جواب

ضیاء صاحب ،علاقہ کے معروف صنعت کار تھے، سو بیٹی کے جہیز میں اگر تاج محل دے سکتے تو وہ بھی دیتے۔اگرچہ شاہد اور اس کے والدین نے جہیز لینے سے صاف انکار کیا تھا بلکہ منت سماجت تک کی مگر ضیاء صاحب کے لیے ناک بڑی چیز تھی۔ بیٹی کو یونہی رخصت کر دیتے تو لوگ کیا کہتے؛ اس لیے خوب جہیز دیا۔ شاہد کو اگر پہلے معلوم ہوجاتا تو اس رشتہ کے لیے وہ کبھی راضی نہ ہو تا۔جہیز لینے والے دوستوں کو اس نے کئی بار لمبے لمبے لکچر دیے تھے۔ لہٰذا نکاح کے دو ہفتے پہلے جب ضیاء صاحب نے شاہد سے پوچھا کہ ’ڈاکٹر صاحب، کار کس برانڈ کی لیں؟‘ تو وہ غصہ سے بھر گیا۔ غصہ ہمیشہ ناک پر رہتا تھا اس کی، اس لیے برملا اظہار کردیا کرتا تھا۔ اب اس کے اظہار کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ زندگی بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔

’’پاپا، میں جہیزنہیں لوں گا،آپ رشتہ ختم کیجیے۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پنسل توڑ دی۔

اس کے والد نے گہری سانس لے کر آنکھیں بند کر لیں۔

’’شادی کو پندرہ دن رہ گئے ہیں بیٹا۔ بچی پر کیا گذرے گی، یہ بھی سوچو۔‘‘ ماں نے سمجھایا۔ ’’آپ جانتی ہیں، میں جہیز اور شادی کی فضول رسموں کے سخت خلاف ہوں امی۔ ‘‘ شاہد نے ہزار پیر پٹخے مگر رشتہ ہو کر رہا اور ضیاء صاحب نے داماد کی خوشیوں کو جہیز کے انبار میں دفن کردیا۔

نکاح کی تقریب میںشاہد بہت اپ سیٹ تھا، لیکن جہیز کی لگاتار تعریفوں میں ضیاء صاحب یہ کہاں دیکھ پائے۔ آئندہ چند ماہ وہ بیوی سے کھنچا کھنچا ہی رہا۔ پھر رفتہ رفتہ حالات معمول پر آگئے۔ لیکن اس کے دل میں جو پھانس گڑ گئی تھی اس کا کیا علاج ؟

ایک دن جب شاہد دواخانہ سے نکل رہا تھا ،ضیاء صاحب کا فون آگیا۔ ’’رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیے ڈاکٹر صاحب۔ ‘‘

’’کس خوشی میں؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’خوشی میں تو پارٹی کریں گے، آج خوشی کے بارے میں آپ کی رائے لینی ہے۔‘‘ ضیاء صاحب نے قہقہہ لگادیا۔وہ ہنستے بہت تھے۔ اور جتنا ہنستے شاہد کو اتنا ہی ناگوار گذرتا ۔ گھر پہنچا تو اس نے پایا کہ سب عشائیہ پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

’’کھانے پر بلانے کی کوئی خاص وجہ ہے؟‘‘اس نے اہلیہ سے دریافت کیا۔

’’پاپا نے بھیا کے لیے لڑکی پسند کی ہے، ڈاکٹر صاحب کو سیکنڈ اوپینین کے لیے بُلایا ہے۔‘‘اسے پیار بھرا جواب ملا۔

سب کچھ اچھا بلکہ قابل تعریف تھالہٰذا بات پکی ہوگئی۔ ضیاء صاحب نے لڑکی کے والد سے صاف کہہ دیا،’ہم جہیز نہیں لیں گے۔ صرف بہو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔‘ یہ جملے شاہد پر بجلی بن کر گرے۔ بمشکل سال بھر پہلے جہیزاور وہ بھی بہت سارا، ان کے لیے شادی کا جزوِ لاینفک تھا اور اب وہ اس سے برأت کا اظہار کر رہے تھے۔ یہ کایا پلٹ کیسے ہوگئی؟ کیا اس بیچ کسی نے ان کی برین واشنگ کردی تھی؟ ناممکن، پھر…؟

