مجید کہاں بنولوں میں!

بیماریوں کا کون شکار نہیں ہوتا، ان میں ایک بڑی بیماری یہ ہے کہ انسان نیند میں اٹھ کر چلنے پھرنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر اور حکیم، سب مانتے ہیں کہ واقعی وہ سویا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت اسے بالکل ہوش نہیں ہوتا۔ مگر یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ وہ آدمی کہیں گرتا ہے نہ کسی چیز سے ٹکراتا ہے۔ بارہا لوگوں نے دیکھا ہے کہ ایسا مریض مکان کی منڈیر پر سیدھا چلنے لگتا ہے لیکن کیا مجال جو اس کا ایک قدم بھی ادھر ادھر پڑے اور وہ گرجائے۔ اگر وہ نیند میں نہ ہوتا، تو کبھی منڈیر پر اس طرح بے دھڑک نہیں چل سکتا تھا۔
یورپ میں بھی اس مرض کے بہت بیمار ہیں۔ اخباروں اور رسالوں میں روزانہ ان کے قصے چھپتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی نے بتایا ’’چند روز تک میرے کوٹ کی جیب سے ڈالر متواتر چوری ہوتے رہے۔ رات کو میں اپنا کوٹ کھونٹی پر ٹانگ کر سوجاتا اور جب صبح اٹھ کر دیکھتا تو کوٹ کی جیب سے ڈالر غائب ہوتے۔
میںبہت حیران تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ میںفلیٹ میں تنہا رہتا ہوں، بیوی ہے نہ بچے نہ ملازم، تو پھر رات کو کون سا چور آتا اور میرے ڈالر چرا لے جاتا ہے؟ میں نے آس پڑوس والوں سے بات کی، وہ بھی یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔ آخر ایک رات یہ راز کھل گیا۔ میرے فلیٹ کے پچھلی طرف ایک باغیچہ تھا۔ اس رات ایک آدمی نے مجھے نیند سے بیدار کیا۔
دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک چھری ہے اور میں باغ کے کونے میں بیٹھا گڑھا کھود رہا ہوں۔ جس آدمی نے مجھے نیند سے بیدار کیا وہ میرا پڑوسی اور دوست تھا۔ اسے وہاں دیکھ کر اور اپنے آپ کو باغیچے میں پاکر میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ میں باغیچے میں کس طرح آگیا اور چھری سے گڑھا کھودنے کا کیا مطلب؟
جب پڑوسی نے میرے سامنے وہ گڑھا اچھی طرح کھودا، تو اس میں سے وہ تمام ڈالر مل گئے جو کئی روز سے چوری ہورہے تھے۔ میرے دوست نے ڈالر میری جھولی میں ڈالے اور مجھے اپنے فلیٹ پہنچا دیا۔
جب میرے اوسان بحال ہوئے، تو مجھے بتایا، میں ڈاکٹری پڑھ رہاہ ہوں، جب آپ نے مجھے اس عجیب و غریب چوری کا حال بتایا، تو مجھے شک گزرا کہ آپ کو سوتے میں چلنے کی بیماری ہے اور آپ اپنے چور خود ہی ہیں۔ میں نے صرف علم حاصل کرنے کے لیے آپ کے معاملے کی تفتیش شروع کردی۔
آج میں اپنے کمرے میں جاگ رہا تھا کہ آپ کے دروازے سے مجھے کسی کی آہٹ سنائی دی۔میں جلدی سے اٹھ کر باہر نکلا۔ دیکھا کہ آپ ایک ہاتھ میں چھری اور دوسرے ہاتھ میں کچھ ڈالر لیے باہر نکلے۔ میں سامنے ہی کھڑا تھا مگر آپ نے مجھے نہیں دیکھا۔ میں آہستہ آہستہ آپ کے پیچھے چلنے لگا۔ آپ باغیچے کے ایک کونے میں پہنچے اور آہستہ آہستہ بیٹھ کر ایک گڑھا کھودا۔
ابھی آپ نے ڈالر گڑھے میں نہیں رکھے تھے کہ میں نے آپ کو جھنجھوڑا اور آپ کا نام لے کر آواز دی۔ آپ نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں کہاں ہوں،باغیچے میں کس طرح آیا، آپ یہاں کیاکررہے ہیں؟
