گھر اور خاندان کی فکر

اس وقت مغربی تہذیب و تمدن نے پوری دنیا کے معاشروں پر یلغار کر رکھی ہے، جس کی زد میں آکر پرانی قدریں اوراخلاقی، سماجی و معاشرتی روایات دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہیں نیز سماج اور معاشروں میں مختلف قسم کی برائیاں اور اخلاقی بیماریاں فروغ پا رہی ہیں۔ ایسے میں ہمارا گھر اور خاندانی نظام بھی نشانے پر ہے اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلم سماج خصوصاً وہ لوگ جو اپنے خاندان اور گھر کو اسلامی اقدار اور اخلاقی بنیادوں پر قائم دیکھنا اور باقی رکھنا چاہتے ہیں، اس بات کی طرف ہمیشہ متوجہ رہیں کہ مغربی تہذیب و ثقافت کی متعددی بیماریاں ہمارے گھر اور خاندانی نظام پر حملہ آور نہ ہوسکیں اور اگر ہوں تو ان کا دفاعی نظام اس کے وائرس کو ہلاک کردے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے گھر اور سماج کا مدافعتی نظام اتنا مضبوط ہو کہ وہ انہیں لڑ کر ہلاک اور ختم کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا جسمانی نظام صحت و مرض اسی انداز میں کام کرتا ہے کہ جب بیماری کے وائرس جسم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو جسم کے دفاعی وائرس ان سے لڑتے ہیں۔ اگر وہ طاقت ور ہوتے ہیں تو بیماری کے وائرس کو ہلاک کر دیتے ہیں اور جسم صحت مند رہتا ہے بہ صورت دیگر وہ شکست کھا جاتے ہیں اور انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ بالکل یہی صورتِ حال انسانی سماج اور معاشرے کی ہے کہ جب سماجی و معاشرتی برائیاں حملہ کرتی ہیں تو نیک اور صالح اقدار ان سے دفاع کے لیے آگے آتی ہیں اور پھر برائی اور بھلائی کے درمیان جنگ ہوتی ہے اور جو فاتح ہوتا ہے وہی باقی رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں برائی اور بھلائی کی اس جنگ کو حق و باطل کی جنگ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

’’اور اللہ حق کی حقانیت کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت کرے گا خواہ مجرمین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (یونس:۸۲)

ایک اور مقام پر اہل ایمان کو حق و باطل کی کشمکش میں حوصلہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا:

’’جو شخص اللہ کی طر ف سے واضح دلیل رکھتا ہو… (اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں) تم اس سلسلہ میں شبہ اور تردد کا شکار نہ ہو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے بھیجا گیا حق ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ جانتے نہیں۔‘‘ (ہود:۱۷)

سماجی اور معاشرتی تناظر میں اخلاق اور بداخلاقی کی اس جنگ کو جیتنے کے لیے اہل ایمان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ میں تاکید کی گئی ہے۔ نہی عن المنکر یعنی برائیوں سے روکنا بالکل ویسے ہی جیسے جسم کے صحت مند وائرس کا بیماری کے وائرس سے لڑنا۔ گویا جس طرح صحت و مرض کا معاملہ انسانی جسم کے ساتھ ہے وہی معاملہ سماج اور معاشرے کا بھی ہے یہاں۔ معروف و منکر کی جنگ ہوتی ہے۔

اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد اب اس طرف توجہ دینے کی باری آتی ہے کہ ہم اپنے گھر اور خاندانی نظام کو اس نئی تہذیب و تمدن کے بیمار اثرات سے کیسے محفوظ رکھیں اور کس طرح اپنے آپ کو اہل خانہ کے ساتھ اسلامی اقدار و اصولوں سے باندھیں رکھیں۔

اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ گھر میں سب سے اہم اور کلیدی رول ماں کا ہوتا ہے۔ وہی گھر کی ماحول سازی کرتی ہے، وہی گھر کے افراد کی اہم اور بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہے اور وہی نئی نسل کے ذہن و فکر کو بناتی اور اس کی تربیت و تشکیل کرتی ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ خواتین کے اندر جس قدر اسلامی شعور ہوگا اور وہ اس تہذیب و تمدن سے جس طاقت کے ساتھ لڑنے کی اہل ہوں گی ہمارا گھر اور خاندان اسی قدر برائیوں کے اثرات سے محفوظ اور مامون ہوگا۔ چناں چہ اس حقیقت کے ادراک کے بعد اس بات کی ضرورت اور اہمیت سے انکار کا امکان نہیں رہتا کہ باشعور مرد اپنے گھروں میں خواتین کی اسلامی تربیت و ذہنی تشکیل کا فریضہ ترجیحی بنیادوں پر انجام دیں اور باشعور اور دین پسند خواتین خود خواتین کے درمیان اسلامی شعور کی بیداری کی مہم چھیڑیں۔ نیپولین جو تاریخ کا عظیم فاتح قرار پاتا ہے اس نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘ کیوں کہ ایک عورت ہی بچوں کی پرورش اور تربیت کرتی ہے لہٰذا اسے خاص طور پر دینی شعور سے آراستہ ہونا چاہیے اور اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو اس یلغار سے اپنے گھر اور خاندان کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے۔

شعور کی بیداری اور اسلام پسند ماں کے رول کی وضاحت کرتے ہوئے پڑوسی ملک کے معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد شفیع صاحب کی اہلیہ نے برطانیہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک بار انہیں وہاں ایک مسلم خاندان کے ساتھ ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ بچے کس قدر دینی معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہاں مقیم بچوں کو پاکستانی بچوں سے زیادہ مسنون دعائیں یاد تھیں اور دین کی معلومات میں وہ ہمارے بچوں سے کہیں آگے تھے۔‘‘

در اصل دینی گھر اور دینی ماحول میں پلنے والے بچے بیرونی برائیوں کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر برائی اور بھلائی کا تصور واضح ہو جاتا ہے۔ مگر یہ کیفیت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اپنے گھروں کو اسلامی طرزِ زندگی، دین اور دینی بنیادوں پر اس کی ماحول سازی کریں۔ اس ماحول سازی سے پہلے گھر کے مرد و خواتین حضرات کی دینی ذہن سازی ضروری ہے اور اس کے لیے ہمیں سیدھے پہلے قرآن و حدیث کی طرف پلٹنا ہوگا، ان کا سمجھ بوجھ کر مطالعہ کرنا ہوگا اور پھر ان کے احکامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اس تہذیبی یلغار سے محفوظ رہنے اور اپنی نسلوں کو محفوظ کرنے کی یہی ایک ترکیب ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو ممکن ہے ہم خود مسلمان رہتے ہوئے زندہ رہ لیں مگر ہماری آئندہ نسل بھی ایمان پر قائم رہتے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہوسکے گی اس کی ضمانت مشکل ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply