مشورہ حاضر ہے

گرمی سے پریشانی

مجھے گرمی کا موسم اچھا نہیں لگتا۔ کچھ کھایا پیا نہیں جاتا، بھوک نہیں لگتی اور آم کھاؤں تو دانے نکل آتے ہیں۔ آئے دن گھر والوں کو بھی قے کی شکایت رہتی ہے یا اسہال کی۔ کوئی دوا ایسی بھی ہے جس سے گرمی نہ لگے، بھوک زیادہ ہو اور کھانا ہضم ہوجائے؟ (عابدہ پروین)

 عابدہ بی بی! سارے موسم اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں۔ سردی، گرمی، برسات اور خزاں کے اپنے اپنے فائدے ہیں۔ جولائی، اگست میں بارشیں ہوتی ہیں، اس موسم میں خصوصاً پانی ابال کر پیجیے، کئی بیماریوں سے بچ جائیں گی۔ آم اچھی طرح دھو کر اور ٹھنڈے کرکے کھائیے۔ بعد میں تھوڑی سی جامنیں کھالیجیے، یوں دانے نہیں نکلیں گے۔ جامنیں نہ ہوں تو پانی میں تھوڑا سا دودھ ملاکر لسی پی لیجیے۔

کھانے کے ساتھ پیاز کی سلاد بنائیے۔ ایک بڑی پیاز کاٹیے اور نمک لگا کر دھولیجیے۔ پھر چند کٹی ہری مرچیں اور پودینے کے پتے ملائیے۔ اب سلاد پر ایک دو لیموؤں کا رس نچوڑئیے اور نمک چھڑک کر کھائیے۔ بھوک لگے گی اور کھانا بھی ہضم ہوجائے گا۔ نیز اسہال نہیں ہوں گے۔

ایک ٹوٹکا یہ ہے کہ پھلوں کے سرکے میں پیاز اور ادرک کاٹ کر ڈالیے۔ پودینے کے پتے، لہسن کے دو چار ٹکڑے اور تھوڑی سی کشمش ملاکر کھائیے۔ کھانے کا مزہ دوبالا ہوجائے گا۔ پودینہ، پیاز، لیموں اور سرکہ موسمی تکالیف سے دور رکھتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں اچار، چٹنی اور سلاد ضرور کھائیے۔ بلند فشارِ خون والے البتہ نمک کم سے کم استعمال کریں۔ وہ جب بھی پودینے پیاز کی سلاد کھائیں، نمک نہ ڈالیں۔

تلّی بڑھ گئی

مجھے پچھلے سال ملیریا نے نشانہ بنایا تھا۔ اب میری تلّی بڑھ گئی ہے اور پسلیوں کے نیچے ورم آگیا ہے۔ دبانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ پیٹ ہر وقت بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ زبردستی کھانا کھاتا ہوں، بھوک نہیں لگتی۔ کمزوری بھی ہے، زیادہ کام نہیں کرسکتا۔ میں بی اے کی تیاری کررہا ہوں۔ ڈاکٹر کی دوا لیتا ہوں مگر بھوک ندارد۔ کوئی شافی علاج بتائیے۔(عمران ندیم)* تلی بڑھ جائے تو ایسی تکالیف چمٹ جاتی ہیں۔ آپ ہمدرد دوا خانہ جاکر دوا تجویز کرائیے، ان شاء اللہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ ایک کچا پپیتا خریدیے، دھوکر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لیجیے۔ بیچ نکال دیجیے۔ یہ قتلے پھلوں کے سر کے میں ڈال دیجیے۔ صبح تقریباً 6 گرام کا ایک ٹکڑا ہلکا سا نمک چھڑک کر کھا لیں۔ کچھ لوگ پپیتا اچھی طرح کدوکش کرلیتے ہیں۔ ایسی صورت میں پھر تھوڑا سا نمک اور کالی مرچ چھڑک کر کھائیے۔

