5

اداریہ گوشۂ نوبہار

پیاری بہنو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں اس وقت پہنچے گا جب آپ رمضان المبارک سے رحمتیں سمیٹنے کے بعد عید کی خوشیاں بھی مناچکی ہوں گی۔یقینا اس دوران آپ کے اوپر ششماہی امتحان کا بوجھ بھی ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سے بھائی بہنیں امتحان دے بھی رہے ہوں۔

رمضان المبارک میں آپ نے روزے رکھے، قرآن کی تلاوت کی، جھوٹ، غیبت، الزام تراشی اور لڑائی جھگڑے سے آپ دور رہے۔ کیونکہ روزہ کی حالت میں ان سب باتوں سے روکا گیا ہے۔ روزہ کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اس ایک مہینے میں نیک کامو ںکا عادی ہوجائے اور برے کاموں سے بچنا اس کے ذہن اور دماغ پر چھا جائے پھر نیک اور اچھے کاموں کا یہ سلسلہ اور برائیوں سے بچنے کی یہ فکررمضان کے بعد بھی سال بھر جاری اور قائم رہے۔

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ رمضان ختم ہوتے ہی پھر اسی بے دینی، لاپرواہی اور گناہوں کی زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ رمضان میں نمازوں کی پابندی کی، تراویح بھی پڑھی، غریبوں کی مدد بھی کی لیکن رمضان کا مہینہ آتے ہی نمازیں غائب، قرآن مجید کھول کر بھی نہیں دیکھتے اور غریبوں کی امداد اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنا تو کیا پھر پیسہ کمانے کے لیے حلال و حرام کی فکر چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی برائیاں، غیبتیں اور آپس میں الزام تراشیاں کرنے لگتے ہیں۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے رمضان المبارک کے اصل پیغام کو نہیں سمجھا۔ رمضان تو آتاہی ہے ہمیں اس بات کی تربیت دینے کے لیے کہ ہم کس طرح رمضان کے بعد بھی گیارہ مہینے اپنے رب کے بندے اور اس کے فرماں بردار بن کر رہیں۔ اور اگر اس مہینے کے ختم ہوتے ہی پھر ہم نے وہی عام زندگی شروع کردی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے رمضان کے اس مبارک مہینے سے کچھ حاصل نہ کیا۔ اس طرح ہماری مثال اس بے وقوف کی سی ہے جو چھلنی میں لے کر پانی پینے کی کوشش کرتا ہو۔ اس لیے پیاری بہنو ہوشیار۔ رمضان کے نیک کاموں کو جاری رکھئے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں جگہ دیں گے۔

آپ کی بہن

مریم جمال

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

تبصرہ کیجیے