھ دو صفحات ہونے چاہئیں۔ چھ سات سال قبل کی بات ہے کہ آپ کے ایک نمائندے ہمارے شہر آئے تھے جن کا نام مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا مگر ان کے نام کا ایک جز عالم بھی تھا، ان کو میں نے کچھ پرانے رسالوں بشمول حجاب کے زیراکس دیے تھے کہ ان پرانی تحریروں کو حجاب میں شائع کرانا فائدہ مند ہوگا۔ اس زمانے میں میرے پاس بہت سے پرانے رسالے بشمول تجلی تھے۔ اب میں نے اپنی لائبریری تقریباً خالی کردی ہے، اسکولوں کو دے دیا۔ کتب کانوں کو دے دیا اور بہت سی کتابیں مختلف مسجدوں میں رکھ دیں۔ خانگی کام کے تحت سفر پر جاتا ہوں تو اس مقام کی مسجد میں بھی کوئی کتاب یا رسالہ رکھ دیتاہوں، جس پر قارئین کے عرض کرنے کے لیے کچھ باتیں بھی لکھ دیتا ہوں… رسالہ حجاب مسجدوں میں نہیں رکھتا۔ خواتین کے لیے ہے۔

اگر آپ حجاب کے نام یعنی قارئین کے خطوط میں میری تحریر شائع فرمائیں تو براہ کرم میرا نام و پتہ تحریر نہ فرمائیں۔

ہمارے شہر میں آپ کا یا آپ کے کسی رشتہ دار یا کسی دوست کا کوئی کام ہو تو آپ مجھے بلا تکلف لکھ سکتے ہیں۔ لوگ مجھے سوشیل ورکر کے نام سے جانتے ہیں۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے میرج بیورو کا ’’ضرورت رشتہ‘‘ کا اشتہار کئی بار کئی اخبارات و رسائل میں آیا مگر صرف لڑکی والے ہی مجھ سے رجوع ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ میرے Fileمیں ایک سے ایک اچھی لڑکیاں ہیں آپ کا بہت یادہ وقت لیا۔ معذرت خواہ ہوں۔ فقط ناچیز

چند گزارشات

[محترم آپ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس پر عمل کرتے ہوئے ہم آپ کا خط شائع کر رہے ہیں۔ آپ نے شہباز عالم کو جو شمارے دیے تھے ان میں سے کچھ منتخب مضامین ہم نے ’’گاہے گاہے باز خواں‘‘ کے تحت شائع کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے گا۔ آپ جو اسلامی لٹریچر پھیلانے کا کام کر رہے ہیں وہ اللہ کے یہاں آپ کے لیے اجر کا ذریعہ بنے گا۔ انشاء اللہ۔

آپ نے میرج بیورو کے سلسلہ میں جو بات کہی ہے وہ تلخ حقیقت ہے۔ جب ہم لڑکی والے ہوتے ہیں تو خوب پریشان ہوتے اور مناسب رشتوں کی تلاش میںجوتیاں گھستے ہیں، مگر جب لڑکے والے ہوتے ہیں تو وہی رویہ اپناتے ہیں، جو ہماری لڑکی کے رشتے کے وقت لڑکے والے اپنا کر ہمارا دل دکھاتے تھے۔

حفیظ میرٹھی کے الفاظ میں:

لینے کے پیمانے اور ہیں دینے کے پیمانے اور

دلوں سے دین اور خوف خدا نکلے گا تو فساد تو برپا ہوگا ہی۔ رہی بات سماجی اصلاح ہونے یا نہ ہونے کی تو بس یہ عرض ہے کہ ان بزرگوں کی کوششوں سے گھروں، خاندانوں اور افراد کے سوچنے کے انداز بدلے ہیں۔ مگر اتنے بڑے ہندوستان میں بھلا حجاب پڑھنے والوں کی تعداد تو دیکھئے۔ آٹے میں نمک والی بات بھی صادق نہیں آتی۔ (ایڈیٹر)]lll

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply