5

مجھے بزدل مت کہو!

میرا کام اس قسم کا ہے کہ زیادہ تر وقت سفر میں گزرتا ہے۔ اسی لیے ویگنوں بسوں، ٹیکسیوں اور رکشا والوں سے اکثر واسطہ رہتا ہے۔ اس روز موسم کچھ ابر آلود تھا۔ مجھے گھر بھی جلد جانا تھا، لہٰذا ٹیکسی میں سفر کرنے کا ارادہ کرلیا۔ ٹیکسی اسٹینڈ پہنچا، تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ میں بھی اس طرف ہولیا کہ دیکھوں، کیا ماجرا ہے۔ دیکھا ایک ٹیکسی ڈرائیور دوسرے ڈرائیور کو غلیظ گالیاں دے رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں چاقو بھی تھا، جسے وہ لہرا رہا تھا۔ اس کے غلیظ اور اشتعال انگیز الفاظ سن کر کم از کم میں تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتا۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بات کیا تھی اور کہاں سے شروع ہوئی، تاہم یہ دیکھ کر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ دوسرا ڈرائیور بالکل پرسکون اورخاموش تھا۔

مجھے حیرت اس لیے ہوئی کہ وہ تن و توش میں اپنے ساتھی سے کم و بیش دگنا تھا اور اس سے زیادہ طاقتور بھی۔ میں اس کی پراسرار خاموشی کی وجہ سمجھ نہ سکا۔ میرا خیال تھا کہ وہ بزدل ہے جبھی ہجوم سے خاموشی کے ساتھ باہر نکل گیا۔ اسی اثنا میں دوسرے لوگ پہلے ڈرائیور کو پکڑ کر لے گئے لیکن وہ برابر زہر اگلتا رہا۔

میں نے دیکھا کہ وہ بزدل ڈرائیور اپنی ٹیکسی میں جابیٹھا۔ ٹیکسی خالی تھی لہٰذا میں اسی میں جاکر بیٹھ گیا اور اس نے ٹیکسی چلا دی۔ وہ اب بھی پرسکون اور خاموش تھا۔ میں نے اپنی الجھن دور کرنے کے لیے اس سے پوچھا: ’’تم اپنے ساتھی ڈرائیور کی گالیاں سن کر خاموش کیوں رہے؟‘‘

اس نے جو جواب دیا اس نے ذہن و قلب کے کئی دریچے کھول دیے۔ کہنے لگا: ’’میں آپ کو بظاہر پُرسکون دکھائی دیا ورنہ میرے اندر ایک زبردست لڑائی جاری تھی۔ میں نے اس لڑائی میں اپنے دشمن کو شکست فاش دے ڈالی۔‘‘

میں نے ہنس کر پوچھا: ’’کیسی لڑائی، کیسی شکست اور کون سا دشمن— تمہاری ذلت کا تماشا، تو میں نے خود دیکھا ہے۔‘‘

’’جناب! میں نے اپنے نفس کو شکست دی ہے، جس سے بڑھ کر انسان کا کوئی دشمن نہیں۔‘‘ وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔

میں سنبھل گیا۔ مجھے شک گزرا کہ یہ بلند الفاظ ایسے شخص کی زبان سے ادا نہیں ہوسکتے جو بظاہر ناخواندہ لگتا ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا : ’’تم نے اپنے دشمن کا کیا نام بتایا؟‘‘

’’انسان کا نفس اس کا سب سے بڑا دشمن ہے صاحب۔‘‘ وہ بولا۔

الفاظ واقعی اس کی زبان سے ادا ہوئے تھے، دوسرا ہوتا تو یہی سمجھتا کہ اس نے رٹا رٹایا فقرہ کہہ دیا اور وہ اس کے فلسفے سے نا آشنا ہے مگر میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھ چکا تھا۔ پھر بھی میں نے پوچھ ہی لیا: ’’تمہیں کس چیز نے اپنے نفس سے لڑنے پر مجبور کیا؟‘‘

اس نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور بولا: ’’جب وہ شخص مجھے گالیاں دے رہا تھا، اشتعال انگیز فقرے کس رہا تھا، تو اس وقت میری نظروں کے سامنے میری وفا شعار بیوی اور پیارے پیارے بچوں کے چہرے گھوم رہے تھے۔ یہ میری جنتِ ارضی ہے اور اس جنت سے ایک دن کے لیے بھی علیحدہ نہیں رہ سکتا۔‘‘

وہ دھیان سے ٹیکسی چلا رہا تھا۔ میں اسے حیرت سے دیکھتا اور اس کی زبان سے گرنے والے جواہر سمیٹنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ کبھی مڑکر میری طرف دیکھتا تو میں دھیان ہٹا لیتا۔ میرے لیے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا مشکل ہوگیا۔ اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھا:

’’میں نے ایک مقام پر آگے بڑھنے کا ارادہ بھی کیا، مگر اسی وقت مجھے اپنے بچے کا تصوراتی عکس محسوس ہوا جو بھاگ کر میری ٹانگوں سے چمٹ گیا اور ساتھ ہی اس کی آواز میرے کانوں میں رس گھول گئی ’ابوجی‘۔

’’اس کے بعد میرے لیے قدم بڑھانا ناممکن ہوگیا اور میں ہجوم سے باہر نکل آیا۔ اگر اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھتا، تو اس کے نتائج شاید مجھے سات سال، چودہ سال، یا اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے کی صورت میں بھگتنا پڑتے۔ میری بیوی اور بچے مجھ سے جدا ہوجاتے۔ میں قید میں تڑپتا رہتا اور وہ جن کا میں واحد سہارا ہوں، اس قحط الرجال کے زمانے میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے۔

مجھے یقین ہے کہ لڑائی دیکھتے ہوئے آپ نے اور دوسرے کئی لوگوں نے مجھے بزدل اور بے غیرت جیسے ’خطابات‘ سے نوازا ہوگا لیکن یہ الفاظ میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ اس کے برعکس اگر میں خود پر قابو نہ رکھتا، تو آپ لوگوں کی نظروں میں ضرور قابل تحسین ٹھہرتا ، لیکن یہ تحسین مجھے جیل بھجوا دیتی اور میرے بچوں کو فاقے کرنے پر مجبور کردیتی۔ میں نے ایسے موقع پر اپنے نفس کو قابو میں رکھا، اس سے شکست نہیں کھائی اور یوں فتحیاب ہوگیا۔‘‘

اس کی باتوں نے مجھے سحر زدہ کردیا اور میرے دل میں اس کے لیے عزت کے جذبات پیدا ہوگئے۔ میری نظروں میں وہ بہت بلند انسان تھا اور اس کی باتوں میں بڑی گہرائی اور سچائی تھی۔ میں نے اس سے کہا: ’’تم نے خدا کے رسولؐ کے حکم پر عمل کیا ہے۔ جو تم نے کہا اسی انداز کی حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں:

’’پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ جو اپنے نفس کو شکست دے ڈالے۔‘‘

وہ اچھل پڑا اور کہنے لگا: ’’کیا واقعی ایسے الفاظ ہیں؟‘‘

میں نے کہا: ’’بالکل یہی الفاظ ہیں۔‘‘

اس کا چہرہ خوشی سے تمتمانے لگا اور میں سوچنے لگا کہ ہم میں سے کتنے انسان ہیں جو ایسے مواقع پر خود کو قابو میں رکھتے ہیں اور مستقبل کا سوچ کر اپنے لواحقین کو نظر انداز نہیں کرتے۔

’’لڑائی کیوں ہوئی تھی ….. وہ تمہیں گالیاں کیوں دے رہا تھا؟‘‘ میں نے یونہی پوچھ لیا۔

وہ چند لمحے خاموش رہا اور پھر بولا :’’بس یونہی۔‘‘

’’پھر بھی کوئی بات تو ہوگی؟‘‘ میں نے زور دیا۔

’’تھوڑی دیر بعد آپ کو وجہ پتا چل جائے گی۔‘‘

میں اس کی بات سمجھ نہ پایا۔ میری منزل نزدیک آگئی تھی، اسی لیے اسے مزید نہیں کریدا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے وقت کرایہ طے نہیں ہوا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میرے گھر تک کا کرایہ سو روپے بنتا ہے۔ اکثر ڈرائیور سو روپیہ ہی کرایہ طلب کرتے تھے۔ میں نے ٹیکسی میں بیٹھے بیٹھے سو روپے کا ایک نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ’’بس یہیں ٹیکسی روک دو۔‘‘

اس نے ٹیکسی روک دی اور بولا:’’میں آپ سے کرایہ نہیں لوں گا۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ میں حیرت بھرے لہجے میں بولا۔

’’میں جمعہ کے دن کسی سواری سے کرایہ نہیں لیتا۔‘‘ وہ پُرعزم لہجے میں بولا۔

’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ میں نے اس کی دماغی حالت پر شک کرتے ہوئے کہا۔

’’جی میری طبیعت اور دماغی حالت، دونوں ٹھیک ہیں۔دراصل ہفتے کا ایک دن یعنی جمعہ میں نے اللہ کے لیے وقف کررکھا ہے۔ آج میں کسی سواری سے کرایہ نہیں لیتا۔‘‘ اس نے پُرسکون لہجے میں بتایا۔

نوٹ میرے ہاتھ میں ہی رہا تاہم میں ٹیکسی سے نیچے نہیں اترا اور اس سے کہا:

’’خود غرضی اور نفسا نفسی کے اس دور میں مجھے تمہارے بات عجیب لگ رہی ہے۔ اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کیونکہ حقیقت میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ میں تمہاری اس سخاوت کی وجہ جاننا چاہوں گا۔ آؤ میرے ساتھ، گھر چلو۔‘‘میں نے اسے دعوت دیتے ہوئے کہا۔

کچھ پس و پیش کے بعد وہ راضی ہوگیا۔ میں اسے گھر لے آیا، بیٹھک میں بٹھایا اور گھر والوں کو چائے کا کہہ کر اس کے پاس آبیٹھا۔ میری حیرانی دور کرنے کی خاطر وہ اپنی آپ بیتی سنانے لگا:

’’میں ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ والدین اس دنیا میں نہیں رہے۔ دو بہنیں ہیں۔ شادی شدہ اور بچوں والا ہوں۔ میں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم پائی ہے۔ ابا جان کی وفات کے بعد ملازمت تلاش کرنے لگا۔ بہت دھکے کھائے مگر نوکری نہ ملی کیونکہ میرے پاس سفارش تھی نہ رشوت۔ بالآخر ابا مرحوم کی جمع پونجی سے ٹیکسی خرید کر چلانے لگا۔ ڈرائیونگ میں نے پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ میں بہت محنت کرتا۔ صبح سویرے ٹیکسی نکالتا اور شام دیر گئے گھر لوٹتا۔ کبھی دیہاڑی اچھی لگ جاتی اور کبھی معمولی مگر معقول رقم کما کر بھی گزارہ مشکل سے ہوتا۔

ٹیکسی چونکہ پرانے ماڈل کی تھی، اس لیے آئے دن کوئی نہ کوئی خرابی ہی رہتی۔ میں جو کچھ کماتا اس میں سے بیشتر گاڑی کی مرمت پر خرچ ہوجاتا۔ گھر کی مالی حالت بہتر نہ ہوسکی۔ کرائے کے معاملے میں اکثر سواریوں سے تو تو میں میں ہوجاتی کیونکہ بعض اوقات زیادہ کرایہ طلب کرلیتا تھا۔ مجھے گھر میں آرام ملتا نہ ہی گھر سے باہر۔ اوپر سے دو جوان بہنوں کا بوجھ بھی میرے کندھوں پر تھا۔ نہ جانے کیوں ٹیکسی کی کمائی میں برکت نہیں تھی۔ کبھی سوچتا، ٹیکسی فروخت کرکے کوئی اور کام کرلوں۔ پھر یہ سوچ کر ارادہ بدل دیتا کہ اگر کام نہ ملا تو پھر کیا کروں گا؟

ایک روز ان ہی سوچوں میں گم شہر سے کچھ باہر ایک شخص کو اتار کر واپس آرہا تھا کہ شہر آنے والی سواری مل گئی۔ وہ شکل و صورت سے فقیر نما شخص لگتا تھا۔ عمر میں میرے باپ کے برابر ہوگا۔ سر پر میلی سی سفید پگڑی بندھی تھی۔ داڑھی کے بال کالے اور سفید تھے۔ لباس بھی میلا سا تھا۔ میں نے شہر جانے کے ڈیڑھ سو روپے مانگے تو وہ کہنے لگا کہ یہ تو بہت زیادہ ہے۔ میں جلدی میں تھا، اس سے بحث نہ کی اور کہا ’’بابا! گاڑی میں بیٹھو، جو مرضی دے دینا۔‘‘

وہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا اور میں نے ٹیکسی آگے بڑھادی۔

’’بیٹے! یہاں سے شہر کا کرایہ ستر یا اسی روپے بنتا ہے۔ تم ڈیڑھ سو روپے کیوں مانگ رہے ہو؟‘‘ راستے میں وہ بابا نہایت نرم لہجے میں بولا۔

’’بابا جی! کیا کروں مجبوری ہے۔ صبح سے شام تک ٹیکسی چلاتا اور مزدوری کرتا ہوں مگر گزارہ نہیں ہوتا۔ خوب کماتا ہوں مگر برکت نہیں ہوتی…. میرے گھر کے آنگن میں خوشیاں نہیں اترتیں۔‘‘ میں نے اپنا رونا روتے ہوئے کہا۔

’’نماز پڑھتے ہو؟‘‘ بابا نے پوچھا۔

’’صرف نمازِ جمعہ پڑھتا ہوں۔‘‘ میں نے حقیقت بتائی۔

’’نماز باقاعدگی سے پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو کہ وہ تمہارے گناہ معاف کردے۔ وہ تمہاری کمائی میں برکت دے گا۔‘‘

بابا جی نے کافی نصیحتیں کیں مگر میں نے ان پر کان نہ دھرے۔ جب منزل آگئی تو انھوں نے مجھے ڈیڑھ سو روپیہ دیتے ہوئے کہا:

’’میری ایک بات مانو … ہفتے کے سات دنوں میں سے ایک دن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وقف کردو۔ ایک دن کرایہ وصول کیے بغیر ٹیکسی چلاؤ، پھر دیکھنا تمہارے دن کیسے پھریں گے۔‘‘ بابا جی یہ کہہ کر ٹیکسی سے اتر گئے۔

مجھےاس کی نصیحت پر سخت غصہ آیا۔ مجھے وہ کوئی دیوانہ لگا، میں بھلا کوئی پاگل ہوں کہ سارا دن محنت اور وقت ضائع کروں اور پیسہ بھی … نہ ….‘‘

میں نے ٹیکسی آگے بڑھادی۔ اب میرا رخ گھر کی طرف تھا۔ میں نے بابا اور اس کی باتیں بھلانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا…. یوں ہی ایک ہفتہ گزرگیا …. آخر بابا کی باتیں میرے دل میں گھر کرتی چلی گئیں اوران پر عمل بھی شروع کردیا۔ آج جمعہ ہے، اس لیے میں نے آپ سے بھی کرایہ نہیں لیا۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث دوسرے ٹیکسی ڈرائیور مجھ سے بیر رکھتے اور مجھے پاگل اور دیگر القابات سے نوازتے ہیں۔ وہ گالیاں دیتے ہیں مگر میں خاموش رہتا ہوں …. آج بھی یہی ہورہا تھا۔

وہ خاموش ہوا تو میں نے اس کی طرف رشک بھری نظروں سے دیکھا اور پوچھا اب تمہارے حالات کیسے ہیں؟

’’الحمدللہ! …. اللہ کا بڑا کرم ہے۔ جس دن سے بابا کی باتوں پر عمل کرنا شروع کیا ہے، میری دنیا ہی بدل گئی۔ اب میں کبھی نماز قضا نہیں کرتا۔ جمعہ والے دن جب میں لوگوں سے کرایہ نہیں لیتا اور وہ بدلے میں مجھے دعا دیتے ہیں تو میری روح سرشار ہوجاتی ہے۔ پروردگار نے اب میری کمائی میں اتنی برکت ڈال دی ہے کہ میں نے دونوں بہنوں کی شادیاں کردیں۔ گھر میں کسی شے کی کمی نہیں، راوی سکھ اور چین لکھتا ہے۔ میں جونہی ٹیکسی لے کر گھر سے نکلوں، فوراً سواری مل جاتی ہے اور پھر سارا دن کمائی ہوتی رہتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مجھ پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی برسات ہورہی ہے۔ میں اس کا جتنا بھی شکر ادا کروں، کم ہے۔‘‘

اس نے بات ختم کی، مجھ سے اجازت لی اور رخصت ہوگیا۔ میں اس عظیم انسان کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ میری سوچوں کا محور یہ بات تھی کہ کاش میرے وطن کا ہر شخص ایسا بن جائے جیسا یہ اللہ کا محبوب بندہ ہے۔

مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض وانمباڑی

(اردو ڈائجسٹ، لاہور سے ماخوذ)

مزید افسانے پڑھیں!

کنارے ڈوب جاتے ہیں

بریکنگ نیوز

آدھی رات کی دھوپ

شیئر کیجیے
Default image
محمد سلیم اختر

تبصرہ کیجیے