اچھی بات یا پھر خاموشی

عربی زبان کا مشہور محاورہ ہے: ’’جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔‘‘  اسی سے ملتا جلتا مفہوم بہ طور محاورہ اردو زبان میں اس طرح ادا کیا جاتا ہے: ’’ایک چپ سو سکھ‘‘ اور حقیقت بھی یہی ہےکہ اگر انسان خاموش رہنا اور اپنی زبان کی حفاظت کرنا سیکھ لے تو وہ کئی طرح کی آفات و بلیات سے نہ صرف یہ کہ خود مامون رہ سکتا ہے، بلکہ اس سے انسانی معاشرے میں زبان کے سبب جنم لینے والے فساد اور بے شمار نقصانات سے بھی کافی حد تک حفاظت کا سامان کیا جاسکتا ہے۔

اگر ہم اپنی خاندانی زندگی، باہمی تعلقات، معاشرتی مسائل اور سماج میں پیدا ہونے والے تنازعات اور جھگڑوں پر نظر ڈالیں تو زبان سے نکلے الفاظ کا بڑا ہی اہم رول ہوتا ہے۔ اس زبان کا مناسب اور میٹھا استعمال دشمنوں کو دوست بنادیتا ہے اور اس کی زہریلی باتیں بھائی کو بھائی کا دشمن بنادیتی ہیں۔ قریبی رشتوں کو شیشے کی طرح چکنا چور کردیتی ہیں اور دوستوں کو دشمن بنادیتی ہیں۔ اس طرح اپنی دنیا بھی خراب ہوتی ہے اور آخرت کا تو کہنا ہی کیا کہ رسول پاکؐ کا ارشاد ہے کہ جہنم میں زیادہ تر لوگ اپنی زبان کی پیداوار کے نتیجے میں جائیں گے۔

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے مشہور شعر کا مفہوم یہ ہے : ’’نیزوں کے زخم تو مندمل ہوسکتے ہی لیکن زبان کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اول تو وہ خاموش رہا کرے اور زبان سے کوئی فضول بات، کوئی فحش کلام اور کوئی ایسی غلط بات ہرگز نہ نکالے کہ جس سے کسی دوسرے کو تکلیف ہو اور اس کا اثر انسان کی اپنی انفرادی زندگی پر یا دوسرے انسانوں کی معاشرتی و اجتماعی زندگی پر بالواسطہ یا بلاواسطہ پڑتا ہو ، دوسرے اگر کبھی بولنا پڑ بھی جائے تو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ خیراور بھلائی ہی کی بات زبان سے نکلے۔ کوئی دوسری لغو اور فضول قسم کی بات زبان سے نہ نکلنے پائے کہ اسی میں آدمی کے دین و دنیا کی بھلائی اور ایمان کی سلامتی مضمر ہے۔

حضرت سماکؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہؓ سے پوچھا کہ آپ حضورؐکی مجلس میں حاضری دیا کرتے تھے؟ انھوںنے فرمایا: ’’ہاں، اور حضورؐاکثر اوقات خاموش رہا کرتے تھے۔‘‘ (مسند احمد)

حضرت ابو ادریس خولانیؒ کہتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو میں نے وہاں ایک بزرگ کو دیکھا جن کے سامنے کے دانت بہت چمک رہے تھے اور وہ بہت زیادہ خاموش رہنے والے تھے اور ان کےساتھ جو لوگ تھے ان کی کیفیت یہ تھی کہ ان کاآپس میں کسی معاملے میں اختلاف ہوجاتا تو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرتے اور پھر یہ اس معاملے میں جو فیصلہ کرتے سب اس سے مطمئن ہوجاتے۔ میں نے پوچھا: یہ بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت معاذ بن جبلؓ ہیں۔‘‘ (مستدرک حاکم)

حضرت اسلمؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی طرف جھانک کر دیکھا تو وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ! آپؓ کیا کررہے ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اسی نے تو مجھے ہلاکت کی جگہوں پر لاکھڑا کیا ہے، حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’جسم کا ہر عضو زبان کی تیزی کی شکایت کرتا ہے۔‘‘ (مسند ابی یعلی)

حضرت عیسیٰ بن عقبہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر کوئی چیز ایسی نہیں جسے زبان سے زیادہ عمر قید کی ضرورت ہو۔ (حلیۃ الاولیاء) نیز آپؓ نے فرمایا کہ میں تمہیں بے کار باتیں کرنے سے ڈراتا ہوں اور بہ قدرِ ضرورت بات کرنا ہی تمہارے لیے کافی ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ خطائیں ان لوگوں کی ہوں گی جو دنیا میں فضول بحث مباحثہ کرتے رہتے تھے۔ (معجم طبرانی)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ زبان سارے بدن کی اصلاح کی بنیاد ہے، جب زبان ٹھیک ہوجائے تو سارے اعضاء ٹھیک ہوجاتے ہیں اور جب زبان بے قابو ہوجائے تو تمام اعضاء بے قابو ہوجاتے ہیں۔

حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں کہ جیسے تم لوگ بات کرنا سیکھتے ہو ایسے ہی خاموش رہنا بھی سیکھو! کیوں کہ خاموش رہنا بہت بڑی بردباری ہے اور تمہیں بولنے سے زیادہ سننے کا شوق ہونا چاہیے اور کبھی لا یعنی بول نہ بولو، ہنسی کی بات کے بغیر خواہ مخواہ مت ہنسو، اور بلا ضرورت کسی جگہ مت جاؤ۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر، کنزالعمال)

آپؓ مزید فرماتے ہیں کہ مومن کے جسم میں کوئی عضو اللہ تعالیٰ کو اس کی زبان سے محبوب نہیں، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائیں گےاور کافر کے جسم میں کوئی عضو اللہ تعالیٰ کو اس کی زبان سے زیادہ مبغوض نہیں، اسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ (حلیۃ الاولیاء)

حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ بندے کو سب سے زیادہ جس عضو کو پاک کرنے کی ضرورت ہے، وہ اس کی زبان ہے۔ (حلیۃ الاولیاء)

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا، جب تک وہ اپنی زبان کی حفاظت نہ کرے۔ (طبقات ابن سعد)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ’’(تمام) مسلمانوں میں (سب سے) اچھا مسلمان کون ہے؟ تو آپؐ نے ارشادفرمایا: جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری)

خاموشی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان چپ کا روزہ رکھ لے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان لغو، بے کار، تکلیف دہ گفتگو اور بے ہودہ کلام سے اپنی زبان کی حفاظت کرے، بے محل اور بے موقع گفتگو سے پرہیز کرے۔ اس کے برخلاف جہاں بولنا ضروری ہو وہاں بولے بھی مگر حق بات اور جچی تلی گفتگو کرکے بولنے کا حق ادا کرے۔ اس کی وضاحت ذیل کی حدیث میں بہت اچھی طرح ہوجاتی ہے:

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (بخاری و مسلم)

شیئر کیجیے
Default image
مفتی محمد وقاص