social-media

انٹرنیٹ: نفع و ضرر کے میزان میں

ایک لمبے زمانے تک انسان چاند، ستاروں اور سیاروں کی طرف بڑی حیرت و حسرت سے دیکھتا تھا، پھر ایک وقت آیا کہ انسان چاند ستاروں اور سیاروں  طرف بڑھنے لگا، اس نے ایجادات کے انبار لگا دیے، بہت سی محیر العقول چیزیں ایجاد کر ڈالیں، جنھوں نے انسانی زندگی کی مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کردیا۔ ان ایجادات میں سے ایک اہم ایجاد انٹرنیٹ پر مبنی مواصلاتی نظام ہے۔

بہت عرصہ پہلے امریکہ میں ایک شخص نے خواب دیکھا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ دنیا کے ہر گھر میں کمپیوٹر ہوگا، پھر اس نے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ایک کمپنی بنائی اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں ترقی ہوتی گئی، اسی ترقی کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی۔ سب سے پہلے امریکہ کے سائنس دانوں نے 1960 میں نیٹ ورکنگ کا جال بچھایا، جس کا مقصد یہ تھا کہ فوجیوں کو ضروری ہدایات اور معلومات بسرعت پہنچائی جائیں، پھر 1982 میں انٹرنیٹ عالمی سطح پر کارگر ہوا، پھر 1991 میں’’یورپین ہائی انرجی فزکس لیبریٹری‘‘ نے ایک ایسے سوفٹ ویئر کو فروغ دیا جس کی مدد سے کسی بھی طرح کی معلومات انٹرنیٹ پر تلاش کی جاسکتی تھیں، اور اس کا نام’’ورلڈ وائڈ ویب‘‘ رکھا، اس ویب نے بہت ہی کم عرصے میں پوری دنیا کو اپنے دائرے میں لے لیا۔ آج پوری دنیا عموماً اسی ویب کا استعمال کرتی ہے اور اسی کے ساتھ دنیا’’گلوبل ویلیج‘‘ کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

آج کی ترقی یافتہ دنیا میں انٹرنیٹ نے ایک خاص مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ آج انسان نے انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔انٹرنیٹ ایک آزاد نیٹ ورک ہے، ہر کوئی گھر بیٹھے ہر قسم کی معلومات، تجربات اور مشاہدات انٹرنیٹ پر شائع کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار بجلی کی طرح سریع السیر ہے، منٹوں اور سکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کوئی بھی خبر پہنچائی جا سکتی ہے اور دنیا کے حالات سے ہر وقت باخبر رہا جا سکتا ہے، گویا انٹرنیٹ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ایک لمبا جال ہے جو انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایسا جال ہے جس میں کروڑوں کمپیوٹر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور جب آپ اپنا کمپیوٹر انٹرنیٹ سے جوڑتے ہیں تو آپ بھی اس جال کا ایک حصہ بن جاتے ہیں اور اب آپ اس جال سے جڑے ہوئے دوسرے کمپیوٹر سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور بھیج سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کو ٹیلی فون لائن، کیبل لائن اور سٹیلائٹ وغیرہ کے ذریعہ آپس میں ایک دوسرے سے جوڑا جاتاہے۔ اور اب انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے ’’وائی فائی‘‘ جیسی ٹکنالوجی بھی موجود ہے اور اس سے بھی آسان اور سستی ٹیکنالوجی 2G,3Gاور 4G ہے جس کے ذریعہ موبائل میں بھی انٹرنیٹ استعمال کیا جاسکتا ہے، جس کو دنیا کی ایک بڑی آبادی استعمال کر رہی ہے۔

انٹرنیٹ کو جب نفع و ضرر کے میزان میں تولا جاتا ہے تو واضح ہوتا ہے کہ اس کے فوائد بھی کثیر ہیں اور نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ انٹرنیٹ ایک ایسا تباہ کن سوفٹ وئیر ہے جس کے نقصانات سینکڑوں نہیں ہزاروں ہیں، آج معاشرے میں فحاشی و بے حیائی کو عام کرنے میں انٹرنیٹ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، فحاشی و عریانی سے لبریز ہزاروں ویب سائٹس انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود فلمی ڈرامے اور گانوں نے انسانی ذہنوں پر ایک عجیب کیفیت مسلط کر دی ہے۔ یوٹیوب وغیرہ پر فحاشی و عریانی اور جنسی انارکی پر مشتمل ایسا کثیر مواد موجود ہے جس سے نوجوانوں کی زندگیاں تباہ ہورہی ہیں۔ فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ نے ناجائز تعلقات کے راستے کھول دئیے ہیں، جس سے نہ صرف اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں بلکہ ہر طرح کی آوارگی کے تمام سامان مہیا ہوگئے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال بچوں اور نوجوانوں کو نشے کی لت کی طرح لگتا جا رہا ہے۔ امریکی نوجوان طالب علم مارک زکر برگ نے ہارڈ ورڈ یونیورسٹی میں اپنے دوستوں سے رابطے کے لیے فیس بک سوفٹ ویئر بنایا تھا، پھر اس نے چند ہی دنوں میں پوری برطانیہ میں مقبولیت حاصل کرلی اور پھر رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اس وقت 548 ملین سے زائد افراد فیس بک کا استعمال کر رہے ہیں،ان میں لڑکے لڑکیاں بھی شامل ہیں اور اس کے نتائج بھی اب سماج میں نظر آنے لگے ہیں۔