دوسرے روز وہ دوست مجھے اپنے کالج کے بڑے ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور انہیں سارا قصہ سنایا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس بیماری کو طبی اصطلاح میں ’سومنا مبولزم‘ (Somnambulism)ك کہتے ہیں جس کا مطلب ہے نیند میں چلنا پھرنا۔ اس کے بعد انھوںنے مجھے نسخہ لکھ کر دیا۔ میں تقریباً چھ سات ہفتوں تک دوا استعمال کرتا رہا۔ آخر صحت یاب ہوگیا اور پھر عمر بھر مجھے ایسی کوئی بیماری نہیں ہوئی۔
اخبار میں یہ قصہ پڑھ کر مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ میری عمر چھ برس کے قریب ہوگی۔ ایک روز والدہ نے گجربھتا (گاجروں کی کھیر) پکایا۔ میں نے ضد کی کہ میں ابھی گجر بھتا کھاؤں گا۔ والدہ نے کہا:
’’بیوقوف، گجربھتا ٹھنڈا ہونے پر کھاتے ہیں، گرم گرم کون کھاتا ہے؟‘‘
میں ضد میں روتے روتے سوگیا۔ آدھی رات کے وقت اچانک میں نیند سے بیدار ہوا۔ مجھے اپنے بستر میں کوئی چیز چبھتی محسوس ہوئی۔ ہاتھ پھیر کر دیکھا تو انکشاف ہوا کہ میں بنولوں کے ٹوکرے میں بیٹھا ہوا ہوں۔ میں نے گھبرا کر والدہ کو آواز دی: ’’امی جی، امی جی۔‘‘
انھوں نے میری آواز سنی، تو پہلے میری چارپائی پر مجھے تلاش کیا۔ بستر خالی دیکھا، تو بلند آواز سے دریافت کیا ’’مجید! تو کہاں بول رہا ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا: ’’یہ ہی بات میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ میں کہاں سے بول رہا ہوں؟‘‘
والدہ ہنسنے لگیں اور بولیں: ’’آخر کچھ تو بتا کہ تو کہاں سے بول رہا ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا: ’’امی! میں بنولوں میں ہوں!‘‘
اس کے بعد والدہ نے آکر مجھے ٹوکرے میں سے اٹھایا اور تھپک تھپک کر سلادیا۔ صبح جب تمام گھر والے اٹھے، تو والدہ نے والد کو یہ قصہ سنایا۔ وہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہنے لگے:’’چور کہیں کا، رات کو گجر بھتا مانگ رہا تھا۔اس نے سوچا ہوگا کہ رات کا وقت ہے، سب سورہے ہیں۔ اس وقت گجر بھتا پر شب خون مارنا چاہیے۔ وہ اندھیرے میں باورچی خانے کے بجائے بنولوں کے ٹوکرے میں گھس گیا، لیکن پکڑا گیا۔‘‘
میں شرم سے روہانسا ہوگیا۔ اتنے میں دادا جان مسجد سے نماز پڑھ کر آگئے۔ انھوں نے یہ واقعہ سنا، تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے:’’یہ ہنسنے کی بات نہیں۔ اگر مجید سوتے میں اٹھ کر چلنے لگتا ہے، تو اس کا علاج کرانا چاہیے۔ یہ بیماری ہے، خدا نہ کرے اگر یہ بڑھ گئی، تو کہیں کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آسکتا ہے۔‘‘
اسی روز والد مجھے علاقے کے مشہور معالج، ڈاکٹر عبدالرحمن کے پاس لے گئے۔ انھوں نے پہلے مجھے جلاب پھر ایک سفوف دیا جس کی مجھے روزانہ چار خوراکیں کھانی تھیں۔ تین چار روز ایک میکسچر بھی پلایا گیا، تب کہیں جاکر میں ٹھیک ہوا۔ مگر گھر میں اس مذاق نے برسوں تک میرا پیچھا نہ چھوڑا:’’مجید کہاں؟‘‘
’’بنولوں میں!‘‘اور یہ میری چڑ بن گئی۔
(مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض)

شیئر کیجیے
Default image
مولانا عبدالمجید سالک