غزل

عکس اس کا پسِ صد پردہ نہاں ہوتا ہے

خانۂ دل میں فقط جلوہ کناں ہوتا ہے

کوئی کچھ بھی کہے در پردہ کوئی اور بھی ہے

اصل کردار کہانی میں کہاں ہوتا ہے

جو نظر آئے حقیقت ہو ضروری تو نہیں

بعض اوقات حقیقت کا گماں ہوتا ہے

اپنے دل کا ہے یہ عالم کہ دھڑکنے کےلیے

دم بہ دم منتظرِ غمزۂ جاں ہوتا ہے

کیا پتہ کس کی جدائی میں دیا بھی سرور

رات بھر ساتھ مرے گریہ کناں ہوتا ہے

مزید غزلیں پڑھیں!

غزل

غزل

شیئر کیجیے
Default image
جمیل سرور، نئی دہلی

Leave a Reply