عزم و ہمت کی ایک کہانی

نہیں! مجھے آپ کی پیش کردہ امداد نہیں چاہیے۔‘‘ کہہ کر وہ بے اعتنائی سے چل دی۔

اس کے یہ الفاظ سن کر میں حیران و پریشان کھڑی رہ گئی۔ میں سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہی لڑکی ہے جس کے بارے میں میں نے اہلِ محلہ سے سنا تھا کہ وہ بہت مشکل حالات میں اپنے خاندان کی کفالت کررہی ہے۔

میں جہاں کام کرتی ہوں وہ ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ ہے جس کا مقصد دکھی انسانیت، خاص طور پر بوڑھے، لاچار ضرورت مند لوگوں کی خاموش خدمت ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ ایسے بے وسیلہ طلبہ کی مالی اعانت بھی کرتا ہے جو اعلیٰ تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ مجھے اپنے ادارے کی طرف سے ایک ذمہ داری تفویض کی گئی کہ میں اپنے ارد گرد ایسے خاندان تلاش کروں جنھیں کرونا جیسی وبا نے فاقے کرنے پر مجبور کردیا مگر وہ ہرحال میں اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

میں نے اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو کچھ گھرانے ایسے نظر آئے جو زبان سے تو اپنی تنگدستی کا اظہار نہیں کرتے مگر ان کے حالات اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ انھیں مشکل کی اس گھڑی میں مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے ان میں سے ایک گھر کا انتخاب کیا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنچانے چل پڑی۔ سننے میں آیا تھا کہ ایک ایسا خاندان ہے جسے ایک لڑکی چلا رہی ہے اور وہ کسی سے مدد لینا بھی پسند نہیں کرتی۔ وہ اکیلی ہی اپنے گھر کی کشتی کی پتوار تھامے تند وتیز تھپیڑوں کا مقابلہ جوانمردی سے کررہی ہے۔ وہ زارا تھی۔

میں پورے راستے عجیب گومگو کا شکار رہی کہ پتا نہیں میرے پوچھنے پر اس کا ردِ عمل کیا ہو؟ کیا وہ میری پیش کردہ امداد لینے کے لیے تیار ہوجائے گی؟ دل کہتا کہ وہ مصیبت میں ہے، ضرور لے گی۔ دماغ کے کسی کونے میں یہ خیال بھی ابھرتا کہ اس نے آج تک اپنی انا اور خودداری کا بھرم قائم رکھا، کہیں میری پیشکش پر ناراض نہ ہوجائے۔انھی سوچوں میں غلطاں چلی جارہی تھی کہ اس کا گھر آگیا۔ میں نے اپنی سوچیں دماغ سے جھٹک کر دروازے پر دستک دی اور ایک نو سالہ بچی نے دروازہ کھولا اور مجھے ایک چھوٹے مگر صاف ستھرے اور سلیقے سے سجے کمرے میں لے آئی۔ گھر کی حالت گو غربت کا پتا دے رہی تھی مگر کمرے میں رکھے ایک پرانے سے صوفے پر پڑے سفید کروشیے کے غلاف اس گھر کی خواتین کی نفاست کی کہانی سنا رہے تھے۔ میں صوفے کے ایک کونے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ میرے سامنے زارا کا سراپا گھوم رہا تھا۔ ستواں ناک میں چمکتی لونگ کسی کے بھی دل میں محبت جگا سکتی تھی۔ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، کالی سیاہ آنکھیں جن میں ہیرے کی سی چمک ایک الگ ہی کہانی بیان کررہی تھی۔ لمبے گھنگھریالے بال اس کے کندن جیسے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھے۔ چھریرا بدن جس پر چار بچوں کی پیدائش نے بھی کوئی خاص فرق نہیں ڈالا تھا، لیکن وہ تھی کہ بھرپور جوانی میں جوگ لیے بیٹھی تھی۔ میں کافی دیر اس کے بارے میں سوچتی رہی لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا تو میں نے سر جھٹک دیا۔

مجھے انتظار کرتے کافی دیر ہوچکی تھی۔ جب زارا نہ آئی تو میں نے آگے بڑھ کر دورازے کا پٹ ذرا سا کھول کر دیکھا۔ سامنے والا منظر میرے لیے بہت حیران کن تھا۔ ایک عمر رسیدہ عورت چارپائی پر نڈھال پڑی تھی جبکہ زارا اس خاتون کے بلڈ پریشر کا جائزہ لے رہی تھی۔وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور کمرے میں داخل ہوگئی۔ زارا نے بتایا کہ یہ عورت اس کی ساس ہیں جو ایک طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ اس نے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں چارپائی کے پاس پڑی ہوئی لکڑی کی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی۔زارا نے اپنی ساس کا بلڈ پریشر چیک کیا، شوگر کی ریڈنگ لی، انھیں دوا دی اور پھر میری طرف پلٹی۔

معاف کیجیے گا! اماں کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی، اس لیے آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی۔ آئیے بیٹھک میں چلتے ہیں: ’’یہ کہہ کر وہ میرے آگے آگے چل پڑی۔‘‘

اس دو منزلہ مکان کے کونے کونے سے غربت ٹپک رہی تھی۔ پرانی عمارت کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا اور مرمت کا تقاضا کررہا تھا۔ دو سال سے آٹھ سال تک کی عمر کی تین بچیاں انتہائی سادہ سی فراک پہنے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی کھیل رہی تھیں۔ داخلی دروازے کے پاس ہی باورچی خانہ تھا جہاں معمولی سے لباس میں ملبوس اٹھائیس انتیس سال کی ایک کمزور، زرد رنگت مگر پیاری سی لڑکی برتنوں کو یہاں سے وہاں رکھ رہی تھی۔ بعد میں پتہ چلا وہ زارا کی بڑی نند تھی جو پیدائشی طور پر ابنارمل تھی۔ میں ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے بیٹھک میں داخل ہوگئی۔ اس نے مجھے بیٹھنے کااشارہ کیا اور خود بھی میرے برابر بیٹھ گئی۔ میں نے اس کی خیریت دریافت کی تو وہ یک دم افسردہ ہوگئی۔ مہمان نوازی کی پرتپاک مسکراہٹ کی جگہ گمبھیر اداسی نے لے لی۔ میں اسے دکھی دیکھ کر پریشان ہوگئی۔

زارا! کیا بات ہے؟ تم اداس کیوں ہوگئیں؟ سب خیریت ہے ناں؟

میرے استفسار پر وہ کہنے لگی: ’’آج کل اماں کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی ہے۔ ان کا بائی پاس آپریشن ہوچکاہے۔ بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول میں نہیں آرہے۔ ادھر شہر میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے میں انھیں ڈر کے مارے کسی ہسپتال میں نہیں لے جاپارہی اور اس پر مستزاد یہ کہ شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سواری ملنا بھی بہت مشکل ہے۔بہرحال، آپ بتائیں، خیریت سے تشریف لائی ہیں؟

میں بات شروع کرنے کے لیے الفاظ تلاش کرنے لگی۔

میں نے گھر میں داخل ہوتے ہی تمہارے حالات کا اندازہ لگالیا۔ تم بہت مشکل میں ہو، لہٰذا میری بات غور سے سننا اور ناراض نہ ہونا۔ میرا مقصد تمہاری دل آزاری نہیں، انسانیت کے ناطے صرف مدد کرنے کا ارادہ لے کر آئی ہوں۔

دراصل میں ایک ایسے ادارے میں کام کرتی ہوں، جو طویل عرصے سے آپ جیسے سفید پوش خاندانوں کی انتہائی خاموشی سے مدد کرنے میں مصروف ہے۔ کرونا کی وجہ سے ملک میں بڑھتی ہوئی تنگدستی کو دیکھتے ہوئے میرے ادارے نے لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور میری ڈیوٹی لگائی کہ میں اپنے علاقے میں ایسے خاندان تلاش کروں جو واقعی حق دار ہیں، لیکن ان کی خودداری انھیں ہاتھ پھیلانے نہیں دیتی۔

میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے اپنے خاندان کے کوائف سے آگاہ کریں تاکہ ہم آپ کی پریشانی کم کرسکیں۔

