شکایتوں کے ویرانے میں شکر کا پھول

ہمارا ذہن اکثر شکایتوں کا کباڑ ڈھوتے ہوئے بوجھل بوجھل رہتا ہے۔ اکھڑا ہوا موڈ، بجھا بجھا سا ذہن‘ بکھرا ہوا مزاج بلکہ ہمارا اداس دل تو شکرگزاری کا ہنر ہی بھول گیا۔ اکثر اس دل کو حیرت ہوتی ہے اور یہ سوال تڑپاتا ہے کہ کیا اپنے پالن ہار کا شکر ادا کرنا بھی کوئی ضروری کام ہے۔ وہ بھی ان گھڑیوں میں جہاں مسائل ہر تمنا کی تکمیل میں حائل ہیں۔ جو کچھ بھی قسمت سے ملا ادھورا ملا۔ سکھ چین کی چند گھڑیاں بھی بٹوارے کی نذر ہوئیں۔ خوشی ملی بھی تو اتنی کہ جس کے بغیر بھی گزارا ممکن تھا۔

اسی ذہنی کشمکش کے سبب پاس اور دور کی اچھائیاں جانے کیوں ہماری آنکھوں کے دریچوں سے دل کی دنیا میں جگہ نہیں بناتیں۔ ہم کہتے ہیں کس بات کا شکر ادا کریں۔کس نعمت کا نغمہ گائیں اور کس Blessing کا بھجن گائیں۔ ہماری زندگی تو ببول کے درخت میں پھنسی ململ کی چادر ہے جو ہر آن تار تار ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے دکھ کلیجہ پھاڑ دیتے ہیں‘ مسائل کمر توڑ دیتے ہیں۔ خوف غارت کردیتا ہے‘ فکردل دہلائے رکھتی ہے۔ ایسے میں شکر کس بات کا۔یہ خیالات دراصل منفی جذبہ کے غلبہ اور ناشکری کے سبب ذہن میں کلبلاتے ہیں۔

دوستو! ایسے میں میں ایک کامیاب تجربہ میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ایسے رویے پر جس میں آپ اپنی ساری ذہنی کوفت کے کوئلوں کے بدلے ہیروں کے ہار کے مالک بن جائیں گے۔ وہ بھی صرف ایک ماہ کے اندر۔ ہاں، صرف ایک ماہ میں آپ کے سینے کے صحرا سے میٹھے پانی کے چشمے ابل پڑیں گے۔ آپ اگر تیار ہیں تو وہ بہت آسان سی ترکیب ہے۔

آپ صبح جاگتے ہی آس پاس کی 25 چیزوں کو دیکھیں جیسے لحاف، چادر، تکیہ، غلاف وغیرہ۔ اسی طرح آپ بہت عام سے 25 چیزوں کو گنتے رہیں اور اس پر رب کا شکر ادا کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ یہ کیا بات ہوئی ’’پھٹے لحاف پر شکر، تکیہ پر طمانیت، چادر کا دلی اعتراف۔ حد ہوتی ہے ہر بات کی… اور یہ سب ڈھکوسلے ہیں کردارسازی کا دعویٰ کرنے والی کتابوں کے۔‘‘ آپ ایسی باتوں سے ذہن کو پل بھر بھی منتشر نہ کریں، خود کو بے جا حیرت میں ڈوبنے نہ دیں۔ ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کو سنبھال کررکھیں۔

ہاں ! تو آپ اسی طرح دوسرے دن بھی 25 نئی اشیاء کی فہرست اپنی آنکھوں یا تصور سے تلاش کریں اور دل کی گہرائیوں سے رب کی ثنا کریں۔ تیسرے دن، چوتھے دن یہی کام پہلے پہلے کرلیں یعنی صبح کی اوّلین گھڑیوں میں۔ کبھی بدن کے جوڑ جوڑ کا شکر، کبھی ذہن کے کمال کا، کبھی اپنے علم اور تجربات پر شکر، کبھی اپنے ہمسائے، دوست، خاندان اور اپنے گھر والوں کی محبت کا شکر۔ اسی طرح، روحانی محاذ، جسمانی صلاحیت، علمی مہمات، جذبا ت کی دنیا اور سماجی خیر‘ جو کچھ آپ نے کیا‘ اُس پر جی کھول کر شکر ادا کریں۔ شکر گزاری کا سلسلہ کم از کم تیس دن تک چلتا رہے گا۔ آپ میں اچھائیوں کو تلاش کرنے کی عادت پرورش پانے لگے گی۔ زندگی سے جڑے ہر رُخ کو آپ اپنی آنکھوں کے نور سے دیکھیں گے۔ ہر پہلو میں صرف خوش بو تلاش کریں گے۔ کسی بات کی برائی کی طرف آپ کی نگاہ نہیں ٹھہرے گی۔ آپ کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ کب آپ کی اس مشق نے آپ کے وجود کو سراپا شکر بنا دیا۔ ممکن ہے کہ شروع شروع میں کچھ دقت بھی ہو لیکن دھیرے دھیرے ذہن کا کہرا چھٹے گا۔ آپ کو احسا س ہوگا کہ کیسے آپ اب تک کتنی اچھی باتوں کو چھوڑے ہوئے تھے‘ کتنی خوشیوں پر پائوں رکھ کر روندتے ہوئے گزرتے تھے۔

