نفسیاتی مسائل : غذا اور بچاؤ کی تدابیر

خوشحال اور آسودہ زندگی کا ہماری ذہنی حالت سے گہرا تعلق ہے۔ مثبت اور تعمیری سوچ کو آسودہ حال زندگی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے۔ ماحول کی غیر موزونیت، حالات کی ناموافقت اور معاشی و سماجی الجھنیں زندگی کو اس قدر پیچیدہ نہیں بناتیں جس قدر ہم منفی و تخریبی سوچ کے انداز سے خود اپنے لیے زندگی کو مشکل اور تکلیف دہ بنالیتے ہیں۔ حسد، ہوس، کینہ، نفرت، تکبر اور بغض و بخل جیسے قبیح جذبات روح کو گھن کی طرح سے کمزور کرتے جارہے ہیں۔

موجودہ زمانے میں روح کے کمزور ہونے سے ذہنی و جسمانی امراض کی بہتات ہورہی ہے۔ طب قدیم کی رو سے انسانی جسم میں پائے جانے والے اخلاط صفراء، سودا، بلغم اور خون میں سے کسی ایک کی کمی یا زیادتی بالخصوص سوداء کی زیادتی اور خون کی کمی دماغی و ذہنی امراض کا باعث بنتی ہے۔ سوداء کاغلبہ ہونے سے دماغی جھلیوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے اور خلیات کو خون کی رسد نہ ہوپانے کی وجہ سے ذہنی صلاحیتوں میں کمزوری واقع ہونے لگتی ہے۔

چونکہ انسانی دماغ پورے جسم کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور بدن انسانی کی تمام تر صلاحیتوں کا دارومدار بھی دماغی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ عضلات کے ذریعے سے جسم کے تمام نظام دماغ کے زیر انتظام افعال سر انجام دیتے ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دماغی آسودگی، صحت مندی اور مضبوطی پورے بدن انسانی کی درستگی، صحت اور مضبوطی کی دلیل مانی جاتی ہے۔ جسم میں سوداء کی زیادتی، پریشان خیالی، وسوسے، وہم، مایوسی، افسردگی، ناامیدی، بے یقینی کی کیفیت اور خوف کی حالت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ ہر وقت سوچوں میں غلطاں رہنے کی عادت اور چہرے پر بارہ بجے رہنے کی کیفیت دماغی کمزوری اور ذہنی بے چینی کی علامات میں زیادتی کا باعث بنتی ہیں۔ علاوہ ازیں نفرت، ناکامی، انتقام اور حرص و ہوس جیسے قبیح جذبات بھی ذہنی بیماریاں بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ عشق، محبت میں مایوسی ہونا، کاروباری معاملات میں نقصانات اٹھانا بھی دماغی و نفسیاتی امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ جدید طبی تحقیقات کی رو سے دماغی میٹابولزم میں خرابی پیدا ہوجانے سے دماغی پیغام رساں خامرات نیوروٹرانس میٹرز کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے دماغی امراض رونما ہونے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں نیوروپائین فرائن اور سیروٹونن کے افراز میں کمی واقع ہونے یا دماغی خلیات تک مناسب رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی ذہنی عوارض پیداہونے لگتے ہیں۔ انسانی جسم میں وٹامن بی -12 اور فولک ایسڈ کی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہونے اور سکون آور ادویات کے متواتر اور بے دریغ استعمال کرنے سے دماغی شرائن تک خون کے سرخ ذرات کی باقاعدہ رسد میں رکاوٹ پیدا ہونا، بلڈ پریشر، ذیابیطس، دائمی قبض، اچانک حادثات،ذہنی صدمات، طویل عرصے تک نیند پوری نہ ہوسکنا، مقاصد میں مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہونا اورازدواجی الجھنوں میں گھرے رہنا بھی ذہنی اور دماغی امراض کا سبب بنتے ہیں۔ متواتر اورلگاتار سوچتے رہنے سے اعصابی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ تفکرات میں گھرے رہنے سے نظام انہضام بھی تباہ ہوجاتا ہے۔ بسا اوقات بھوک کی کمی واقع ہوجانے سے مریض کئی کئی روز کچھ کھاتا پیتا نہیں جس کی وجہ سے جسمانی عوارض پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر ذہنی مسائل کا بروقت تدارک نہ کیا جائے تو مریض مایوسی، تشویش اور نا امیدی میںمبتلاہوکر سکون آور ادویات کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔

وہ کسی بھی ایسے ذریعے کی تلاش کرتا ہے جو اسے اس بے چینی، اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت سے نجات دلائے۔ اس مقصد کے لیے وہ جائز اور ناجائز ہر دو طریقے اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ایسا کرنا مریض کی صحت کے لیےخطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بدنصیبی سے ہمارے سماج میں نفسیاتی صحت کے حوالےسے لوگوں میں پوری طرح شعوراجاگرنہیں ہوپایا ہے۔ اچھے خاصےپڑھےلکھےلوگ بھی اپنی ذہنی کیفیات معالج اور اپنے دوست و احباب سے بیان کرنے میں قباحت محسوس کرتے ہیں۔ اگر ابتداء سے ہی ذہنی مسائل کے متعلق ادراک حاصل کرلیا جائے تو بعد ازاں کئی ایک نفسیاتی اور سماجی الجھنوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

غذائی علاج:

دماغی امراض میں کیلا کمال فوائد کا حامل پھل ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے کیلے میںایسے کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو کھانے والےکو افسردگی، اداسی، چڑچڑے پن، بدمزاجی اور مایوسی کی کیفیت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مغزیات جیسےبادام،پستہ، اخروٹ،چلغوزہ،مونگ پھلی وغیرہ بھی دماغ کی تقویت اورحفاظت میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ دھیان رہے کہ مغزیات کاضرورت سے زیادہ استعمال کئی ایک دوسرےعوارض کا باعث بن سکتاہے۔ لہٰذا موسم کی مناسبت سےان کااستعمال کریں لیکن اپنے معالج کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ کریں۔

طبی ماہرین نے دماغی کمزوری کے لیے خمیرہ جات، مربہ جات، مقویات، مفرحات، اطری فلات، معجونات، جوارشات اور روز مرہ استعمال کی جانے والی غذاؤں میں سے مخصوص اجزاء کی حامل اشیاء کو بہترین قرار دیا ہے۔ زنک اور مرجان کو دماغی کمزوری سے نجات حاصل کرنے کے بہترین ہتھیار کہا جاتا ہے۔ دماغی خلیات تک آکسیجن کی رسد کےلیے فولاد کا بنیادی کردار مانا جاتا ہے۔ فولاد چستی بڑھاتا اور دماغ کو کام کرنے پر اکساتا ہے۔ کیلشیم اور فاسفورس کو دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنےکے لیے خاص نسبت دی جاتی ہے۔ خمیرہ گاؤ زبان سادہ، خمیرہ گاؤ زباں عنبری، خمیرہ گاؤ زباں جواہر والا، خمیرہ مروارید وغیرہ کو کیلشیم کا کمال درجے کا ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کیلشیم انسانی دماغ میں قوتِ برداشت، مضبوط یادداشت ، کام کرنے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتا ہے۔ پالک، شلجم، مٹر، باتھو، لال چولائی، سلاد، بندگوبھی، دودھ ، بالائی، دہی، مکھن، چھاچھ، انڈا، بادام، پستہ اور اخروٹ میں قدرتی طور پر کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔

موسمی پھلوں کا مناسب اور متوازن استعمال کرکے بھی ذہنی امراض سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ پھلوں میں موجود کیلشیم، فاسفورس، فولاد، وٹامنز اے، بی اور سی کی وافر مقدارآپ کونہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت مند اورتوانا بنادے گی۔ صفرا و سودا کی زیادتی کے مریض جو کے دلیے میں پھل ملا کر ناشتہ کرنےکو معمول بناکرلذت اورصحت ایک ساتھ حاصل کرسکتے ہیں۔

گھریلوعلاج:

بطورگھریلو علاج درج ذیل تدابیر پرعمل پیراہوکر آپ خاطر خواہ حد تک صحت مند اور آسودہ حال ہوجائیں گے۔ زرشک شیریںایک چمچی رات کو عرق گلاب میں بھگوکر نہار منہ کھا کر عرق گلاب پی لیا جائے۔ من جملہ دماغی عوارض سے نجات کا بہترین قدرتی ذریعہ ہے۔

برہمی بوٹی ایک گرام، مغز بادام ۷ عدد، فلفل سیاہ ۳، خشخاش ایک گرام رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ بطریق سردائی گھوٹ کر تازہ مکھن 10 گرام شامل کرکے استعمال کریں۔ یہ گھریلو ترکیب کمال فوائد اور تیز اثرکی حامل ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ اس کے استعمال سے دماغی کمزوری سمیت کئی دیگر فوائد بھی مل جایا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل مقوی دماغ حریرہ بھی شاندار شفایابی کا ذریعہ بنتا ہے:

مغز بادام 7عدد، مغز کدو، مغزتربوز، مغز خربوزہ، خشخاش، نشاستہ 3،3 گرام کی مقدار باہم پانی میں گھوٹ کر ایک پاؤ خالص دودھ ملاکرہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب دودھ نصف رہ جائےتو 25گرام گائے کا مکھن ملا کر جوش دے کر اتارلیں۔ روزانہ صبح وشام نہار منہ1چمچ دودھ کےساتھ کھائیں۔جملہ امراض دماغی، خشکی،نیند کی کمی، دائمی نزلہ و زکام اور دماغی کمزوری سے نجات دلانے کےلیےبہترین نسخہ ہے۔ علاوہ ازیں معجون نجاح، خمیرہ گاؤزباں عنبری، دواء المسک معتدل سادہ، حب ایارج، مفرح شاہی، مفرح شیخ الرئیس، خمیرہ مروارید، اطری فل صغیر، اطریفل زمانی، برش عشاء مربہ آملہ، سیب،بہی،ہرڑ اور مربہ گاجر کی مخصوص مقدار اپنے معالج کے مشورےسے استعمال میںلائی جاسکتی ہے۔

دماغی امراض سےنمٹنے اوران سےنجات حاصل کرنےکےلیےضروری ہےکہ ہم اپنی ذہنی حالت سے متعلق مکمل طور پر واقف ہوں اور ہم یہ تسلیم کریں کہ واقعی ہماری دماغی کیفیت میں خرابی پیدا ہوچکی ہے۔ عام طور پر مختصر دورانیے کی متاثرہ دماغی بدحالی کو بخوبی اور جلد ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کےلیے انتظامی تراکیب استعمال کرکے ہم کم عرصے میں اس کیفیت سے پیچھا چھڑا نے میں کامیاب ہوسکتےہیں۔ لیکن طویل عرصے کے پیدا شدہ عوارض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنا طرزرہن سہن، رویے اور ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر ہم پھر بھی اپنی حالت میں بہتری پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں تو پھر ماہرِ نفسیات سے مشاورت کرنا ہی لاز می ہوجاتا ہے۔

ضروری وضاحت:

انسانی وجود تین اجزاء کا مجموعہ ہے۔ روح، نفس اور جسد۔ روح کا مرکز دل ہوتا ہے۔ نفس کی آماجگاہ دماغ مانی جاتی ہے۔ جبکہ انسانی جسد کا دارومدار جگر پر ہوتا ہے۔ دل میں قوتِ حیوانی پائی جاتی ہے۔ دماغ میں عقلیہ و شہوانیہ قوتیں براجمان ہوتی ہیں۔ جگر پر قوتِ طبعی کاانحصار ہوتا ہے۔ قوتِ طبعی ایک ایسی صلاحیت کو کہا جاتا ہے جو پورے انسانی بدن کوحرارت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ روح اور نفس کی صحت مندی یا بیماری کادارومدار قوتِ طبعی پرہوتا ہے۔جگر مذکورہ حرارت پہنچانے والی قوت یاایندھن کھائی جانے والی غذا سے حاصل کرتا ہے۔ انسانی جسم کو جو غذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں ان میں کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کلورین آیوڈین، سوڈیم، گندھک ، فولاد، وٹامنز، نشاستہ، پروٹین، آکسیجن اور چکنائیاں وغیرہ شامل ہیں۔ روح اور نفس کی تمام تر کارکردگی کا انحصار انہی اجزاء پر ہوتاہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری صلاحیتوں کے پروان چڑھنے میں ہماری غذا کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے۔روح کی مضبوطی اور توانائی کے لیے اللہ کا ذکر پہلی غذا ہے۔ بطور مسلمان ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ ’’خبردار! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔‘‘ فرقانِ حمید کے اس حکم پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوں۔ ہمہ وقت اللہ کی یاد کثرت سے کریں تاکہ روحانی طور پر ہم مضبوط ہوسکیں۔ نفس کی غذا ہمیں اپنی خوراک کے ذریعے سے حاصل کرنی ہوتی ہے۔اب اگر ہم شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی اشیاء کا استعمال کریں گے تو ہمارے اندر قوت شہوانیہ مضبوط ہوکر ہمیں حیوانی صفات سے متصف کردے گی اور اگر ہم عقلی جذبات کو بڑھاوا دینے والےاجزاء کا انتخاب کریں گے تو ہم قوتِ عقل سے مالا مال ہوکر فرشتوںسے بھی بلند مقام پر فائز ہوکر ارض و سماء کو مسخر کرنے والے بن جائیں گے۔ ایسی تمام غذائیں جو ہمارے دماغ کی مضبوطی کا باعث بنتی ہیں ہم ان کا استعمال تواتر سےکریں۔

حلال رزق ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم قوتِ عقلیہ سے سرفراز ہوکر قوتِ شہوانیہ کو مغلوب کرسکتے ہیں۔ انسانی جسد کی تعمیر میں طبعی قوت کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جبکہ طبعی قوت کے ماخذ مذکورہ بالا غذائی اجزاء ہی ہوتے ہیں۔ عقل ہمیں برداشت، ہمت، طاقت، حوصلہ، عفو و درگزر، پیار، محبت، صلہ رحمی، عجز وانکساری، غمگساری، ہمدردی اور ایثار و قربانی جیسے ارفع و اعلیٰ جذبات سکھاتی ہے۔ جبکہ شہوت سے غصہ، انتقام، نفرت، تکبر،نخوت، حسد، بغض،کینہ، کنجوسی، قطع رحمی، خود غرضی، سنگدلی اور طمع و لالچ جیسےقبیح جذبات کوہوا ملتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تن آسودہ زندگی گزارنے اور ذہنی و بدنی مسائل سےبچنے کا واحدذریعہ ہماری غذا ہے۔

غذا اور پرہیز:

دھیان رہے کہ قدرتی اجزاء سے تیار اورملاوٹ سے پاک خوراک ہی صحت مندی کا ذریعہ بنتی ہے۔ مصنوعی اجزاء سے تیار اور ملاوٹ شدہ غذائیںصحت کی بجائے بیماری کا باعث بن کر مزید مسائل کا باعث ثابت ہوسکتی ہیں۔ فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات،چکنائیاں، مٹھائیاں، بینگن، دال، مسور، بڑا گوشت، برائلر، آئس کریم، چاکلیٹس، کافی، سگریٹ نوشی، خالی پیٹ چائے اور قہوہ، منشیات کا استعمال، بادی، مرغن اور ترش غذاؤں سے مکمل دور رہا جائے۔ تمام موسمی سبزیاں، پھل، پھلوں کے رس، خالص شہد، اناج، اجناس اور ترکاریاں حسبِ ضرورت اور گنجائش لازمی استعمال کی جانی چاہئیں۔ دودھ، دہی، مکھن، خشک میوہ جات اور مربہ جات کی مناسب مقدار روز مرہ خوراک میں لازمی شامل کریں۔ تیز قدموں کی سیر اور پسینہ آور ورزش بھی بے حد لازمی اور مفید ہے۔ یاد رہے کہ سورج کی روشنی میں کی جانے والی سیر ہی فائدہ مند ہوسکے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نیاز احمد