سارا بوکر

بکنی سے حجاب تک کا سفر

[سارا بوکر ماضی میں امریکہ کی ایک ماڈل ,fitness instructor اور activist تھیں۔اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں مزید جاننے کے لیے انہوں نے دس سال مصر میں رہائش اختیار کی جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے ملک امریکہ واپس لوٹ گئیں۔ انھوں نے Miami کی خوبصورت lifestyle کو خیرباد کہہ دیا اور California میں ایک اسلامی ادارے سے وابستہ ہیں۔]

سارا بوکر امریکہ کے ایک بڑے اور خوبصورت شہر میں پلی بڑھی۔ عام امریکی لڑکیوں کی طرح میری زندگی کا محورو مقصد بھی اپنی نسوانی خوبصورتی کو نکھارنا اور اس پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا تھا۔جوانی میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی میں نے امریکہ کے شہر Florida میں Miami کے ساحل کے قریب رہائش اختیار کرلی۔ میرا لائف اسٹائل لگژری تھا اور میں ایسی زندگی گزار رہی تھی جو یقیناً ہر کسی کا خواب ہوتا ہے۔ Florida جیسے خوبصورت شہر میں ساحل سمندر کے کنارے رہنا،ایک سے ایک خوبصورت اور برانڈڈ لباس پہننا اور نئے نئے اسٹائل اپنانا تاکہ میں اپنی نظروں میں بلند ہوسکوں اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کر کے مقبول ہوسکوں، میرا بھی شوق تھا۔

میں نے وہی کیا جو ہر انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کرتا ہے اور جو شاید ہمیں بچپن سے ہی سکھا دیا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو میں اس لحاظ سے ایک کامیاب زندگی گزار رہی تھی لیکن اس کے باوجود مجھے اپنے اندر ہمیشہ ایک خالی پن سا محسوس ہوتا۔ میں بے چین رہتی اور خوشیاں مجھ سے کوسوں دور رہتیں۔ اپنے اندر کے خلا کو دور کرنے کے لئے میں پہلے سے زیادہ اپنی خوبصورتی پر توجہ دینے لگی۔میں نے ایک سوشل ایکٹیوسٹ بن کر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنا شروع کردیا اور جلدہی اس فیلڈ میں بھی مقام و مرتبہ حاصل کرلیا اور میں بڑی بڑی campaign چلانے لگی۔ ایک انتہائی مصروف اور بھرپور زندگی گزارنے کے باوجود میرے اندر کا خلا بڑھتا رہا۔ اس خلا کو کم کرنے کے لئے میں نے شراب پینا اور meditation لینا شروع کردیا۔

لیکن مجھے جلدہی احساس ہوا کہ یہ سب میرے درد کی وقتی دوا ہے کیونکہ اس کیفیت سے باہر نکلنے کے بعد میں پہلے سے زیادہ تکلیف میں آجاتی ہوں۔ مجھے لگنے لگا کہ انسانی حقوق کے نعرے مخلوق کو مخلوق سے ملانے کا ذریعہ ہیں لیکن خالق کا کہیں ذکر نہیں۔ مجھے لگتا میں فیشن کی غلام ہوں اور میری زندگی کا مقصد لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

میں نے اس اندھیر گلی سے نکلنے کے لئے مختلف مذاہب کے بارے میں جاننا شروع کردیا اور پھر ایک دن مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن مجید کاترجمہ میرے ہاتھ لگا۔ میں اس وقت تک اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صرف اتنا جانتی تھی کہ مسلمان عورتیں ٹینٹ پہن کر گھر سے نکلتی ہیں اور ان کے محرم مرد، باپ، بھائی اور شوہر ان کے ساتھ گھروں میں مار پیٹ کرتے ہیں۔ اسلام کے ساتھ دہشت گردی کا تذکرہ بھی میں نے سن رکھا تھا لیکن جب میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو مجھے ایسا لگنے لگا جیسے مجھے میرے سوالوں کے جواب مل گئے ہوں، میرے دل اور روح کو غذا مل گئی ہو۔ میرے اندر کا خلا کم ہونے لگا۔ میں مسلمان ہوئی اور میں نے اپنا تعلق خالق سے جوڑ لیا۔

میں نے اپنے لئے ایک عبایا اور حجاب خریدا اور جب میں پہلی دفعہ حجاب اور عبایا پہن کر گھر سے نکلی تو مجھے اپنے اندر تک سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔میں نے زندگی میں پہلی دفعہ خالق کی نگاہ میں خوبصورت بننے کے لئے لباس پہنا تھا اور مجھے اب لوگوں کی پرواہ نہیں تھی۔ یہ وہی گلیاں ، محلے اور سڑکیں تھیں جہاں میں پہلے برانڈڈ مغربی لباس اور bikini(سوئمنگ ڈریس) پہن کر گھوما کرتی تھی۔ میں بکنی پہن کر گھومنے کو خواتین کی آزادی کا نشان سمجھتی تھی لیکن مجھے اب سمجھ آرہا تھا کہ آزادی کیا ہے۔ میں ساری زندگی جس لگژری لائف اسٹائل کے پیچھے بھاگتی رہی تھی اس میں نہ خوشی تھی نہ سکون تھا۔ سکون تو اللہ کی رضا حاصل کرنے میں تھا نا کہ لوگوں کی نگاہ میں اچھا بننے میں ۔میں ابھی بھی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرتی ہوں لیکن میں اب حجاب کو خواتین کی آزادی سمجھتی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ ہر مسلمان عورت آزادی کے ساتھ اپنا حجاب پہن سکے۔ عورت کوئی شوپیس نہیں اور اس کی زندگی کا مقصد خوبصورت دکھائی دینا نہیں۔ مجھے اب یہ بات سمجھ آچکی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر مسلمان عورت حجاب کی قیمت کو سمجھے اور اسلام کی دعوت دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے کام کرے۔

یہ بھی پڑھیں!

شرک کے اندھیروں سے توحید کی روشنی تک

ثریا اسلام کی آغوش میں

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے !

کرن کرن روشنی

شیئر کیجیے
Default image
فاطمہ احمد

Leave a Reply