’’ہم اپنی بیٹی کو تحفہ تو دے سکتے ہیں۔‘‘ ہونے والے سمدھی ڈاکٹر کریم ، جنرل فزیشین تھے اور ان کی پریکٹس بھی اچھی خاصی تھی۔

’’بالکل نہیں، یہ غیر اسلامی رسم ہمارے معاشرہ سے ختم ہونی چاہیے اور اس کے لیے اگر ہم نمونہ پیش نہ کریں تو کون کرے گا؟‘‘

بیگم کریم خان کو یہ بات بالکل راس نہ آئی۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے بڑی محبت سے جہیز جمع کر رہی تھیں۔ خریداتو بہت کچھ تھا لیکن ہاتھوں سے بنائی کڑھائی بھی کی تھی ۔اب اگر وہ بیٹی کے ساتھ نہ دیا جا سکا تو … ’’نہیں نہیں، کوئی اور لڑکا دیکھیں گے۔ ‘‘ انھوں نے صاف کہہ دیا۔

’’ضیاء صاحب اسلامی تعلیمات کا پاس و لحاظ کر رہے ہیں، ہم کیوں غیر اسلامی رواجوں کی پیروی کریں۔‘‘کریم خان نے سمجھایا۔

بیگم کو جواب نہ سوجھا تو وہ رونے بیٹھ گئیں۔

ادھر مسز ضیاء سے بھی رہا نہ گیا۔ گھر پہنچتے ہی انھوں نے پہلا سوال کیا، ’’یہ آپ نے کیا کہہ دیا؟ جہیز نہیں لیں گے۔‘‘

’’ہمیں کسی چیز کی کمی ہے کیا؟‘‘

’’مگر انھیں بھی تو کوئی کمی نہیں۔ غریب اور نادار ہوتے تو کوئی بات تھی۔‘‘

’’غریب نادار ہوتے تو میں رشتہ ہی کیوں کرتا لاڈلی بیوی؟‘‘ ضیاء صاحب نے حسب معمول قہقہہ لگادیا۔

بیٹی کو جہیز دے کر وہ دولتمند باپ کا کردار ادا کر چکے تھے اب متشرع مسلمان کی شناخت بنانی تھی۔ اُدھر تعریفیں لوٹ چکے تھے اب اِدھر بھی ستایشی کلمات سننے تھے۔ پھر ہونے والی بہو اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ آج نہیں تو کل سب ضیاء صاحب ہی کا ہوتا۔ شاہد کو معاملہ سمجھتے دیر نہ لگی۔ یوں بھی وہ ڈایگناسس میں ایم ڈی تھا۔

کریم خان چونکہ شاہد کے ہم پیشہ تھے لہٰذا انھوں نے اسے فون کر کے گھر کی پریشانی بیان کردی۔

’’یہ تو طے ہے کہ جہیز کے نام پر ضیاء صاحب کچھ نہیں لیں گے۔‘‘شاہد نے واضح کردیا۔

’’ بہت کچھ خریدنا باقی تھا ، البتہ کچھ چیزیں جمع کر لی تھیں۔ ‘‘

’’ میں جانتا ہوں، آپ نے معاشرہ میں دکھانے کے لیے جہیز نہیں خریدا ہوگاسر۔‘‘

’’استغفراللہ۔‘‘

’ ’پھر آپ تحفہ دینا ہی چاہتے ہیں تو میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔‘‘

’’نیکی اور پوچھ پوچھ۔‘‘

’’ آپ خریدا گیا سامان واپس کردیجیے اور اس قیمت کا ایک تحفہ ضیاء صاحب کو پیش کر دیجیے۔‘‘شاہد نے صلاح دی۔