میں نے اپنی بات مکمل کرکے اس کی طرف دیکھا لیکن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اب میرے سامنےایک نرم و نازک لڑکی نہیں بلکہ عزم و ہمت کی ایک چٹان کھڑی تھی، جس کے منہ سے نکلنے والے فقرے اس کے متعلق لوگوں سے سنی باتوں کی تائید بھی کررہے تھے۔ مجھے اس کے الفاظ نے گنگ کردیا۔ وہ کہہ رہی تھی:

’’ثمینہ میں آپ کی اور آپ کے ادارے کی بے حد شکر گزار ہوں کہ آپ نے ہمارے بارے میں سوچا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جب میںخود کما کر اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرسکتی ہوں تو پھر اپنی انا اور خودداری کو کرونا کی بھینٹ کیوں چڑھاؤں؟ یہ ایک وقتی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اس بات کافیصلہ کرنے کے لیے کہ ہم میں سے کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون ان مصائب سے گھبرا کر ہمت ہار جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ دنیا میں جوبھی مخلوق ہے اللہ اسے رزق یقینا دے گا تو پھر واویلا کیسا؟ میرا اپنے رب پر کامل بھروسہ ہے کہ وہی ہماری مشکلیں آسان کرے گا۔ لہٰذا میں اپنے رب کے علاوہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی۔ جس دن میں نے ایسا کیا وہ میری خودداری کا آخری دن ہوگا۔

میں معذور نہیں، لاچار نہیں اور بیمار بھی نہیں۔ اللہ کا مجھ پر بڑا کرم ہے۔ کیا ہوا جو میں یتیم ہوں۔ میرے اللہ نے میرے ناتواں کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال رکھی ہے۔ پھر کیا ہوا جو میرے گھر میں کمانے والا کوئی ’مرد‘ نہیں اور کیا ہوا جو میرے گھر میں دو مستقل مریض خواتین ہیں۔ میں گھبرانے والوں میں سے نہیں۔ میں جوان ہوں، تعلیم یافتہ ہوں۔ میرے اللہ نے مجھے تندرست و تواناہاتھ پاؤں سے نوازا اور سب سے بڑی بات مجھے خودداری اور قناعت کی دولت سے مالا مال کیا۔ اللہ بھی اسی پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالتا ہے جو ان کو اٹھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ میں اپنے آپ کو اس قدر خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان ذمہ داریوں کے لیے میرا انتخاب کیا۔ آپ ان لوگوں کی مدد کیجیے جو اس کے صحیح حقدار ہیں، جن کا کوئی آسرا اور کوئی کمانے والا نہیں۔ میرے لیے میرا اللہ کافی ہے۔ وہ ہمیشہ، ہر مشکل میں میرے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے اگر مانگنا ہے تو صرف اپنے پروردگار سے۔‘‘

میں حیران و پریشان اس ہمت و حوصلے سے بھرپور لڑکی کو دیکھ رہی تھی جس کی جیب میں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی آنکھوں میں یقین کے چراغ جل رہے تھے۔

زارا مجھے پتا ہے کہ آپ بہت خوددار ہیں اور میں بھی ایک خوددار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میں نے بھی کبھی کسی کی مدد لینا گوارا نہیں کیا لیکن میں آپ جیسی بہادر خاتون کی کہانی لکھنا چاہتی ہوں تاکہ وہ خواتین جو اپنی انا اور خودداری کو تج کر گھناؤنے کام کرنے پر مجبور ہوجاتی یا معاشرے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں آپ کی کہانی پڑھ کر اپنی زندگی نئے عزم سے شروع کریں اور معاشرے کے لیے ایک مثال بن کر ابھریں۔

