download

معذورافراد کوکارآمد بنانا

دماغی معذوری اکثر اوقات بچپن سے ہی لاحق ہو جاتی ہے جبکہ بعض دفعہ زندگی میں پیش آنے والے تلخ حادثات اور واقعات بھی اس کا سبب بن جاتے ہیں۔ قوتِ گویا ئی یا سماعت میں کمی یا پھر مکمل طور پر اس صلاحیت کا نہ ہونا ابلا غی معذوری کہلا تاہے۔ منشیات کا کثرت سے استعمال، قدرتی آفات، ٹریفک حادثات، صنعتی حادثات، جنگیں، تشدد، دہشت گردی اور خودکش دھماکے حادثاتی معذوری کا باعث بنتے ہیں۔ بعض اوقات معمولی بیماری بھی مناسب اور بروقت علاج کی سہولتیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے ایک ارب سے زائد افراد (آبادی کا 15فیصد) معذوری کی کسی نہ کسی شکل کا سامنا کرتے ہیں۔ 80فیصد معذور افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ ان ممالک میں معذور افراد کوزندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 60سال یا اس سے زائد عمر کے 46فیصد افراد معذوری کا شکار ہیں۔ پانچ میں سے ایک خاتون کا زندگی کے کسی بھی حصے میں معذور ہونے کا امکان ہوتا ہے جبکہ دس میں سے ایک بچہ معذور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس نے معذور افراد کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا ہے۔
معذور افراد عدم توجہ، عدم تعاون اور سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بوجھ بن جاتے ہیں۔ انھیں کارآمد شہری بنانے، معاشرے میں صحیح مقام دلانے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے ہر روز، ہر موقع، ہر پلیٹ فارم پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو درپیش مسائل کا ازالہ کیا جائے۔
اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے لیے صحت و سلامتی کتنی بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ کتنی بڑی اور اہم ذمہ داری ہے، جس کا درس ہمیں پیارے نبی محمدؐ کی اس حدیث میں ملتا ہے جس میں فرمایا کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ ان میں ایک صحت بھی ہے جسے بیماری سے پہلے غنیمت جاننےکی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی طرح کئی ایک مسنون دعا میں بیماری اور محتاجی سے پناہ مانگی گئی کیونکہ انفرادی زندگی میں بھی محتاجی ایک آزمائش ہے اور معاشرتی حوالے سے بھی معذور اور محتاج افراد ایک اہم ذمہ داری ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جہاں مادیت پرستی کو حد درجہ فروغ ملا ہے ، اس کا مظہر ہے کہ ایسے افراد جو جسمانی اور مالی طور پر معذور ہیں، معاشرے پر بوجھ سمجھے جانے لگے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں کئی ایک لوگ ہیں جو کسی بیماری یا پیدائشی طور پر محتاجی کا شکار ہیں۔ نیز اس حوالے سے آگہی کا فقدان اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی ہمارے معاشرے کے معذور اور محتاج طبقے کی مشکلات کو دوچند کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محتاج اور معذور افراد نہ صرف ذاتی حیثیت میں اپنی زندگیوں کو بے مصرف سمجھتے ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا بھی اس طبقے کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ایسے افراد کسی کام کے نہیں اور معاشرے کے لیے بوجھ ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان میں معذور افراد کا تناسب 1.8هہے۔
معذور افراد کے سلسلے میں جہاں حکومتی سطح پر ایسے اقدمات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو ان افراد کی فلاح و بہبود میں مؤثر ثابت ہوں وہیں عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے افراد کی زندگی کو بہتر بنانے میں ہم خود کتنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ عملی اقدامات ہیں جو بحیثیت ذمہ دار فرد ہم انجام دے سکتے ہیں، ان اقدامات سے یہ افراد معاشرے میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان پر بات کرنے سے پہلے ایک اہم نکتہ کی وضاحت عوام النا س کی آگہی کے لیے ضروری ہے کہ بیماری اور معذوری یقینا اللہ کی طرف سے تقدیر کا حصہ ہے لیکن ضروری ہے کہ موجودہ دور میں سائنس اور ٹکنالوجی نے طب کے شعبے میں جو خدمات ہماری آسانی کے لیے انجام دی ہیں ان کے ذریعے بھی تدابیر کی جائیں تاکہ معذوری کے محرکات کو کم سے کم کیا جاسکے، جیسے خاندانوں میں کثرت سے ہونے والی انٹر میریجز، جن کی وجہ سے پیدائشی معذوری کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے عوام کی رہنمائی شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں کا طبی معائینہ لازمی کروانا تاکہ موروثی بیماریوں سے حتی الامکان بچا جاسکے۔ خواتین دورانِ حمل و یکسینیشن اورضروری ٹیسٹ کروائیں، اسی طرح بچوں میں ویکسینیشن۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جنہیں فروغ دینے کی مزید ضرورت ہے۔
عملی اقدامات میں ایسے افراد اور ان سے وابستہ گھرانوں میں یہ آگہی اور شعور اجاگر کیا جانا چاہیے کہ زندگی کو بامقصد بناناضروری ہے۔ کسی بھی معذوری کے ساتھ اللہ تعالیٰ یقینا دوسری بے پناہ صلاحیتوں سے نوازتے ہیں، ان کی طرف توجہ اور محنت سے زندگی کو یقینا بامقصد بنایا جاسکتا ہے جس سے دنیا بھی سنور سکتی ہے اور اللہ کی مطلوب زندگی بھی وہ جی سکتے ہیں۔
ایسے بچے جو کسی بھی قسم کی معذوری کا شکار ہیں ان کے والدین شروع ہی سے ہوم اسکولنگ کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ذہنی استعداد بڑھاسکتے ہیں۔ نیز مطالعے کا شوق اسی عمر سے پروان چڑھایا جائے تو آئندہ عمر میں بہت مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
کسی خاص صلاحیت پہ فوکس کرکے محنت کی جائے تو یقینا کامیابی حاصل ہوگی، مثلاً کوئی بچہ نابینا ہےلیکن آواز خوبصورت ہے تو اسے بہترین نعت خواں بنانے کی تعلیم دیں اور اس کے گانے کی صلاحیت کو پروان چڑھائیں۔ کوئی بچہ گونگا بہرا ہے لیکن خوش خطی بہت اچھی ہے تو اس کی خوش خطی یا مصوری کو سراہا جائے اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ایسے تمام افراد جو کسی نہ کسی طرح کی جسمانی معذوری یا پھر ڈاون سنڈروم کا شکار ہیں انہیں کسی نہ کسی درجے کا ہنر سکھایا جائے تاکہ آئندہ زندگی میں کسی حد تک خود کفیل ہوسکیں۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ معذوری سے لڑنے کا سب سے اہم ہتھیار عزم و ہمت اور محنت ہے۔ موجودہ سماج میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں معذور افراد ایسے کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں جن کے بارے میں بہت سے صحت مند افراد سوچ کر ہی کانپ جاتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ گھر، محلے، خاندان، برادریاں، این جی اوز اور سب سے بڑھ کر حکومتی سطح پر ایسے پروگرام اور مقابلوں کا انعقاد کیا جائے جس سے ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آسکیں اور ان کے اندر اعتماد اور بھرپور زندگی جینے کا عزم پیدا ہوسکے۔ ان سرگرمیوں سے ایسے تمام افراد کی پوشیدہ صلاحیتوں کو تقویت ملے گی اور پورے معاشرے کا ایک صحت افزا تاثر یہ بنے گا کہ یہ بھی عوام الناس کی طرح ’’خاص‘‘ ہیں۔ آخری بات یہ کہ گھر والے، آس پاس رہنے والے اور پورا معاشرہ ایسے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی فلاح و بہبود کا ہر طرح سے خیال رکھیں۔ ان کی خدمت صدقہ جاریہ کا درجہ رکھتی ہے، اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی سوچ پروان چڑھائی جانے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے کسی طبقے پر بھی محرومی کا سایہ نہ ہو اور ایسا مجموعی ماحول پروان چڑھے جس میں ہرشخص ایسے افراد کے لیے درد رکھنے والا ہو، جسے ہمارے دین میں بنیان مرصوص سے تشبیہ دی گئی ہے۔
یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ سماج کے باشعور اور اصحابِ علم افراد اپنے آس پاس کے معذور بچوں اور رشتہ داروں کے معذور بچوں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی بھی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کریں کیونکہ بعض اوقات ان معذور بچوں کے والدین اپنے علم و فکر اور شعور کے اعتبار سے ان بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت کے اہل نہیں ہوپاتے اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔
lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سارہ شاہ

تبصرہ کیجیے