اس عادت کی برکت سے ہمارا ذہن کشاں کشاں ہر بھولی ہوئی نعمت کے نین نقش سنوار کر شکر ادا کرے گا۔ ماحول میں جاگتی ہوئی قدروں کا وقار دل میں بڑھے گا۔ چند دنوں کی اس کوشش کے بعد شکر گزاری کے سچے و روشن تصور سے ذہن میں حرف گونج اٹھیں گے، معنی ساتھ چلیں گے‘ خیالوں کی دنیا روشن ہوجائے گی، ناشکری سے پیدا شدہ ذہنی کہرام تھم جائے گا‘ بحران کی اذیت سے آپ نجات پالیں گے۔ احساسِ شکر میں ڈھلے الفاظ جب آپ کی روح پر دستک دیں گے تب آپ کی وادیٔ جاں میں شکر کی برکھا ٹوٹ کر برسے گی۔ پیاسی رو ح سیراب ہوجائے گی۔ بجھے ہوئے دل کا اعتبار جاگ اٹھے گا۔ اس وارفتگی اور شوق سے شکر کریں کہ امکانات کی دنیا آپ کی دنیا میں سمٹ آئے۔ ہر چھوٹی بھلائی کو سراہیں‘ ہر گم صم سچائی کو مان دیں، ہر سہمی ہوئی بات کو سمان دیں۔ جب دن ڈھلے تو یوں لگے کہ صبح نے سوغات دی اور نعمتوں کے جھرمٹ میں ایک نئے دن نے دستک دی پھر خیر سمیٹتے ہوئے وہ دن بھی تمام کریں۔ پھردیکھنا کہ کیسے شکر کے موضوعات آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے۔ سانس کی نغمگی پر شکر، دل کی دھڑکن پر شکر‘ ہر ہر قدم پر شکوے کہ جگہ شکرلے لے گا۔

کبھی کبھی آپ کسی شک کے نرغے میں بھی آسکتے ہیں کہ ’’اتنی چھوٹی سے تبدیلی کہ کمرے میں بکھری چیزوں کا شکر گزاری کی بات سے پوری شخصیت میں کیسے تبدیلی لاسکتی ہے؟‘‘ یہ سوال ستائے گا۔ پھر آنے والا ہر دن خود ہی اس سوال کا جواب دیتا جائے گا۔جیسے جیسے آپ پاس پڑی ہوئی چیزوں کا اعتراف کرنے لگیں گے ویسے ویسے جگ جیتنے کا ہنر آجائے گا۔ دنیا آپ کے حلقۂ نور میں پناہ لے گی، جب جب آپ چھوٹی چھوٹی نعمتوں کے معیار کو وقار دیں گے توبے جان چیزوں میں زندگی بڑھانے والی تاثیر پیدا ہوتی جائے گی۔ شکر کا ایک ننھا سا بیج پوری وادیٔ جاں میں ایک کھیت کی مانند لہلہا اٹھے گا۔ چھوٹی موٹی باتوں سے آپ کے ’’خیالستان‘‘ کی جادو نگری آباد ہوجائے گی۔ حسنِ تصور کی اجلی پریوں کے جُھنڈ آپ کا طواف کریں گے۔ جب نگاہیں نعمت کے ریگزاروں پر تھمے گی تو نعمت کی وادیاں، ترائیاں اور پہاڑ بھی ابھر کر سامنے آجائیں گے۔

آپ جانتے ہیں کہ ناشکری کیا ہے! یہ جیسے بیمار کا بد مزا منہ۔ جِسے مٹھاس بھی کڑوی لگے۔جیسے بہرے کے کان جو زمزموں اور نغموں پر بھی جھوم نہ سکیں۔ جیسے اندھے کے آگے بچھائے گئے حسنِ فطرت کے حسین مناظر۔ اسے تو ہر چیز سیاہ، گھور اندھیرا لگتی ہے۔ ناشکرے شخص کی محرومی بھی ایسی ہے کہ جیسے گونگا گڑ کھائے اور ذائقہ نہ بتا پائے۔ ہائے !ہم سے شکر گزاری کیا چھوٹی ہم سے جینے کا ہنر ہی چھوٹ گیا۔ جگ جیتنے کے گُر گم ہوگئے ورنہ ہم ہر مسرت پر تالیوں اور دستک کے دف بجا کر اپنی روح کو رقصاں رکھ سکتے ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے کہ قدر شناسی، تحسین اور شکرگزاری کے سبب ہم کسی بات پر کبھی واہ اور کبھی تالیاں بجاتے ہیں۔ تب ہماری اونگتی ہتھیلوں میں جاگتے ہوئے ہارمونس تالیاں بجانے سے ہمارے بدن میں دھمال ڈالتے ہیں، لیکن برا ہو اس غفلت کا کہ ناشکری نے ہمیں ایسے ویران رکھا ہے جیسے قبرستان کے کسی اجڑی قبر کا کتبہ۔ جہاں قبر پر جڑی تختی پر بڑے بڑے نام، ساتھ میں ڈگریوں کے باجود مکمل مردہ۔ پتھرائے ہوئے لوگ۔ زندگی سے سب رابطے توڑے ہوئے۔

آئیے زندگی سے اور زندگی دینے والے رب سے جڑجائیں۔ سما ج آپ کو رب کے سائے میں پڑا ملے گا۔ شکر کے رویے کو پسند کرنے والے رب نے ہم سے سوغات نعمت کے وعدوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔‘‘

ویڈیو: شکر گزاری کا منفرد واقعہ

یہ بھی پڑھیں!

اللہ کے شکر گزار بنئے!

شکر گزاری رشتوں کو مضبوط کرتی ہے!

ذکر، شکر اور حسن عبادت

شیئر کیجیے
Default image
نعیم جاوید

Leave a Reply