انڈے کی بدبو

میں شیشے کے پیالے میں انڈے پھینٹ کر بچوں کے لیے آملیٹ بناتی ہوں، مگر بعد میں دھونے کے بعد بھی پیالے سے بو آتی ہے، حتیٰ کے دوسرے برتنوں میں بھی چلی جاتی ہے، یہ بو کیسے دور ہوگی؟ لہسن، پیاز کھانے پر منہ سے بدبو آنے لگتی ہے، اس کے متعلق بھی کچھ بتائیے۔ (راحیلہ ناز)*ناز بی بی! پہلے میں بھی انڈوں کی بدبو سے پریشان رہتی تھی۔ پھر میں چائے کی پتی پھینکنے کے بجائے پیالے میں ڈالنے لگی۔ پہلے پتی سے پیالہ دھویا جائے اور پھر صابن سے تو بدبو نہیں آتی۔ پھر بھی شبہ ہو، تو پیالے میں تھوڑا سا خشک آٹا چھڑک دیں۔ پانچ منٹ بعد پیالہ دھولیں، بدبو بالکل ختم ہوجائے گی۔

پیاز کی بدبو دور کرنے کا ٹوٹکا یہ ہے: پیاز کاٹ کر بغیر دھوئے اس پر ایک چمچہ نمک چھڑک دیں۔ تھوڑی دیر بعد پیاز مل کر دھولیں۔ اب آپ اس میں سلاد بھی ملا سکتی ہیں۔ نمک کی وجہ سے ساری بدبو دور ہوجائے گی۔ پیاز زیادہ کاٹنے ہوں، تو ٹھنڈے یخ پانی میں چھیل کر ڈال دیں۔ پھر اس میں ہی پیاز کاٹیں، آنکھوں میں جلن نہیں ہوگی۔ پیاز کاٹنے کے بعد ایک چمچہ سرکہ پانی میں ملا کر ہاتھوں پر مل لیں، بو غائب ہوجائے گی۔ لہسن کی چٹنی بھون کر رکھ لی جائے تو بدبو نہیں آتی۔ اسی طرح لہسن کھانے کے بعد اکثر ادرک کا چھوٹا سا ٹکڑا چبا لیا جائے، تو بو نہیں رہتی۔ لہسن آپ اچار یا چٹنی میں استعمال کرسکتی ہیں۔

بلند فشار خون میں کیا کھائیں؟

چند ہفتوں سے میرا فشار خون بڑھ گیا ہے۔ مگر میں دوا نہیں کھانا چاہتا۔ مجھے غذائی علاج بتائیے۔ میری عمر پینتیس سال ہے۔ شادی شدہ ہوں۔ شاید کام کی ز یادتی اعصاب پر اثر انداز ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تکلیف نہیں۔ (مبشر حسین)* آپ نے صحیح تجزیہ کیا، کام کی زیادتی سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ روزانہ کے معمولات میں تبدیلی لائیے۔ صبح کی نماز مسجد جاکر پڑھیے اور واپسی میں پندرہ منٹ چہل قدمی کیجیے۔ ناشتے میں جو کا دلیہ دودھ میں پکائیے اور اس میں تھوڑا سا شہد یا چینی ملا کر کھائیے۔ یہ دلیہ آپ کو تمام دن چاق و چوبند رکھے گا۔

رات کو تین یا پانچ دانے خشک آلو بخارے ایک گلاس پانی میں بھگوئیے۔ صبح ذرا سی چینی ملا کر یہ شربت پی لیجیے۔ بلند فشار خون کے مریض اگر ان دونوں ٹوٹکوں پر باقاعدگی سے عمل کریں، تو کافی حد تک مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔ کچھ لوگ نیم کی کونپلیں سکھا کر یا ویسے ہی اس میں کالی مرچ ملاتے اور پھر چنے کے برابر گولیاں بنالیتے ہیں۔ صبح ایک گولی کھانے سے ان کی طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔ میں نے سب سے زیادہ فائدہ گھیے میں دیکھا ہے۔ اس مرض میں روزانہ گھیا استعمال کیا جائے تو مفید ثابت ہوتا ہے۔

