بزرگ

بزرگ شہریوں کی تنہائی مغرب کاالمیہ

گزشتہ دنوں ایک صاحب کے گھر دعوت پر جانے کا اتفاق ہوا جو کہ چار دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پڑوس میں ایک بوڑھا ڈاکٹر کنسلٹنٹ تنہا ایک بڑے مکان میں زندگی گزار رہا ہے۔ بیگم کو فالج ہوا تو بیچارے ڈاکٹر نے اس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تاکہ بیگم کی مکمل دیکھ بھال خود کرسکے۔ دو بیٹیاں تھیں، ایک عرصہ ہائے دراز سے لاپتا ہے، دوسری کبھی کبھی آتی ہے لیکن اس کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں۔ بیگم ایک عرصے تک بیمار رہنے کے بعد داغِ مفارقت دے گئی۔ اب وہ ہے اور اس کی تنہائی۔

یہ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا، کیونکہ یہ ڈاکٹر کوئی گورا انگریز نہیں بلکہ ہندوستانی نژاد برطانوی شہری ہے۔ اس کے بعد سے ہر روز اپنے فلیٹ سے متصل اپارٹمنٹ کے ایک مکمل بلاک کا، جو کہ ہمارے احاطہ میں ہی موجود ہے، روز مشاہدہ کرتا ہوں، کیونکہ یہ فلیٹس بھی عمررسیدہ افراد کو حکومت کی جانب سے دیئے گئے ہیں۔ صبح سے ایک دو بوڑھے بالکونی میں کرسیاں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں، اور یہی ان کی زندگی کی شاید سب سے بڑی تفریح ہے۔ آئے روز ایمبولینس دروازے پر آتی ہے اور کسی نہ کسی کو اسپتال لے جاتی ہے۔ اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا خود کہنا ہے کہ اسپتال میں آنے والوں کی زیادہ تر عمر 70 سال سے بھی زائد ہے اور وہ صحت یاب یا Medically fit for discharge ہوجائیں تو بھی وہ اپنے گھروں پر جانے پر آمادہ نہیں ہوتے، کیونکہ وہاں پر ان کی تنہائی ان کو مارے ڈالتی ہے۔ گوکہ حکومت کی جانب سے کچھ افراد ان کے لیے باقاعدہ ملازمت پر رکھے جاتے ہیں، لیکن وہ ان سے بھی نالاں اور شاکی ہیں۔ وجہ وہی احساسِ عدم تحفظ یا احساسِ اجنبیت ہے۔ ان کے سگے بچے بھی اب ان کو رکھنے کو تیار نہیں، وہ جو سب کو مسکرا مسکرا کر Thank you کہتے نہیں تھکتے، اپنے سگے رشتوں کے لیے اتنے سنگ دل بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنے والدین کو اپنے ساتھ رکھنے پر آمادہ نہ ہوں۔۔۔! شاید یہ بات کوئی بھی قبول نہ کرے، لیکن آپ خود آکر دیکھیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ مغربی تہذیب دراصل ایک دکھاوا ہے کہ جہاں اصل اہمیت صرف مادے اور نمود و نمائش کی ہے۔ اسپتال میں ہر روز ایک نئی کہانی انسان کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔

ایک عمر رسیدہ خاتون صرف اس لیے اسپتال سے جانے پر آمادہ نہیں ہیں کہ یہاں پر ان کی ملاقات روز کئی انسانوں سے ہوجاتی ہے۔ ورنہ وہ ہیں اور ان کی تنہائی، جو کہ مارے ڈالتی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ایک عمر رسیدہ مریض کا معائنہ کرنے آئے تو نرس سے کہا کہ ان کو کروٹ دلوائیں، اور ڈاکٹر نے خود بھی بزرگ کا ہاتھ تھام لیا تو وہ بچوں کی طرح کہنے لگا کہPlease Hold Me Tightly وہ انسانی ہاتھ کا لمس محسوس کرنا چاہتا تھا جس سے وہ شاید عرصے سے محروم ہے۔

برطانیہ میں اس وقت بے تحاشا ملازمتیں Care Workers کی ہیں جن کا کام نرسنگ ہوم میں کچھ وقت ان بوڑھوں کے ساتھ گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ بوڑھے جوکہ بہت کچھ کرنے کے قابل ہیں لہٰذا وہ ابھی اپنے گھروں میں ہیں، ان کے پاس جاکر ان سے باتیں کرنا اور ان کا دل بہلانا ہے۔ مغرب اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود انسان کے انسان سے انمول رشتے کا کوئی متبادل نہیں بناسکا۔ وہ مغرب جو انسانی حقوق، حتیٰ کہ جانوروں کے حقوق کا بھی نعرہ لگاتا ہے اپنے بوڑھوں اور اپنے سگوں کو بھی حقوق نہیں دے سکا۔ یہ ہے مغرب کا دوسرا چہرہ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلند تر انسانی اخلاقیات کے مرتبے پر فائز معاشروں میں کوئی ایک فرد بھی کسی نرسنگ ہوم المعروف ’’اولڈ ایج ہوم‘‘ میں نہ ہوتا۔ لیکن یہاں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بحران سنگین تر ہوتا جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ مادیت اور انسانی عمر کی حد میں اضافہ ہے۔ جہاں انسان نے میڈیکل سائنس کی ترقی کی بنیاد پر اوسط عمر میں اضافہ کرلیا ہے، وہیں بڑھتی ہوئی مادیت نے اپنے ساتھ کسی کو نہ رکھنے پر بھی انسانوں کو آمادہ کرلیا ہے۔

اس بحران کا حل صرف اور صرف اسلام کے پاس ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس کو حل کرنے میں تاحال ناکام ہے۔ آج بھی آپ کو یہ مثال اسلامی معاشروں میں نظر آتی ہے کہ اپنے والدین کے لیے غریب سے غریب آدمی بھی اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔ اسلام نے والدین کو اولاد پر جو حقوق دیئے ہیں اس کا اندازہ دو احادیث سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے وہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اولاد کا جو کچھ بھی ہے اس سب پر باپ کا مکمل حق ہے۔

مغرب کی تہذیب خود ڈھلوان پر ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ قانون کا اطلاق رکھنے والے مغربی معاشروں میں اخلاقیات کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ بزرگوں کے حقوق اور ان کی ذمہ داری قبول نہ کرنا اس کی صرف ایک مثال ہے۔ مغرب یہ سمجھتا ہے کہ انسان کی ساری پیاس سرمایہ بجھا سکتا ہے، لہٰذا یہ معاشرے حکومتی سطح پر بزرگوں کے لیے ہر سال خرچہ تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کی روحانی، جذباتی تسکین اور پیاس بجھانے کے لیے کچھ نہیں کر پاتے۔ یہی بحران ہے جوکہ اس تہذیب کو لے ڈوبے گا۔

یہ مغرب کی صورتحال ہے جو بہ تدریج مشرق کا بھی رخ کررہی ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں بھی اس قسم کے واقعات دیکھنے کو ملنے لگے ہیں۔ ایسے میں اپنی تہذیبی اقدار و روایات اور دینی اخلاقیات کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے گھر اور خاندانی نظام کو بہ طور مثال پیش کرسکیں۔

یہ بھی دیکھیں!

بزرگوں کے نفسیاتی مسائل

بزرگوں کا احترام

گھر کے بزرگوں کا خیال کیسے رکھیں؟

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر اسامہ شفیق

Leave a Reply