images

قسطوں پر اشیاء کی خرید و فروخت – شرعی پہلوؤں کا جائزہ

آج کل قسطوں پر کاروبار کا چلن بڑھتا جا رہا ہے۔ دکان، مکان، گاڑیاں، مہنگے موبائل، ٹی وی، غرض یہ کہ بے شمار اشیاء ہیں جن کو فروخت کرنے کے لئے اور خریداروں کو لبھانے کے لئے ہر چھوٹی بڑی کمپنیاں مختلف طرح کی اسکیموں کا سہارا لیتی ہیں۔ ان اسکیموں میں مشہور اسکیم EMI کی بھی ہے جس کے تحت تھوڑے پیسے لے کر لمبی مدت تک کے لئے قسطیں بنا کر مہنگی قیمت پر سامان فروخت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آج کل اس طرح کے کاروبار کے رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ مضمون قسطوں (Instalment) پر اشیاء کی خرید و فروخت کا شرعی نظریے سے جائزہ پر مشتمل ہے۔
اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ کیا قسطوں پر کوئی چیز خریدتے وقت دو طرح کی قیمتیں مقرر کی جا سکتی ہیں؟ مثلا بائیک اس شرط پر فروخت کرنا کہ اگر خریدار نقد ادائیگی کرے گا تو ایک لاکھ روپئے قیمت ہو گی، اگر تین سال یا پانچ سال میں ادا کرے گا تو بائیک کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا اور قیمت ایک لاکھ سے بڑھ کر ایک لاکھ چالیس ہزار یا ایک لاکھ پچاس ہزار تک ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں علماء کے دو رائے ہیں۔ علماء کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ اگر اسی مجلس میں قیمت طے کر دی جائیں جس میں خرید و فروخت ہو رہی ہے تو نقد کے بالمقابل قسطوں پر زائد قیمت کی لین دین میں کوئی قباحت نہیں ہے اور یہ عمل جائز ہے، البتہ اگر ایک بار قیمت مقرر کر لی گئی تو اس میں کسی طرح کی کوئی بھی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی ہے، چاہے خریدار ادائیگی میں ٹال مٹول کرے یا تاخیر سے کام لے۔ گویا علماء کے اس طبقے کے نزدیک ادھار میں نقد سے زیادہ پر فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں ادھار اور مدت ادائیگی قیمت وغیرہ کا تعین کر لیا جائے۔ قسطوں کی تاخیر کی صورت میں کوئی اضافی رقم چارج کرنا جائز نہیں ہوگا۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ استعمال کی جانے والی اشیاء (Usable Goods) پر منفعت کا مطالبہ کرنا سود نہیں کرایہ کہلاتا ہے۔ البتہ قرض (Loan) پر منفعت کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، جو قرض پر منفعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ سود کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرض ہمیشہ ذریعہ تبادلہ (Medium of Exchange) یعنی زر کا ہوتا ہے جیسے پیسہ۔ استعمال کی جانے والی اشیاء کو کرایہ پر دینا قرض نہیں ہوتا۔ چنانچہ استعمال کی جانے والی اشیاء کو جب ادھار دیا جائے گا تو استعمال کرنے والا اس کا کرایہ دے گا۔ مثال کے طور پر آپ کسی کو اپنا فلیٹ، دکان یا گاڑی کرایہ پر دیتے ہیں تو آپ کو اس کا کرایہ ملتا ہے ظاہر ہے یہ سود نہیں کہلاتا۔ گویا سود کا تعلق زر اور کرنسی سے ہے- جب کوئی پیسہ دینے والا اپنے پیسے کو کسی شے میں تبدیل کر دیتا ہے یعنی قابل استعمال چیزوں میں بدل دیتا ہے مثلا اگر کوئی کمپنی یا بینک آپ کو بیس لاکھ روپیہ نہیں دیتا بلکہ فلیٹ دیتا ہے یا پانچ لاکھ روپیہ نہیں دیتا بلکہ گاڑی دیتا ہے تو اس نے زر/ پیسے کو قابل استعمال (Usable) شے میں بدل دیا ہے۔ جیسے ہی پیسہ یا کرنسی قابل استعمال شے میں تبدیل ہو جاتی ہے، سود ختم ہو جاتا ہے۔ پھر جو زائد کا لین دین ہوتا ہے وہ اس کے استعمال کا کرایہ ہوتا ہے ۔ اس لئے گاڑی، مکان، پلاٹ اور مشینریز وغیرہ پر جو بھی زائد رقم کمپنی یا بینک چارج کرتا ہے وہ سود نہیں ہے اس لئے جائز ہے۔ یعنی اگر ادھار یا بیع مؤجل کے طور پر Usable یعنی قابل استعمال اشیاء بیچی جا رہی ہیں تو نقد کے بالمقابل ادھار پر زیادہ قیمت میں بیچنا جائز ہے۔ کیونکہ قابل استعمال چیزوں کا کرایہ لینے پر اسلام منع نہیں کرتا۔
ان علماء کا مزید کہنا ہے کہ اگر غور کیا جائے تو یہ ایک احسان اور شفقت کا معاملہ ہے جو استعمال کرنے والے کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نقد کے بالمقابل قسطوں میں خرید و فروخت کرنے سے بیچنے والے اور خریدنے والے یعنی بائع اور مشتری دونوں فائدے میں رہتے ہیں، بیچنے والا اضافی رقم چارج کرنے سے اور خریدنے والا مہلت ملنے کا فائدہ اٹھانے سے۔علماء کا دوسرا طبقہ نقد کے بالمقابل قسطوں پر زائد قیمت لینے کو ناجائز اور حرام سمجھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں فائنانس دو طرح کا ہوتا ہے ایک کو خالص لیز (Pure Lease) اور دوسرے کو لیز فائننسنگ (Lease Financing) کہتے ہیں۔ خالص لیز کا مطلب آپ نے گھر خریدا اور اسے کسی کو رینٹ پر دے دیا۔ مالک مکان کو ملنے والا رینٹ یا کرایہ جائز ہے۔ حالانکہ کرایہ اور لیز میں بنیادی فرق ہے۔ خیر یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ لیز فائننسنگ کا مطلب آپ کوئی سامان خریدنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی جیب خالی ہے۔ آپ بینک کے پاس جاتے ہیں، بینکر کہتا ہے کہ ہم آپ کا سامان خرید کر آپ کو نقد کے بالمقابل قسطوں پر زائد قیمت کے ساتھ بیچ دیں گے وہ قسطیں چند سالوں پر محیط ہوں گی۔ آپ تیار ہو جاتے ہیں اور اس سامان کے لئے آپ پندرہ لاکھ کی جگہ بیس لاکھ ادا کرتے ہیں۔ علماء کے اس طبقے کا ماننا ہے کہ یہاں نقد کے عوض مہلت دے کر قسطوں پر بڑھی ہوئی پانچ لاکھ قیمت سود ہے اور حرام ہے کیونکہ ادھار کی صورت میں اضافی رقم چارج کرنا دراصل مدت کا ہی معاوضہ ہے اور مدت یا مہلت کا معاوضہ لینا سود ہے۔ جیسا کہ کسی کو قرض دے کر اضافی رقم چارج کرنا مہلت کا ہی معاوضہ ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ علماء کا یہ طبقہ اس روایت سے بھی استدلال کرتا ہے جس میں ایک بیع میں دو بیعوں کی ممانعت بیان کی گئی ہے۔
’’نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن بیعتین فی بیعۃ‘‘رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے۔ گویا اللہ کے رسول ﷺ نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع کیا ہے۔ ( ترمذی، کتاب البیوع۔ مسند احمد بن حنبل)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خرید و فروخت کے وقت کوئی کسی سے کہے کہ اگر نقد میں لو گے تو یہ شے اتنی قیمت کی ہے اور ادھار میں خریدو گے تو اتنی رقم دینی ہوگی۔ یعنی نقد کے بالمقابل ادھار پر زیادہ قیمت لینے سے منع کیا گیا ہے۔ حالانکہ قسطوں پر قیمت میں اضافہ کے جواز کے قائلین حدیث کے اس مفہوم پر اختلاف کرتے ہیں۔ انہوں نے اس حدیث کی کئی تشریحات کی ہیں۔ جیسے سیلر اپنا مال فروخت کرتے وقت یہ کہے کہ یہ مال نقد ایک ہزار کا اور ادھار دو ہزار کا ہے اور خریدار کسی ایک کو طے کئے بغیر جدا ہو جائے تو قیمت کے عدم تعين کی وجہ سے یہ بیع ناجائز ہے۔ لیکن جدا ہونے سے قبل کسی ایک پر متفق ہو گیا تو اس بیع میں کوئی قباحت نہیں۔ دوسرا یہ کہ بیع کے وقت سیلر اپنا مال خریدار کو اس شرط پر فروخت کرے کہ تجھے اپنا غلام مجھے بیچنا ہوگا وغیرہ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس حدیث کا مفہوم وہ کیوں نہیں ہے جسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے۔ آخر حدیث کا مفہوم کیوں قائلین کے معنی پر ہی منحصر ہو؟ اگر مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم وہ نکل سکتا ہے جسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے تو سود جیسی قبیح لعنت سے بچنے کے لئے کیوں نہ اسے ہی تسلیم کیا جائے۔
اس مسئلہ کے تعلق سے یہ حدیث مزید وضاحت کے ساتھ ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:’’من باع بیعتین فی بیعۃ فلہ او کسھما او الربا‘‘ جس نے ایک بیع میں دو بیع کیا تو اس کے لیے یا تو دونوں میں سے کم قیمت ہو گی یا پھر سود ہو گا۔قسطوں پر قیمت میں اضافہ کے جواز کے قائلین کا یہ کہنا کہ قیمت میں اضافہ کا جواز تاخیر کا بدل اور اس کا معاوضہ ہے درست نہیں، کیونکہ اگر منافع صرف تاخیر کی بنیاد پر لیا جاتا ہے تو صرف تاخیر وقت کا منافع شریعت میں جائز نہیں ہے، جس طرح قرض پر منافع مدت کا عوض اور اس کا بدل ہوتا ہے جسے ہم سود کہتے ہیں اور شریعت نے اسے ناجائز قرار دیا ہے، ٹھیک اسی طرح نقد کے بالمقابل قسطوں پر اضافی رقم لینا بھی سود ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کرتے ہیں ایک سیلر کسی کو ایک موبائل نقد قیمت پر فروخت کرتا ہے تو دس ہزار روپیے لیتا ہے۔ جب ادھار پر بیچتا ہے تو اس کی قیمت پندرہ ہزار روپیہ لیتا ہے۔ یہاں دس ہزار روپیہ موبائل کی پوری قیمت ہے جس میں اس کا منافع بھی شامل ہے۔ جب وہ خریدار سے ادھار پر پندرہ ہزار روپیہ چارج کرتا ہے تو اب وہ مہلت دے کر اس کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب یہ کہنا کہ ہر مدت کا معاوضہ سود نہیں ہوتا سمجھ سے پرے ہے۔اب ہم بشمول انڈیا دنيا میں چل رہی قسطوں یا انسٹالمنٹ پالیسیوں کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا میں انسٹالمنٹ پر چل رہی تمام تر پالیسیاں خواہ وہ قسطوں پر دکان، مکان یا گاڑیوں کی خریداری کی صورت میں ہوں یا مشینوں کی خریداری کی صورت میں، سب میں یہ شرط لازمی ہوتی ہے کہ قسطوں کو وقت پر ادا نہ کرنے صورت میں پنالٹی یا جرمانہ کے نام سے اضافی چارج دینا ہوگا۔ چنانچہ بینک یا کمپنیاں قسطوں کی تاخیر کی صورت میں اضافی چارج لگاتی ہیں۔ واضح رہے وہ علماء، محدثین اور فقہائے عظام جنہوں نے ادھار میں نقد سے زیادہ پر خرید و فروخت کو جائز قرار دیا ہے وہ جواز کے قائل صرف اس صورت میں ہیں جب ادائیگی میں تاخیر پر اضافی رقم خواہ وہ جرمانہ، پنالٹی یا کسی بھی نام پر ہو وصول نہ کی جائے۔ چنانچہ ان کے نزدیک بھی اگر بیع کے وقت فریقین کے درمیان طے ہوتا ہے کہ تاخیر کی صورت میں اضافی رقم دینا ہوگا (جو کہ دور حاضر میں تقريبا پوری دنیا میں انسٹالمنٹ کی خرید و فروخت پر لازمی شرط ہوتی ہے) تو قسطوں کی تاخیر پر وصول کیا گیا جرمانہ سود میں داخل ہے اور یہ بیع سراسر ناجائز ہے۔ کیونکہ یہ ادا کرو یا اضافہ کرو کے اصول پر قائم ہے۔ دھیان رہے ہمارے ملک انڈیا میں چونکہ قسطوں کی خرید و فروخت میں تاخیر پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اس لئے یہاں یہ بیع ناجائز اور سود ہے۔ قسطوں پر خرید و فروخت کی موجودہ غیر معمولی وسعت پر غور کرنے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ یہ بیع خریداروں اور سوسائٹی کے حقیقی مفادات کے خلاف ہے۔ ہمارے یہاں رائج اس طریقہ ادائیگی کا اگر آپ بنظر غائر مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ عوام الناس کو جرمانہ اور پنالٹی کے علاوہ بھاری شرح سود سرمایہ داروں کو قسطوں کے نام سے ادا کرنی پڑتی ہے۔ چنانچہ بيع وشراء کا یہ طریقہ صرف سود کی لعنت ہی ہر فرد پر مسلط نہیں کر رہا ہے بلکہ قلیل آمدنی والے افراد کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ سود کی شکل میں سرمایہ داروں کو منتقل بھی کر رہا ہے۔
انسان اپنی بنیادی ضروریات کھانا، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کو جب پوری کر لیتا ہے تو ان ضروریات کا نمبر آتا ہے جن کی تکمیل ایک خوشحال اور آسودہ زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی اور اپنے فیملی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد دوسرے درجے کی ضروریات کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اشیائے تعیشات کے پیچھے بھاگتا ہے۔ چونکہ وہ ان اشیاء کو قسط وار ادائیگی کے نام پر ایک ہی ساتھ حاصل کرنا چاہتا ہے اس لئے اس کی مکمل آمدنی سود اور جرمانہ کی نذر ہو جاتی ہے، نیز مقروض ہو کر بجائے آسودہ اور مطمئن زندگی گذارنے کے آلام و مصائب اور ٹینشن کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس طریقہ ادائیگی کی دوسری سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ خریداروں میں فضول خرچی اور اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ مختلف طرح کے اشتہارات اور نفسیاتی حربوں کا استعمال کر کے کمپنیاں خریداروں کو اپنے پروڈکٹ کی ڈیمانڈ پر لبھاتی ہیں اور غیر ضروری اشیاء یا اشیائے تعیشات کا دیوانہ بنا دیتی ہیں۔ بالآخر بے چارہ خریدار قسطوں کی آسان اور غیر معمولی سہولت کو ترجیح دیتا ہے اور عرصہ دراز تک ان قسطوں کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔ قرض کے مایا جال میں پھنسی ہوئی اس کی زندگی اس کی صحت پر منفی اثرات ڈالتی ہے اور بسا اوقات انسان ڈیپریشن میں چلا جاتا ہے۔ حالانکہ قسطوں کے بالمقابل نقد پر خریداری کا طریقہ ان تمام خرابیوں سے پاک ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بشمول انڈیا دنیا میں چل رہی قسطوں یا انسٹالمنٹ پالیسیوں کو دونوں فکر یا گروپ کے علماء ناجائز قرار دیتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سراج الدین فلاحی

تبصرہ کیجیے