پیاز اور کالی مرچ کے ساتھ گھیے کا رائتہ بنائیے، یہ دوا اور غذا دونوں کا کام کرتا ہے۔ ٹنڈے کا سالن یا بھجیا بھی بلند فشارِ خون دور کرتا ہے۔ چولائی یا خرمے کا ساگ مفید ہے۔ جامن کا شربت بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ سیاہ جامنیں دھوئیں اور پھر انھیں تھوڑے سے پانی میں ڈال کر رس نکال لیں۔ تین پاؤ رس میں تقریباً ایک کلو چینی ملا کر شربت بنالیں۔ اسی طرح تربوز کا رس نکالیے، اس میں لیموں نچوڑ کر پینے سے جسم کی حدت دور ہوتی ہے۔ نمک کا استعمال کم کیجیے اوربڑا گوشت نہ کھائیے۔ بکرے کے گوشت کی بھی ایک دو بوٹی لیں۔ گوشت میں گھیا یا ٹنڈے ڈال کر پکائیں۔ خرفے کا ساگ بھی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آپ اسے گوشت میں ڈال کر پکوا سکتے ہیں۔ یوں تھوڑی سی احتیاط آپ کا بلند فشارِ خون قابو میں رکھے گی۔

دستانے پھٹ جاتے ہیں

میرے ہاتھوں میں الرجی ہے، اس لیے برتن نہیں دھو سکتی۔ دستانے پہن کر برتن، کپڑے وغیرہ دھوتی ہوں۔ دس پندرہ دن بعد ربڑ کے دستانے پھٹ جاتے ہیں۔ میں بار بار دستانے نہیں خرید سکتی، کوئی ایسا ٹوٹکا ہے جس سے دستانے زیادہ دن چل جائیں۔ (سعیدہ شکور)* جب آپ برتن دھولیں، تو دستانے اتار کر انہیں کپڑے یا ٹشو پیپر سے خشک کرلیا کریں۔ کوشش کیجیے کہ دستانوں کے اندر پانی نہ جائے۔ احتیاط سے کام کریں گی تو پانی نہیں جائے گا۔ دستانے لٹکا کر رکھئیے اور ان کے اندر تھوڑا سا ٹیلکم پاؤڈر چھڑک کر خوب ہلائیے تاکہ سفوف انگلیوں تک چلا جائے۔ اب انہیں لٹکا دیں۔ دوبارہ استعمال کریں گی تو پاؤڈر کی وجہ سے دستانے خشک رہیں گے اور چپکیں گے نہیں۔ یوں آپ انہیں عرصہ دراز تک استعمال کرسکتی ہیں۔

سر کے زخموں کا علاج

گزشتہ ماہ ایک سولہ سالہ بچی کا فون آیا۔ اس کے سر میں بہت جوئیں تھیں۔ کھجا کھجا کر گہرے زخم بن چکے تھے۔ حالت اتنی خراب تھی کہ کنگھی کرنا مشکل تھا۔ اپنی ماں کے ساتھ کسی گھر میں کام کرتی تھی۔ اس نے وہاں اردو ڈائجسٹ دیکھ کر دفتر رابطہ کیا اور میرا فون نمبر پوچھا۔ جب مجھ سے بات ہوئی، تو بہت رو رہی تھی۔ زخموں کی وجہ سے رات کو سوتے ہوئے بھی بہت تکلیف ہوتی تھی۔ ’’کوئی سستی دوا بتائیے، میری ماں پیسے نہیں دے سکتی۔‘‘

میں نے کہا تم پنساری سے دس روپے کی نیم کی نمولیاں خرید لاؤ۔ انہیں اچھی طرح پیس کر رکھ لو۔ تھوڑی سی پسی نمولیوں میں پانی ملا کر گاڑھا لیپ بناؤ اور رات کو بالوں میں اچھی طرح لگا کر سوجاؤ اور صبح سر دھولو۔ دس دن نمبولیاں لگا کر مجھے فون کرکے بتانا کہ کیا حال ہے؟

اس لڑکی نے مجھے پندرہ دن بعد فون کیا، کہنے لگی: ’’میرے سر سے جوئیں غائب ہوگئی ہیں اور زخم بھی۔ نمبولیوں نے میری ساری تکلیف دور کردی۔ سب لوگ حیران ہیں۔ اب میں تیل لگا کر سر میں کنگھی کرسکتی ہوں۔‘‘

نیم کی نمبولی دیکھنے میں معمولی چیز ہے مگر اس کے فوائد بہت ہیں۔ پکی ہوئی نمبولیاں کھائی جائیں تو خون صاف کرتی ہیں۔