کریم خان کو یہ بات جچ گئی۔ انھوں نے سامان واپس کردیا ، جس سے دو تین لاکھ روپئے حاصل ہو گئے۔ اب اس سے کیا تحفہ لیں؟ شاہد نے ایک لاکھ میں سونے کی کوئی چیز دینے کا مشورہ دیا جوکریم خان کو بھا گیا۔ سونے کی کون سی چیز خریدی جائے ،یہ ذمہ داری شاہد نے اپنے سر لے لی۔

نکاح بڑی سادگی سے مسجد میں انجام پایا۔ ضیاء صاحب نے صرف شربت پلانے کی اجازت دی تھی، طعام کا انتظام بھی نہیں کرنے دیا۔ اب مہمانوں کی آنکھوں میں اپنے لیے تعظیم اور تکریم دیکھ کر وہ پھولے نہ سما رہے تھے۔ کچھ مہمان گلے لگتے ہوئے جہیز نہ لینے کی بھی مبارکباد دے دیتے تو ان کا سینہ اور چوڑا ہوجاتا۔

رخصتی سے کچھ پہلے کریم خان، انھیں ایک طرف لے جاکربولے، ’’ضیاء صاحب، سمدھی کی جانب سے حقیر تحفہ …‘‘اور سرخ کاغذ میں لپٹا ایک ڈبہ انھیں پیش کردیا۔

’’یہ کیا ؟‘‘ضیاء صاحب سراپا سوال بنے کھڑے تھے۔

’’ضیاء صاحب، ہم نے جو سامان خرید لیا تھا، اسے واپس کردیا۔ بیٹی کے جہیز کی رقم بھلا کیسے استعمال کرتے! آپ کے داماد ڈاکٹر شاہد نے مشورہ دیا کہ اس رقم کا تحفہ آپ کو پیش کردوں تو آپ انکار نہیں کریں گے، اورہمیں بھی اچھا لگے گا۔‘‘

’’لیکن…‘‘

’’ہماری خوشی کے لیے قبول کیجیے۔‘‘ کریم خان دوہرے ہوگئے۔

’’اس میں کیا ہے ؟‘‘ضیاء صاحب نے پوچھا۔

’’بیٹی اور داماد کے لیے کچھ نہیں ہے، صرف آپ کے لیے ہے۔‘‘

’’مگر ہے کیا؟‘‘

’’یہ میں بھی نہیں جانتا، میں نے رقم ڈاکٹر صاحب کو دے دی تھی، انھوں نے ہی خریدا ہے۔ میں بس پیش کر رہا ہوں، قبول کیجیے۔ ‘‘

ضیاء صاحب نے مسکرا کر سمدھی کو گلے لگا لیا۔ چلو، تحفہ دیا بھی تو ایک طرف خاموشی سے۔ ضیاء صاحب خوش تھے۔ کسی کو خبر نہ ہوئی۔ وہیں پڑے ایک صوفہ پر بیٹھ کر انھوں نے رِبن کھولی اور سرخ کا غذ چاک کر کے ڈبہ باہر نکالا ۔ ڈبہ میں سونے کی خوبصورت فریم والا آئینہ رکھا تھا۔ ’’سونے کی فریم!!‘‘ انھوں نے پر مسرت حیرت سے کہا اورآئینہ اٹھا لیا۔ آئینہ میں انھیں اپنا چہرہ بگڑا ہوا دکھائی دیا۔

’’لا حول ولا قوۃ‘‘ وہ بیساختہ بولے ۔

’’ڈسٹورٹنگ مرر (Distorting mirror)‘‘ شاہدکی پر سکون آواز آئی۔ضیاء صاحب نے سر اٹھا کر دیکھا، سامنے شاہد عجیب انداز میں مسکرا رہا تھا۔ ’’تحفہ سمجھ آیاضیاء صاحب؟‘‘ وہ بولا۔

ضیاء صاحب نے آئینہ میں دیکھا، وہاں ان کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔ انھوں نے شاہد کی طرف دیکھا، اس کے لبوں پر وہی مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور ضیاء صاحب کی پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر آئے تھے۔

مزید افسانے پڑھیں!

وقت کا جواب

ریلوے اسٹیشن

گلی کی شہزادی

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد یحییٰ جمیل

Leave a Reply