خاندان

مومن کا گھر ہے نخل امانت کی نرسری

گھرایک تربیت گاہ ہوتا ہے جہاں مفسدین ومصلحین دونوں ہی پرورش پاتے ہیں۔ یاایک ایسا کارخانہ ہےجہاں سے انسانی معاشرہ کو افراد مہیا ہوتے ہیںاور انھیں افراد سے سماج تشکیل پاتا ہے ۔ اچھے افراد تیار ہوں گے تو اچھا سماج بنے گا اور برے افراد تیار ہوں گے تو معاشرے میں برائی کو فروغ ملے گا۔

گھر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مربی اعظمﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کیا اور روز اول سے آپﷺ کے اس بارِ عظیم کے لیے کاندھا پیش کرنے والے آپ کے اپنے گھر والے تھے جس کا اثرانقلابِ اسلام میں آج بھی نمایاں نظر آتا ہے اور اسی کا اثر تھا کہ اتنے مختصر سے عرصہ میں داعی عظیم ﷺ نے انھیں رعایۃ الغنم سے (بکریاں چرانے والوں کو ) رعایۃالاممکے عظیم مرتبت پر فائز کیا ۔یہ سب ایک مختصر دورانیہ میں اس لیے ممکن ہوا کہ تعمیرمعاشرہ کے لیے اپنی ذات سے لے کر خاندان اور خاندان سے معاشرہ کی جانب قدم بڑھایا گیا۔ وَانذِر عَشیرتکَ الاقربین اور قُوا انفسکم واھلیکم ناراً کی زندہ اور عملی مثالیں قائم کی گئیں۔ اسی اثرپذیری کے نتیجہ میں یہ دعوت گھروں سے لے کر بازارتک اور عدالتوں سے لے کر ایوانوں تک ایک مکمل انقلاب بن کر ابھری کیونکہ یہ دعوت محض وعظ ونصیحت میں سمائی ہوئی نہیں تھی بلکہ مجسم ظہور تھی۔ سماج میں یہ داعیان حق جہاں سے گذرے اپنا اثر چھوڑ گئے اور سارے سماج کو صبغۃ اللہ میں رنگنے اور ربّانی سماج بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیاجو نتائج کے اعتبار سے سنہروں حرفوں میں قابلِ رقم ٹھہرا یہاں مخاطبِ اول ان کے خاندان والے تھے۔ تاریخ میں جب وہ حسنؓ و حسین ؓ بنے تو ان کی پشت پر فاطمہؓ جیسی آغوش تربیت کا اثر نمایاں نظر آیا ۔جب ایک ہمشیرہ نے اسلام کے لیے عزم سفر باندھاتوتاریخ کے افق پر فاروق اعظم ؓ جیساستارہ چمک اٹھا۔جب ایک ماں کی کاوشیں رنگ لائیں تو دنیا نے اسے محمد فاتح کی شکل میں دیکھا۔جب ایک ماں کے رزق حلال کی تگ و دو نتیجہ بنتی ہے تو اقبال جیسے مفکر سماج کو ملتے ہیں۔جب کوئی قطب شہیدؒ اپنی زندگی کی تمام جدوجہد اسلام کے لیے وقف کرتا ہےتو اس کے استقلال میں یہ دیکھ کر مزید اضافہ ہوتا ہے کہ اس کا سارا خاندان اور افرادِ خاندان اسلام کے گرد گھومنے والے سیارے بن چکے ہیں ۔ چنانچہ گھروں کے اس اہم رول کو پیش نظر رکھ کر ہی سماج و معاشرہ کی بہتری کا خواب دیکھا جاسکتا ہے ۔

گھر کی یہ اہمیت جیسے ہی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوئی معاشرہ کی تعمیر بہتر طور سے ممکن نہ ہوسکی ۔کیونکہ گھر سوسائٹی کے بنانے میں ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر اینٹیں ہی ناقص اور بوسیدہ ہوں تو کیسے ایک مضبوط عمارت کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ سماج میں پھیلےہوئے امراض بدعات خرافات بے ایمانی و ناانصافیاں قتل و غارت گری، دھوکہ دہی ان سب کے معالج اگر گھروں سے تیار نہ ہوں تو کیسے ان امراض کا علاج ممکن ہوسکے گا۔ ایک طرف ان امراض کی دوا دینے کے لیے معالج سارے شہر میں گھوم کردوا بانٹےدوسری طرف خود اس کا گھر اور خاندان انہی بیماریوں میں ملوث ہو اور وہ ان کا علاج نہ کرے۔

قران مجید میں اولادکے تئیں جب اپنے نبیوں کی اس تڑپ کو پیش کرتے ہیں کہ ما تَعبُدُونَ مِّن بَعدِی۔ قریب المرگ اس سوال کا جواب چاہنا گویا اس بات کی دلیل ہے کہ دُعاۃاور مصلحین کی تیاری و تربیت کا اساسی مرکز اس کا اپنا گھر ہوتا ہے اور اسی منہج سے گذر کر صالح معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے ۔
ہمارا گھر اس سماج کی بنیاد ہے جو ہم تشکیل دینا چاہتے ہیں اور جس کی تشکیل و تعمیر کے لیے ہم جدوجہد کا عزم بھی رکھتے ہیں اور دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی سب سے پہلی، اہم اور کارگرصورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں رشتے ناطے عطا کیے ہیں اور ان کے حقوق ہم پر عائد کیے ہیں انہیں اس جدوجہد کا مرکز بنایا جائے اور اپنی اولاد اور اہلِ حاندان کی تعلیم و تربیت کرکے اس یونٹ کا مثالی ماڈل تیار کیا جائے جسے ہم لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہمارے بچے ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں، جن کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جواب دہ بناکرہمیں ذمہ داریاں دی ہیں۔ اس امانت اور اس سے متعلق ذمہ داریوں کی ادائیگی کی صورت صرف یہی ہے کہ ہم ان کی بہترین تعلیم و تربیت کریں۔ ایسی تعلیم و تربیت جو ہمارے خاندان کو اس نظریے کا ماڈل بنادے جسے ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ یہ دیکھ اور سمجھ سکے کہ اچھا اور مثالی خاندان کیا ہوتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عمارہ فردوس ، جالنہ

تبصرہ کیجیے