اسلام میں عفت و پاکدامنی کی حفاظت

دورِ حاضر نے جن بہت سی سماجی، معاشرتی اور اخلاقی برایئوں کو جنم دیا انھیں میں سے ایک اخلاقی بے راہ روی اور جنسی آوارگی ہے جسے آزادی کا نام مل گیاہے۔ Live in relationship کی وبا پہلے مغرب میں عام ہوئی پھر مشرقی ممالک میں بھی پھیلنے لگی۔ گزشتہ دنوں نوبل تعلیم یافتہ ملالہ یوسف زئی نے جو اصلاً افغانی ہیں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے نوبل انعام حاصل کرچکی ہیں، ایک انٹرویومیں کہا کہ’’ میں سمجھتی ہوں کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟ کیا بنا شادی کے دو لوگ ایک پارٹنر کی طرح زندگی نہیں گزار سکتے ہیں؟
ظاہر ہے جب اس قسم کی سوچ نوجوان نسل میں پیدا ہونے لگے اور سماج کے مشہور لوگ اسے بڑھاوا دینے لگیں تو اس سے سماج بے حیائی میں مبتلا ہو گا۔ ذمہ داریوں سے آزادی چاہے گا اور اپنے ہی اقدار و روایات اور دین سے دورہو جائے گا۔ جب کہ اللہ تعالی نے نفس کو بے حیائی اور برائی سے محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
اسلام پوری طرح سے بے حیائی اور بے شرمی کا قلع قمع کرتا ہے اور ان تمام راستوں کا سد باب کرتا ہے جو انسان کو حیوان کے درجے میں لا کھڑا کرے۔ نبی کریم کا ارشاد ہے:’’ہر دین کی ایک امتیازی خوبی ہوتی ہے اور اسلام کی امتیازی خوبی حیا ہے۔‘‘ (شعب الایمان ۶/۱۳۶)
دوسری روایت میں ارشاد ہوا ہے کہ’’حیا اور ایمان دونوں ہم جولی ہیں اگر ان میں سے ایک صفت نہ رہے تو دوسری بھی رخصت ہو جا تی ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف ۲۲/۴۳)
پھر انسان کی معاشرتی زندگی میں ساتر لباس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ خالق کائنات نے انسانوں کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ودیعت کررکھا ہے جو اسے اپنے جسم کو چھپانے پر مجبور کرتا ہے اور فرد اور سماج کو برائی اور بے حیائی سے محفوظ رکھتا ہے۔
عفت و عصمت انسا نی زندگی کا بیش بہا جوہر ہے۔ عفت و عصمت کی بات آتے ہی سماج کے لوگوں کے ذہن میں ابھرتا ہے کہ عفت و عصمت کی حفاظت عورت کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ اسلام نے ہر مومن مردو عورت کو اس بات کا پابند بنایا کہ اس کا ہر صورت تحفظ کرے۔ قرآن وحدیث میں بار بار مسلمان مرد و عورت دونوں کو شرم گا ہوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’وہ اہل ایمان فلاح یاب ہیں جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں، لغویات سے کنارہ کش رہتے ہیں، زکاۃ ادا کرتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر تے ہیں۔‘‘ (1:7)
’’اے نبی مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں، بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔‘‘(النور: 31)
عفت و عصمت کی حفاظت کی تلقین جہاں کہیں بھی ملتی ہے وہاں مرد و عورت دونوں کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح جہاں پاکیزہ معاشرے کی تشکیل اور با حیا سماج کی تخلیق کے ذرائع و وسائل کا ذکر ہے وہاں پر مردوں اور خواتین دونوں کو یکساں طور پر مخاطب بھی کیا گیا ہے اور ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ان ہدایات کے ساتھ ساتھ اسلام ان تمام اسباب ، وسائل و ذرائع کا بھی چور دروازہ بند کرتا ہے جس سے بے حیائی و فحاشی کے آجانے کا اندیشہ ہو یا اسے تحریک ملتی ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے شریعت نے مسلم سماج کے مردو خواتین کو کچھ بنیادی اخلاقی ہدایات دی ہیں۔ ان ہدایات میں پہلے درجہ پر بری نگاہ پر پابندی ہے۔ یہ مرد کی بھی ہوسکتی ہے اور عورت کی بھی۔ اسی طرح خواتین کے لیے پردہ یا ساتر لباس متعین کیا ہے اور مردوں کو نیچی نگاہ کے ساتھ چلنے کی ہدایت دی ہے اور اپنے ہر عمل میں تقویٰ اختیا رکرنے کی تلقین کی ہے۔