میرے بے حد اصرار پر وہ اپنی کہانی سنانے کے لیے تیار ہوگئی۔اس نے اپنی کہانی کا آغاز کچھ اس طرح کیا ’’میرے والد ایک انتہائی پسماندہ گاؤں گنگاپور کے رہنے والے تھے۔ اس کی تاریخ کچھ اس طرح ہے کہ ایک زمیندار ہندو گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام گنگا رام رکھا گیا۔ اس کی تعلیم و تربیت پرخصوصی توجہ دی گئی۔ وقت گزرتا گیا اور یہ بچہ ایک ذہین انجینئر بن کر ابھرا۔ ترقی کرتے کرتے وہ مجسٹریٹ مقرر ہوا۔ اسے سر کا خطاب ملا تو وہ سر گنگا رام کے نام سے مشہور ہوگیا۔ چونکہ اس کی پیدائش ایک پسماندہ علاقے میں ہوئی تھی، اس لیے اپنے علاقے کی فلاح و ترقی کے بارے میں سوچتا رہتا۔ چونکہ وہ ایک کامیاب انجینئر تھا لہٰذا اس نے اپنے علاقے کی بنجر زمین استعمال میں لانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے اس نے انگریز حکومت سے سو ایکڑ زمین کرائے پر لی اور ایک گاؤںآباد کیا جس کا نام اس نے اپنے نام پر ’’گنگا پور‘‘ رکھا۔ اب گاؤں کو ماڈل ولیج بنانے کے لیے پانی کی ضرورت تھی۔ کیونکہ گنگا پور کی نہر سطح زمین سے نیچے اور اس کا رقبہ نہر کی سطح سے بہت بلند تھا۔ سر گنگا رام نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ حکومت برطانیہ سے اجازت لے کر انجن امپورٹ کیا۔ چونکہ گنگاپور میں آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہ تھا، لہٰذا اس انجن کو گاؤں تک پہنچانے کے لیے ایک خاص قسم کر ٹرانسپورٹ بنائی گئی۔

گنگا رام نے بچیانہ سے گنگا پور تک ریلوے لائن کی طرز پر ایک چھوٹی پٹری بچھائی اور ٹرالی چلاکر اس کے ذریعے یہ انجن گنگا پور پہنچایا گیا۔ اس انجن کی بدولت گنگاپور کی زمین سیراب کی گئی۔ اس علاقے کی زمین اتنی زرخیز ہے کہ اس پر جو فصل کاشت کی جائے، وہ اعلیٰ معیار کی حامل ہوتی ہے۔ اس بنجر زمین کو سیراب کرکے زیر کاشت لانے کا تجربہ اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ اس نے حکومت برطانیہ میں ہلچل مچادی۔ پوری دنیا سے لوگ اس جدید گاؤں کو دیکھنے آنے لگے۔ جب تک سر گنگا رام زندہ رہے انھوں نے گنگا پور کو اپنی رہائش گاہ بنائے رکھا۔ اس کے بعد یہ علاقہ پھر روایتی دیہہ میں شامل ہوگیا۔

وہی پرانی روایات، فرسودہ رسوم و رواج اور انتہائی تنگ نظر سوچ۔ اس علاقے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا گناہ سمجھا جاتا لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ سوچ تبدیل ہوتی گئی اور آج گنگا پور میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں لڑکی تعلیم یافتہ نہ ہو۔

میرا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔ والد کی اسی دیہاتی ماحول میں تربیت ہوئی اور تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی خاص ذریعۂ معاش بھی نہ تھا۔ وہ چھوٹے موٹے کام کرکے گھر چلارہے تھے۔ والدہ انتہائی دیندار اور گھریلو خاتون تھیں۔ ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔

میرے گاؤں میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا گناہ سمجھا جاتا تھا لیکن ان پڑھ ہونے کے باوجودمیرے والد صاحب کو ہم سب بہن بھائیوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا۔ اپنے والد کی یہ خواہش صرف میں نے پوری کی۔ میرے سب بہن بھائیوں نے واجبی سے تعلیم حاصل کی جبکہ میرا مشن کچھ اور تھا۔ سب بہنوں کی شادیاں قریبی عزیزوں میں ہوگئیں تو والدہ کو میری شادی کی فکر لاحق ہوئی۔

اس دوران میں نے میٹرک اعلیٰ نمبروں سے پاس کرلیا تھا۔ اب میں قریبی شہر جاکر مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن میری والدہ مجھے لڑکی ہونے کی وجہ سے دور جانے نہیں دینا چاہتی تھیں۔ میں نے والد صاحب سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ فوراً راضی ہوگئے اور میں نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ زندگی کی گاڑی آہستہ آہستہ چلتی رہی۔ میرے گھر میں اول دن ہی سے بھوک اور غربت کا ڈیرہ تھا لیکن میرے والد نے ہم سب بہن بھائیوں کی تربیت ایسی کی کہ ہمیںاپنی غربت سے کبھی کوئی شکوہ نہیں ہوا۔ میں نے دورانِ تعلیم ہی اپنے سے چھوٹی کلاس کی بچیوں کو ٹیوشن دینا شروع کردی اس لیے مجھے اپنے کالج کے اخراجات کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہونا پڑا اور یوں میں نے بی اے میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔

اب میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن گھر والے خصوصاً والدہ چاہتی تھیں کہ میں اس خواہش سے دستبردار ہوکر شادی کے لیے حامی بھرلوں۔ ابھی میں اسی شش و پنج میں تھی کہ ایک دن والد صاحب کو دل کا دورہ پڑا اور وہ ہم سب بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔

میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اور غیر شادی شدہ تھی اور جب سر پر والد کا سایہ بھی نہ رہا تو والدہ اور میں خاندان والوں کے سامنے بے بس ہوگئیں اور یوں شہر میں رہائش پزیر میرے بڑے چچا کے بیٹے جنید سے والد کے چہلم پر ہی خاموشی سے میرا نکاح کردیا گیا اور میں نکاح کے بعد یہا ںآگئی۔

یہاں میری ایک الگ ہی زندگی شروع ہوئی۔ سسرال کی ایسی بہت سی باتیں جو دور رہنے کی وجہ سے ہم سب کے علم میں نہیں تھیں، اب سامنے آنے لگیں۔ میرے شوہر اپنے گھر کے واحد کفیل تھے اور کوئی خاص ذریعۂ معاشبھی نہ تھا۔سسر صاحب کا عرصہ پہلے انتقال ہوچکا تھا۔ گھر میں ایک معذور بہن، ایک بیمار ساس اور میرے شوہر تھے۔ باقی تین نندیں اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں۔

زندگی ایک نئی ڈگر پر رواں دواں تھی۔ اللہ نے مجھے یکے بعد دیگرے چار بچوں سےنوازا، جن میں ایک لڑکا اور تین لڑکیاں تھیں۔ میرے شوہر ڈرائیور تھے اور تعلیم بھی واجبی سی تھی۔ میرے والد نے چونکہ بچپن ہی سے قناعت کی عادت ڈالی تھی، اس لیے یہ سب بھی چپ چاپ سہہ لیا لیکن دل کے کسی کونے میں مزید تعلیم حاصل کرنے کی خواہش اکثر چٹکیاں لیتی لیکن دور دور تک یہ خواہش پوری ہونے کے امکانات نظر نہ آتے۔

چونکہ میں ایک طویل عرصے تک معلمی کے پیشے سے وابستہ رہی تھی اور اپنی ساری تعلیم کے اخراجات میں نے خود ہی برداشت کیے تھے اور یہ بھی جانتی تھی کہ میرے شوہر اپنی کم آمدنی میں بچوں کو وہ تعلیم نہیں دلواسکیں گے جو میرےخواب تھے، اس لیے میں دن رات اپنے بچوں کے بارے میں سوچتی رہتی۔

گھر میں بیمار ساس، معذور نند اور چھوٹے بچوں کی وجہ سے میں گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی تھی لیکن مجھے کچھ کرنا تھا، کیا؟ یہ میں نہیں جانتی تھی۔

ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں گھر میں دوبارہ سے ایک ٹیوشن سینٹر کھول لوں؟ اس سے ایک تو میرے اندر اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرنے کی تشنگی پوری ہوجائے گی اور دوسرے میں اپنے شوہر کی مدد بھی کرسکوں گی تاکہ ہم دونوں نہ صرف مل کر گھر چلا سکیں بلکہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم بھی دلواسکیں۔

میرے سسر کا ہم سب پر ایک بہت بڑا احسان یہ ہے کہ انھوں نے اچھے وقتوں میں جمع جوڑ کرکے ایک گھر بنالیا تھا۔ میں نے اپنے اس ارادے کا ذکر شوہر سے کیا۔ پہلے تو وہ نہیں مانے لیکن جب میں نے انھیں آنے والے وقت کی سنگینی کا احساس دلایا تو وہ راضی ہوگئے۔ یوں میں نے اپنے گھر کی اوپر والی منزل کا سامان سمیٹا اور اسے اکیڈمی میں تبدیل کردیا۔

