2

عمان میں سفیر نبوت کا اعلانِ حق

۹؍ہجری تک صرف ’عمان‘ کا علاقہ عرب کی واحد ریاست تھی جہاں اسلام کی روشنی نہیں پہنچ پائی۔ وہاں جلندی خاندان مسندِ حکومت پر فائز تھا۔ تب وہاں جیفر بن جلندی کی حکمرانی تھی جو حکومت کے انتظام و انصرام میں اپنے مدبر اور حلیم و فہیم، بھائی عبدبن جلندی کی رائے کو بڑی اہمیت دیتا تھا۔ دونوں بھائیوں میں بے پناہ محبت اور ہم آہنگی تھی۔

حکمرانِ عمان تک اسلام کی پاکیزہ دعوت پہنچانے کے لیے صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے بعد حضور اکرمؐ نے حضرت عمروؓ بن عاص کا انتخاب فرمایا۔ پھر تاجدارِ عمان کے نام دستاویز لکھی گئی جسے حضرت ابی بن کعبؓ نے تحریر فرمایا۔ اس پر مہر نبویؐ ثبت کی گئی اور حضرت عمروؓ بن عاص وہ مقدس فرمان لیے عمان روانہ ہوگئے۔

طویل سفر کے بعد منزل پر پہنچے تو سوچ میں پڑگئے کہ بادشاہ تک رسائی کیسےہو؟ آخر ایک مقامی باشندے کے مشورے پر بادشاہ کے بھائی، عبد بن جلندی سے ملے اور تعارف کے بعد اسے اپنے مقصد سے آگاہ کیا۔ دونوں کے مابین جو گفتگو ہوئی، وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ سب سے پہلے حضرت عمروؓ بن عاص نے تعارف کروایا’’میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، تمہاری اور تمہارے بھائی کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘

عبد بن جلندی نے کہا : ’’پہلے بھائی سے ملیے، وہ مجھ سے بڑے اور وہی بادشاہ ہیں۔ البتہ ملاقات کا انتظام میں کردوں گا۔‘‘

صحابی رسولؐ مطمئن ہوگئے۔ پھر عبد نے سوال کیا ’’لیکن یہ تو بتائیے کہ وہ مقصد، اصول اور احکام کیا ہیں، جن کی طرف آپ لوگ دعوت دیتے ہیں۔‘‘

حضرت عمروؓ بن عاص نے جواباً فرمایا: ’’سب سے پہلے خدا کی توحید یعنی وہ ایک ہے اور اس کا کوئی ہم سراور شریک نہیں۔ اس کے سوا ہر چیز کے سامنے جھکنا اور پوجا کرنا ناجائز ہے۔ دوسرے حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

عبد نے دوسرا سوال کیا جو صحابی رسولؐ کی ذات سے متعلق تھا۔ اس نے دریافت کیا کہ چونکہ وہ اپنے قبیلے کے سردار کے بیٹے ہیں، اسی لیے بتائیں کہ اس ضمن میں ان کے والد کی کیا رائے ہے؟

عمروؓ بن عاص نے افسردہ لہجے میں جواب دیا:  ’’میرا باپ مرچکا ہے۔ افسوس کہ وہ کافر ہی رہا۔ کاش وہ اسلام قبول کرلیتا۔ میں خود اپنے باپ کے کافرانہ اصولوں پر چل رہا تھا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی۔‘‘

عبد نے پوچھا: ’’تم کب ان کے (رسول اللہؐ کے) حلقے میں داخل ہوئے؟‘‘

انھوںنے جواب دیا: ’’تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے۔‘‘

’’تم نے اسلام کیوں قبول کیا؟‘‘

حضرت عمروؓ نے بتایا: ’’مجھے اللہ کے نبی کی تعلیمات حق پر لگیں لہٰذا قبول کرلیں۔ بعد ازاں کفارِ مکہ کے ستانے پر حبشہ ہجرت کرگیا۔ تمہیں شاید معلوم نہ ہوکہ نجاشی بھی مسلمان ہو چکا ہے۔‘‘

یہ سن کر عبدحیران ہوا، پوچھا: ’’نجاشی کی قوم نے قبولِ اسلام کے بعد اس سے کیا معاملہ کیا؟‘‘

صحابی رسول نے بتایا: ’’نہ صرف اسے بدستور بادشاہ رکھا بلکہ بیشتر لوگ مسلمان ہوگئے۔‘‘

عبد نے پھر پوچھا کہ کیا چھوٹے قبائل کے سرداروں نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے؟ حضرت عمروؓ نے اثبات میں جواب دیا۔ اس پر وہ کہنے لگا : ’’تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘

انھوں نے فرمایا: ’’جھوٹ سے زیادہ بری خصلت اور کوئی نہیں۔ جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت ہے۔ ہمارے مذہب میں جھوٹ بولنا شدیدگناہ ہے۔‘‘

عبد یہ سن کر خاموش ہوگیا، تھوڑی دیر بعد بولا: ’’کیا نجاشی کے اسلام کے خبر ہرقل کو نہیں ہوئی؟‘‘

صحابی بولے: ’’اسے خبر ہے۔ نجاشی ہرقل کو جو خراج بھیجتا تھا، اس نے وہ بند کردیا اور کہا کہ خدا کی قسم! اب وہ ہرقل کو ایک درہم بھی بطور خراج نہیں دے گا۔ یہ سن کر ہرقل کے بھائی نپاق نے اپنے بھائی سے کہا کہ کیا تم اس غلام (نجاشی) کو سزا نہیں دو گے، جو خراج نہیں دے رہا اور اس نے مذہب بھی بدل لیا ہے۔ ہرقل نے جواب دیا کہ یہ دل کے شوق کا معاملہ ہے، ہر شخص نیا مذہب قبول کرنے کا مجاز ہے۔ اگر اپنے ملک کا خیال نہ ہوتا، تو وہ بھی وہی کرتا جو نجاشی نے کیا ہے۔‘‘

یہ سن کر عبد بن جلندی حیرت میں ڈوب گیا۔ وہ کہنے لگا: ’’ہیں، ہیں، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘

حضرت عمروؓ بن عاص نے قسم کھا کر بتایا کہ وہ ایک ایک لفظ صحیح کہہ رہے ہیں۔ یہ سن کر عبد نے دریافت کیا کہ حضرت محمدؐ کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟

انھوںنے پھر بنیادی اسلامی احکامات کا خلاصہ بیان کیا: ’’خدا کا حکم ماننا گناہوں سے بچتے رہنا، احسان اور صلۂ رحمی پر عمل پیرا ہونا، ظلم و اکراہ اور جارحانہ اقدام کی مخالفت، زنا، شراب اور بتوں کی پوجا کی ممانعت۔‘‘

عبد نے ان احکامات کو نہایت اعلیٰ قرار دیا لیکن پھر بڑے افسوس کے ساتھ اسلامی سفیر کو بتایا: ’’اگر میرا بھائی ساتھ دیتا، تو میں اسی وقت آنحضرت ؐ کی خدمت میں پہنچ کر مشرف بہ اسلام ہوجاتا، لیکن میرے بھائی کو اقتدار سے محبت ہے۔ اس کا مسلمان ہونا تقریباً ناممکن ہے۔‘‘

یہ سن کر عمروؓ بن عاص گویا ہوئے: ’’یہ ممکن ہے کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں، تو رسول اللہ ﷺ انہی کو عمان کا امیر بنادیں تاکہ وہ قوم کے مالداروں سے محصول لیں اور غریب غربا میں تقسیم کردیں۔‘‘

یہ سن کر عبد بن جلندی فو راً بول اٹھا: ’’یہ تو اخلاق و کردار کی بہت ہی اعلیٰ مثال ہے۔‘‘

اس کے بعد سفیر نبوت عبد کے مہمان بن گئے۔ وہ گاہے گاہے اپنے بھائی، جیفر (بعض تذکرہ نگاروں نے اسے جافر ے بھی لکھا ہے) کو ان کی آمد اور اسلامی احکامات کے متعلق بتاتا رہا۔ عرب روایات کے مطابق سفیر نبیؐ کو ہر طرح کا آرام بہم پہنچایا گیا۔ آخر کار ایک دن انہیں دربار طلب کرلیا گیا۔ جب حضرت عمروؓ بن عاص بھرے دربار میں داخل ہوئے، تو بے باکی سے بادشاہ کی طرف بڑھ گئے۔ درباریوں نے ’’ادب ادب‘‘ کے نعرے لگائے، مگر انھوںنے مطلق پروا نہ کی۔ جیفر بن جلندی ان سے مخاطب ہوکر بولا: ’’کہیے، آپ کی آمد کا کیا مقصد ہے؟‘‘

حضرت عمروؓ بن عاص نے اپنے آقا کا خط پیش کیا۔ اسی وقت مہر توڑی گئی۔ بادشاہ نے خط پڑھنے کے بعد اپنے بھائی کو دیا۔ اس نے بھی ایک ایک لفظ پڑھا۔ تمام درباری حیران کہ شاہی دربار میں اتنی دلیری سے خط پیش کرنے والا شخص کون ہے اور یہ خط کیسا ہے؟ خط کا مفہوم کچھ یوں تھا:

