قرآن اور صدقہ کی تمثیل

’’حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلند آواز سے تلاوت کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ علی الاعلان صدقہ کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا خاموشی کے ساتھ صدقہ کرنے والے کے مثل ہے۔‘‘(ترمذی، ابواب فضائل القراان، باب بغیر عنوان)

قرآن مجید کی تلاوت کرنا کارِ ثواب ہے، قرآن مجید کا نزول انسانیت کی دنیوی و اخروی فلاح و بہبود کے لیے ہوا ہے۔ اس کا سمجھنا، غوروفکر کرنا اور تدبر سے کام لینا امتِ مسلمہ کا فرض ہے۔ اس پر غوروفکر کیے بغیر کماحقہ اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خود قرآن مجید بار بار غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس سے انسان کا ذہنی ارتقاء ہوتا ہے۔ پوری کائنات اور ذاتِ باری کی حقیقت کا بھی اس کو علم ہوتا ہے۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی فہم کا اظہار کرنے والا علی الاعلان صدقہ کرنے والے کی طرح ہے کہ علی الاعلان صدقہ کرنے سے دوسروں کو بھی اس کی طرف رغبت ہوتی ہے، دوسروں کے اندر بھی انفاق کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسی طرح فہم قرآن کا اظہار کرنے سے دوسرے بندوں کے اندر بھی فہمِ قرآن کا جذبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ جب قرآن مجید انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے تو اس سے رہنمائی کیوں نہ حاصل کی جائے۔

اس حدیث کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ خاموشی کے ساتھ صدقہ دینا اس اعتبار سے افضل ترین عبادت ہے کہ اس سے انفاق کرنے والے کے دل میں ریا و نمود کا کوئی شائبہ نہیں آتا۔ ایسا صدقہ سراپا خلوص ہوتا ہے، لینے والے کے دل میں بھی کسی طرح کی کوئی خفت و شرمندگی نہیں ہوتی، اسی طرح خاموشی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے والا یا اس پر غوروفکر کرنے والا اپنے کام میں مخلص ہوتا ہے، اس کے اندر فہم قرآن کا غلط کبر و غرور پیدا نہیں ہونے پاتا، وہ نہایت خاموشی کے ساتھ کتاب اللہ سے تعلق قائم کرکے اپنے رب سے رشتہ استوار کرلیتا ہے۔ اس طرح قرآن مجید پڑھنے والا اور صدقہ کرنے والا اجر سے نوازا جاتا ہے۔

حدیث کے اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ حالات اور وقت کی مناسبت سے کبھی صدقہ علی الاعلان دینا موزوں ہوتا ہے تو کبھی نہایت خاموشی کے ساتھ دینا مفید ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کبھی بآواز بلند پڑھنا بہتر ہوتا ہے تو کبھی خاموشی کے ساتھ۔ البتہ اتنی بات واضح ہے کہ با آواز بلند قرآن پڑھنے سے اس پر غوروفکر نہیں کیا جاسکتا ہے، جب کہ قرآن مجید کے نزول کا یہی مقصد ہے، اس لیے ایسا طریقہ استعمال کرنا چاہیے جس سے مقصد پورا ہوتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں!

اعضاء کی گواہی

صبر اور شکر سراسر خیر ہے

تکبر کیا ہے؟

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسلام عمری

Leave a Reply