رفتہ رفتہ چھوٹے بچے آنا شروع ہوگئے اور مجھے اپنا خواب جو میں نے اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں دیکھ رہی تھی، پورا ہوتا نظر آنے لگا۔

یہاں تک اپنی کہانی سنانے کے بعد زارا ایک دم خاموش ہوگئی اور اس کی آنکھیں نمی سے بھرگئیں۔ میں خاموش بیٹھی اس کے دوبارہ بولنے کا انتظار کررہی تھی۔ وہ کچھ دیر چپ چاپ آنسو اپنے اندر اتارتی رہی پھر گویا ہوئی:

یہ جنوری کی ایک بھیگی ہوئی شام تھی۔ میرے شوہر جنید کو فون آیا کہ ہوائی اڈے سے ایک صاحب کو لے کر کسی جگہ چھوڑنا ہے۔ سخت سردی کی راتیں تھیں اور سرشام ہی دھند نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس دن میرے دل میں ایک دھڑکا لگا ہوا تھا۔ عجیب طرح کے وسوسے دل کو گھیرے ہوئے تھے۔ میں نے شوہر سے ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ مبادا وہ بھی پریشان ہوجائیں۔ وہ اپنے مقررہ وقت پر رات دو بجے کے قریب گھر سے آٹو رکشا لے کر ہوائی اڈے روانہ ہوئے اور میں دوبارہ بستر میں دبک گئی۔ سردی بھی آج اپنا آپ منوا رہی تھی۔ میں نے ایک مرتبہ پھر رب سے ان کی زندگی کی دعا کی اور نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔

مجھے سوئے ابھی دو گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ سرہانے رکھا ہوا فون بج اٹھا۔ بے وقت فون کی گھنٹی نے مجھے لرزا دیا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا۔

’’ہیلو! یہ جنید احمد کا گھر ہے؟‘‘

’’جی۔‘‘

’’ان کے آٹو رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور وہ اس وقت سروسز ہسپتال کے آئی سی یومیں ہیں۔ آپ جلدی سے آجائیں۔‘‘

یہ سننے کے بعد مجھے نہیں پتا کہ میں کب اور کیسے وہاں پہنچی؟ بس اتنا یاد ہے کہ میری دنیا اندھیر ہوچکی تھی۔ مجھے نہیں پتا کہ کب جنید کی میت گھر آئی اور کب انھیں دفنایا گیا؟ بس اتنا یاد ہے کہ اب گھر اپنے اکلوتے سربراہ سے محروم ہوچکاتھا۔ گھر کے واحد کفیل کا آٹو رکشا بھی چکنا چور ہوچکا تھا۔ جب میں اپنے حواس میں واپس آئی تو پتا چلا کہ تجہیز وتکفین کے اخراجات اہلِ محلہ نے ادا کیے لیکن عزیز واقارب کی آمدو رفت اور مہمان داری کا بوجھ اب مجھ پر ہی آن پڑا تھا۔ میں نے کسی نہ کسی طرح یہ اخراجات محلے کے ایک گھر سے قرض لے کر ادا کیے۔

رشتے دار اپنے گھر کو لوٹ چکے تھے۔ گھر میں اب میں، میرے چار بچے، ساس اور نند پہاڑ سی زندگی سر کرنے کے لیے باقی بچے تھے۔ ہر ایک کو خوراک، لباس، دوائیاں الغرض ہر قسم کی ضروریاتِ زندگی درکار تھیں لیکن کچھ پس انداز نہ تھا۔ اہلِ محلہ بھی افسوس کرکے جاچکے تھے۔

اب میں تھی، میری لامتناہی سوچیں اور بے رحم زندگی۔ بہت دن سوچنے میں بسر کیے لیکن جب گھر کے باورچی خانے میں رکھا راشن کا آخری ڈبہ بھی منہ چڑانے لگا تو دل نے یک دم ہی فیصلہ کرلیا۔ ایک اٹل اور مضبوط فیصلہ۔