دودھ پورا نہیں ہوتا

میرا بچہ دو ماہ کا ہے۔ میں بہت کھاتی پیتی ہوں مگر دودھ پورا نہیں ہوتا اور بچہ روتا رہتا ہے۔ اوپری دودھ بالکل نہیں پیتا، میں سخت پریشان ہوں۔ کیا کوئی ایسی دوا ہے جس سے میرا دودھ وافر ہوجائے اور بچہ پیٹ بھر کے پی لے؟ میں ویسے بھی اوپری دودھ پر بچہ پالنا نہیں چاہتی۔ (ام کاشان)*اس مرض کے لیے بکری کے پھیپھڑے مفید ہیں۔ میری ایک ملنے والی بچہ ہونے کے بعد بیمار پڑگئی۔ دو ہفتے ہسپتال میں رہی۔ اس دوران دودھ بالکل خشک ہوگیا۔ تب حکیم امیر احمد نے انہیں روزانہ پھیپھڑے کے کباب کھانے کو کہا۔ ایک ہفتے بعد دودھ بننے لگا۔ آپ توے پر پھیپھڑے کے ٹکڑے رکھ دیجیے، پھر ہلکا سا گھی یا تیل لگائیے اورڈھانک دیجیے۔ پانی خشک ہوجائے تو الٹ پلٹ کر نمک اور کالی مرچ چھڑک دیں۔ صبح شام یہ ٹکڑے کھانے سے دودھ اتر آتا ہے۔

بازار سے بنولے منگائیے اور انہیں کوٹ کر گری نکالیے۔ ایک چمچ گری ایک پاؤ دودھ میں کھیر کی طرح پکائیے۔

پنساری سے ستاور اور سفید زیرہ 25-25گرام خریدئیے اور گرائنڈر میں پیس کر دگنی چینی ملائیں۔ ایک چمچہ صبح شام دودھ کے ساتھ لیں۔

بچے کو دودھ پلانے سے پہلے پانی کا ایک گلاس ضرور پی لیجیے۔ ان باتوں پر عمل کریں گی تو انشاءاللہ دودھ بہت اترے گا اور بچہ بھوکا نہیں رہے گا۔

کلونجی کی چائے

میرے دوست نے مجھے کلونجی کی چائے کے متعلق بتایا کہ بہت مفید ہوتی ہے۔ یہ چائے کہاں سے ملتی اور کیسے بنتی ہے؟ اس کے فوائد بتائیے۔ دوسری بات یہ کہ میری والدہ اعصابی درد اور پٹھوں کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ کیا وہ بھی اسے پی سکتی ہیں، اس کا نقصان تو نہیں؟ (ابوالخیر)* کلونجی کئی امراض میں مفید ہے۔ اس کی چائے نہیں ملتی، خود بنانی پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ کلونجی اور پیاز کے بیج ملتے جلتے ہیں۔ کلونجی کا دانہ نیچے سے موٹا، اوپر سے پتلا اور تین کونوں والا ہوتا ہے۔ پیاز کا بیج مٹیالا اور ہموار نظر آتا ہے۔ بڑھاپے میں اعصابی اور دماغی کمزوری ہوجائے، تو کلونجی کا استعمال مفید ہے۔ بلغم خارج نہ ہوتا ہو، تو اس میں کلونجی کی چائے مفید ہے۔

کلونجی صاف کرکے اس میں سے مٹی، تنکے وغیرہ نکال دیں۔ پھر اسے باریک پیس کر ڈبے میں رکھئے۔ ایک چمچ تین پیالی پانی میں ڈال کر ابالیں۔ جب پانی ابلنے لگے تو ڈھانک کر دم دیں۔ دو منٹ بعد چھان کر پی لیں۔ صبح آپ اسے ’بیڈ ٹی‘ کی طرح پی سکتے ہیں۔ شام کو بھی چائے بنانی ہو، تو ایک چمچی ایک پیالی میں ڈال کر پکائیں اور دم دے کر پی لیجیے۔

یہ موٹاپے میں مفید ہے اور معدے کے امراض میں بھی۔ کلونجی کا سفوف صحت کے لیے اچھا ہے۔ جو بچے کند ذہن ہوں، انہیں صبح نہار منہ کلونجی کے سات دانے کھلائیے، حافظہ بہتر ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں!

مشورہ حاضر ہے!

مشورہ حاضر ہے!

مشورہ حاضر ہے!

شیئر کیجیے
Default image
صغیرہ بانو شیریں

Leave a Reply