آپؐ نے فرمایا:
’’آدمی اپنے تمام حواس سے زنا کرتا ہے۔ دیکھنا آنکھوں کی زنا ہے۔ لگاوٹ سے بات چیت کرنا زبان کا زنا ہے۔ آواز سے لذت لینا کانوں کی زنا ہے۔ ہاتھ لگانا اور ناجائز مقصد کے لیے چلنا ہاتھ پائوں کی زنا ہے۔ بدکاری کی یہ ساری تمہیدیں جب پوری ہوچکی ہوتی ہیں تب شرمگاہیں یا تو اس کی تکمیل کردیتی ہیں، یا تکمیل کرنے کے لیے رہ جاتی ہیں۔‘‘
اسلام نے معاشرتی ہدایات بھی دی ہیں جن کو اختیار کرنا سماج کے مردوخواتین باحیا اور ان کی عفت و عصمت کو محفوظ بناتا ہے۔ ان معاشرتی ہدایات میں رشتوں کی محرم اور نامحرم کی تقسیم ہے اور یہ تقسیم عفت و عصمت کے تحفظ میں کلیدی رول ادا کرتی ہے اور آزادانہ اختلاط مردوزن کو روکتی ہے۔ اسی طرح دین نے ہمیں ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کی بھی اخلاقیات بتائی ہیں اور بغیراجازت آنے سے روکا گیا ہے۔ نامحرم مردوں اور خواتین کو تنہائی میں ملنے سے بھی روکا ہے۔
دین اس چیز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بچوں تک سے متعلق ہدایات یہاں دی گئی ہیں۔
عفت و عصمت کے تحفظ کے لیے جس طرح معاشرتی ہدایات دی گئی ہیں اسی طرح سماجی ہدایات کا بھی ایک سلسلہ ہے جن کا تفصیلی علم ہمیں قرآن و حدیث سے حاصل ہوتا ہے۔ مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں مردوزن کی بے قید مخلوط محفلیں، خواتین کی جانب سے زیب و زینت کا عام اظہار اور خوشبو لگا کر نکلنا، اجنبی مردوعورت کا مصافحہ کرنا اور تنہائی میں رہنا ممنوع قرار دیا کیونکہ یہ شرم و حیا کے تقاضوں کے خلاف اور انسانی عفت و عصمت کو شکوک کے گھیرے میں لانے والے اعمال ہیں۔
آج فحاشی، عریانیت ، بے حیائی اور زنا کاری کاجو سیلاب امڈ پڑا ہے وہ قرب قیامت کی نشانی ہے اور ایسی برائی ہے جس کا انجام صرف دنیا اور آخرت کی تباہی ہے۔حضرت انسؓ سے مروی ہے انہوں نے اپنے شاگردوں سے فرمایا:
’’میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کے علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت بڑھ جائے گی، زنا کاری عام ہو جائے گی، شراب نوشی بڑھ جائے گی ۔‘‘ (بخاری)
ان تمام حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام ایک صاف ستھرے اور باحیا معاشرے کی آبیاری کرتا ہے اور زنا اور اس کے طرف لے جانے والے تمام تر اسباب و وسائل پر قدغن لگاتا ہے لیکن پھر بھی کوئی اس غلط میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسلام اس پر سزا دینے کا حکم دیتا ہے اور اسلامی حکومت کی ذمہ داری بتاتا ہے کہ وہ اس قسم کی گندگی کو سماج کا حصہ نہ بننے دیںاور یہ کسی کا ذاتی معاملہ نہیں ہے کہ وہ جس کے ساتھ مرضی ہو اور جب تک مرضی ہو تعلقات استوار کرتا ہے اور جب دل بھر جائے تو چھوڑ دے بلکہ اللہ کے قانون میں جسمانی رشتہ بنانے سے پہلے نکاح کے بندھن میں بندھنا لازم ہے اور نکاح کا اعلان یعنی گھر ، خاندان اور سماج میں نکاح کا علم بھی ہوناضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حفاظت میں رکھے۔

یہ بھی پڑھیں!

عورت: مشرق و مغرب کے درمیان

شوہر اور بیوی -ایک دنیائے جمیل

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر مبین اعظمی

Leave a Reply