اگلی صبح، میرے فیصلے کی پہلی صبح تھی۔ ایک نیا جوش، ایک نیا ولولہ، میں نے ساس سے مشورہ کیا اور اپنے مشن پر نکل کھڑی ہوئی۔ وہ اکیڈمی جو صرف چھوٹے بچوں پر مشتمل تھی، اب آہستہ آہستہ اس میں بڑی جماعتوں کے بچے بھی آنا شروع ہوگئے اور میری زندگی کی گاڑی ایک نئی ڈگر پر چل پڑی۔

اکیڈمی کو کامیاب بنانے میں اہلِ محلہ نے میری بہت مدد کی۔ شروع شروع میں سارے محلے داروں نے میری مالی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن میرا دل اس پر آمادہ نہ ہوا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے صدقے خیرات پر پلیں۔ جب میں زندہ اور تندرست ہوں تو اپنی زندگی کی گاڑی کو خود چلانے کی کوشش کیوں نہ کروں؟ ہاں! میں نے ان سے اتنا ضرور کہا کہ اگر آپ میری مدد کرنا ہی چاہتے ہیں تو اکیڈمی چلانے میں میری مدد کردیا کریں۔ اپنے بچے میرے پاس بھیجیں۔ میں سخت محنت کروں گی اور آپ کے بچوں کو اچھی تعلیم دوں گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ انھیں میری بات سمجھ میں آگئی۔ میری اکیڈمی نے اچھا رزلٹ دینا شروع کردیا۔ میں اپنے بچوں کی فیس بھی ادا کررہی تھی۔ ساس اور نند کی دواؤںکا خرچ بھی پورا ہونے لگا تھا اور ہم اچھی زندگی بھی گزارنے لگے۔

یہاں آپ کو ایک اچھی خبر سناؤں، میری خواہش تھی کہ میں مزید تعلیم حاصل کروں۔ اس مقصد کے لیے میں نے اوپن یونیورسٹی سے ایم اے پارٹ ون کا امتحان بھی دے دیا ہے۔ آپ دعا کریں اللہ مجھے کامیاب کرے۔ آمین!

’’زارا تم واقعی ہمت والی خاتون ہو لیکن یہ پہاڑ جیسی زندگی اکیلے کیسے اتنے بڑی ذمہ داری کو لے کر چل پاؤگی؟ تم جوان اور خوبصورت ہو۔ تمہیں جلد یا بدیر ایک ساتھی کی ضرورت محسوس ہوگی اور ویسے بھی ہمارا معاشرہ اکیلی عورت کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔‘‘

’’جی میں آپ کا مطلب سمجھ گئی لیکن آپ خود سوچیں، میں اکیلی نہیں، بھرا پرا گھر ہے، بچے ہیں۔ انشاء اللہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیںگے۔ میں نہ صرف اپنے بیٹے بلکہ تینوں بیٹیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلواکر معاشرے پر یہ ثابت کردوں گی کہ ضروری نہیں صرف مرد ہی گھر چلاسکتے ہیں۔ اب عورتیں بھی ہر قسم کے کام اور ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کررہی ہیں اور اپنے خاندان کی کفیل ہیں۔‘‘

’’پورے ملک میں کرونا وائرس اپنے پنجےگاڑے بیٹھا ہے۔ ان حالات میں آپ کی اکیڈمی بھی گزشتہ دو ماہ سے بند پڑی ہے۔ ہر کوئی معاشی تنگدستی میں مبتلا ہوچکا۔ آپ اپنے گھر کے معاملات کیسے چلائیں گی؟‘‘ میرے اس سوال پر وہ مسکرائی اور بولی:

’’میں آج آپ کو ایک بڑے راز کی بات بتاتی ہوں۔ جو لوگ مانگنے کے عادی ہوجاتے ہیں ان کی غربت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آپ اپنے اندر خودداری کی شمع روشن کرکے دیکھیں، یقین جانئے اللہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا کیونکہ اللہ نے آپ کو جو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے وہ ہر صورت مل کر رہے گا۔ چاہے اسے آپ اللہ سے مانگ لیں یا پھر لوگوں سے۔ تو پھر میں اپنے رب سے کیوں نہ مانگوں؟‘‘

زارا کی باتوں نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ میں اپنے رب پر اپنا ایمان مزید مضبوط کرتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔

(اردو ڈائجسٹ، لاہور سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
ثمینہ ملک