جھوٹی خبریں، افواہیں اور غلط پروپیگنڈے بھی انٹرنیٹ کے ذریعہ عام کئے جاتے ہیں جو معاشرے میں بد امنی اور فساد کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے مہلک نقصانات میں معاشی دھاندلیاں، رقومات کی ناجائز منتقلی، ذاتی معلومات کی فریب دہی، جلد دولت مند بننے کے نشہ میں دھوکہ دہی کے نئے نئے طریقے، دھمکی آمیز پیغامات کی ترسیل واشاعت وغیرہ بھی شامل ہے۔

انٹرنیٹ کے جہاں تباہ کن نقصانات ہیں وہیں اس کے فوائد بھی ہیں۔ اس کی اہمیت اور افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، گویا انٹرنیٹ برائیوں اور خوبیوں کا سنگم ہے۔ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے ای میل، ای کامرس، ای بزنس، فائل ٹرانسفر، آن لائن تعلیم، یونیورسٹی اور کمپنیوں کی معلومات، اشیاء، اخبار ورسائل، فلاحی وزرعی تنظیموں کی جانکاری، بینکنگ، تمام طرح کے بلوں کی ادائیگی، اور طبی و سائنسی معلومات وغیرہ حاصل کر تے ہیں۔ آج کے دور میں انٹرنیٹ نے اہل علم کے لئے بھی بڑی سہولیات پیدا کردی ہیں، بہت سی وہ نایاب کتابیں جن کا حصول دشوار تھا انٹرنیٹ نے بسہولت ہمیں گھر بیٹھے مہیا کر دی ہیں، مکتبہ جبریل اور مکتبہ شاملہ وغیرہ نے محققین کے کاموں کو نہایت آسان کر دیا ہے، دینی امور کے لیے بھی انٹرنیٹ کا استعمال کیا جارہا ہے، اوراس کے ذریعے معاشرے میں ایک صالح انقلاب بھی لایا جا سکتا ہے، صرف انگلی کی ایک جنبش سے دینی پیغامات، احادیث مبارکہ اور شرعی مسائل کروڑوں انسانوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں اور پہنچائے جارہے ہیں۔

جب کوئی چیز برائی اور خوبیوں کا سنگم ہو تو ظاہر سی بات ہے کہ خوبیوں والے پہلو کو اختیار کرنے میں ہی بھلائی اور کامیابی ہے۔ ہر چیز کا استعمال کار آمد تب ہی ہو سکتا ہے جب اس کو استعمال کرنے والا اپنی استعداد اور شئے کی افادیت کے اعتبار سے کام میں لائے۔ بیمار کو دوا سے شفا تب ہی مل سکتی ہے جب اس کا استعمال صحیح وقت اور ٹھیک مقدار میں ہو۔ اللہ تعالی نے ہر ذی شعور کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے، جو لوگ مثبت اور تعمیری سوچ رکھتے ہیں اور اپنی سوچ کو اعلی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ یقیناً کامیاب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ نہیں کہتے کہ انٹرنیٹ سے کلی طور پر کنارہ کشی اختیار کی جائے بلکہ مثبت طریقے پر اس کا استعمال کریں، اس سے فائدہ اٹھائیں، تعمیری کام اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے اس کو استعمال میں لائیں۔ اس سلسلے میں جو بات زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی چیز کا غیر تعمیری استعمال انسان کی ذات کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور سماج کے لیے بھی مضر ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی چیز کا بہ کثرت استعمال بھی اسی طرح نقصان دہ ہے جس طرح غلط استعمال۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ جس طرح نئی نسل میں ایک ’’لَت‘‘ بن گیا ہے وہ خطرناک ہے۔ اس پر آئے دن نئی نئی تحقیقات آرہی ہیں۔ اس کے ذہن صحت، نفسیات اور انسانی زندگی پر پڑنے والے مضر اثرات اب ہر آدمی کے لیے معلوم چیز ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ضرور اس بات کی ہے کہ اس کے سلسلہ میں توازن اور تعمیری سوچ کو عام کیا جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد قاسم اوجھاری

One comment

Comments are closed.