’’بسم اللہ، محمدؐ بن عبداللہ کی طرف سے جلندی کے دونوں بیٹوں، جیفر اور عبد کے نام! سلامتی اور امن ہے اس شخص کے لیے جو سیدھی راہ کی پیروی کرے۔ میں تم دونوں کو اسلام کے راستے کی طرف بلاتا ہوں۔ دونوں مسلمان ہوجاؤ تو سلامت رہوگے۔ میں خدا کا آخری رسولؐ اور تمام انسانوں کے لیے خدا کا نمائندہ ہوں تاکہ انہیں خدا کی مخالفت سے ڈراؤں، یوں انکار کرنے والوں پر خدا کی حجت قائم ہوجائے۔ اگر تم نے اسلام قبول کرلیا، تو تم اپنے ملک کے والی رہوگے اور اگر انکار کیا، تو ملک تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ فوجیں تمہاری قلمرو میں داخل ہوں گی اور میری نبوت تمہارے ملک عمان پر غالب آجائے گی۔‘‘

خط پڑھنے کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ جیفر نے پوچھا: ’’قریش نے کیا طرزِ عمل اختیار کیا ہے؟‘‘

حضرت عمروؓ بن عاص نے بتایا: ’’وہ سب اسلام لے آئے ہیں، کچھ دل سے اورکچھ تلوار سے مرعوب ہوکر۔ اب اس سرزمین پر تمہارے سوا سب حلقہ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ اگر تم نے اس فرمان کی تعمیل سے انکار کردیا تو ہماری فوجیں تم پر یلغار کریں گی، دوسری صورت میں بدستور اپنے ملک کے وارث رہوگے۔‘‘

جیفر نے فیصلہ کن اندازمیں کہا: ’’میں تمہارا مطلب سمجھ گیا۔ ہم کمزور نہیں اور یہاں کوئی فوج قدم رکھنے کی جسارت نہیں کرسکتی۔ اگر کسی نے ادھر کا رخ کیا، تو یہ لڑائی دوسری لڑائیوں سے یکسر مختلف ہوگی۔‘‘

یہ سن کر حضرت عمروؓ بن عاص اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: ’’بہتر ہے، آپ کا پیغام آنحضرتؐ تک پہنچ جائے گا۔‘‘

دربار میں بیٹھے درباریوں نے داد دی کہ ان کا بادشاہ بزدل نہیں اور حکمرانی کرنا ایسے ہی لوگوں کا حق ہے۔ دربار برخواست کردیا گیا اور سفیر نبوتؐ اپنی اقامت گاہ کو چل دیے۔

لیکن عبد بن جلندی آنے والے طوفان سے باخبر تھا۔ جزیرہ عرب کی سبھی ریاستیں اسلام کے ابھرتے آفتاب کے سامنے سجدہ ریز ہوگئی تھیں۔ اسے محسوس ہوگیا تھا کہ اسلام کی پھیلتی روشنی کا راستہ کفر کی تاریکی کبھی نہیں روک سکتی۔ اسی لیے عبد نے تنہائی میں بھائی کو سمجھایا کہ اسلام قبول کرنے سے نہ صرف وہ دین حق کی آغوش میں آجائیں گے بلکہ ان کی حکومت بھی قائم رہے گی۔ زیرک بھائی کے سمجھانے سے رفتہ رفتہ جیفر کو عقل آگئی۔

وہ سنبھلا اور اگلے ہی روز دوبارہ حضرت عمروؓ بن عاص کو دربار میں بلوالیا۔ اس نے ان کی موجودگی میں یہ اعلان کیا ’’ہم دونوں بھائی مسلمان ہوتے ہیں۔‘‘ اس طرح جزیرئہ نما عرب کی آخری طاقت بھی عرشِ الٰہی کے سائے میں آگئی۔

معاہدے کے مطابق حضرت عمروؓ بن عاص مالیات اور صیغۂ عدل کے نگران مقرر ہوئے۔ یوں وہ شخص جسے عمان کے شاہی دربار میں پذیرائی نہیں ملی تھی، اسلام کے اعجاز سے بادشاہ کے سر پر نگراں بن گیا۔

یہ تھی اسلام کی طاقت، وہی اسلام جس کی صدا دورِ جدید میں صدا بصحرا بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

بعثت رسولﷺ

اپنی ذات کی تعمیر اورسیرتِ رسولؐ

اسلامی معاشرے کی تشکیل اور سیرت نبویؐ

شیئر کیجیے
Default image
قمر عباس

تبصرہ کیجیے