گھر اور گھر کی ذمہ داری

مکان انسان کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ غذا اور لباس کے بعد انسان کی بنیادی ضرورت بلا شبہ ایک چھت ہے جس کے نیچے وہ حفاظت اور سکون محسوس کرسکے۔ مکان کی ضرورت چڑیوں اور جانوروں کو بھی پڑتی ہے۔ یہ سب اپنے اپنے گھر بناتے ہیں اور انھیں اپنے گھروں سے پیار بھی ہوتا ہے لیکن انسان جب مکان بناتا ہے تو وہ اس کے لیے صرف موسم کی شدت سے بچاؤ کا ذریعہ ہی نہیں ہوتا بلکہ سیمنٹ اور چونے سے جڑی اینٹ کی دیواریں اس کی ذہنی اور نفسیاتی نشوونماکا اہم ترین سرچشمہ ہوتی ہیں۔ بے گھر لوگوں کے ذہن کو وہ آسودگی نہیں ملتی جو معاشی، تمدنی اور سماجی ذمہ داریوں کو پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دن بھر کی تھکا دینے والی جدوجہد کے بعد جب انسان اپنے گھر میں آتا ہے تو اسے لگتا ہے وہ ایک ایسی محبت بھری آغوش میں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لیے سکون ہی سکون ہے، راحت ہی راحت ہے۔ اپنائیت کا یہ جذبہ اور مسرت کا یہی احساس دراصل اینٹ اور پتھر سے بنے مکان کو گھر کانام دیتا ہے۔
بہترین درزیوں سے لباس سلوا کر پہننے والا بھی ان کپڑوں کے اُدھڑنے پر ان کی مرمت گھر میں ہی کرواتا ہے اور ہوٹل کا کھانا چاہے کتنا ہی لذیذ کیوں نہ ہو اسے کھاتے کھاتے بھی دل اکتا جاتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ گھر میں کھانا کھایا جائے۔
گھر کے نام میںاتنی آفاقی کشش کیوں ہے؟ اس کا جواب ہے روح کی مسرت۔ لذیذ کھانا کھا کر دل مطمئن ہوتا ہے۔ روح مسرور ہوتی ہے مگریہ مسرت عارضی اور یہ آسودگی ناپائیدار ہے۔ روحانی مسرت کا اصل سرچشمہ ایثار اور خلوص ہے۔ ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں بانٹنے کا جو جذبہ ایک گھر کے مکینوں میں ہوتا ہے وہی گھر کی بنیاد کو مستحکم کرتا ہے۔ محبت کا یہ پلاسٹر جو دلوں کو جوڑتا ہے، اینٹوں کو جوڑنے والے سیمنٹ کے پلاسٹر سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ گھر کے افراد جس قدر ایک دوسرے کے نزدیک ہوں گے، ایثار کا جذبہ اتنا ہی بڑھا ہوا ہوگا، روح کو اتنی ہی مسرت ملے گی اور گھر کی معنویت اور صداقت اتنی ہی بڑھے گی اور سب ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ بچے ماں کی مامتا دیکھ اور دیکھ بھال سے اور باپ کی شفقت اور معاشی جدوجہد سے عزم و حوصلہ اور خود اعتمادی پائیں گے۔ عورت کو شوہر کی رفاقت اور بچوں کی محبت ملے گی۔ مرد کو ایک خوشحال کنبہ کا سربراہ ہونے کی خوشی ملے گی۔
جب ایک نئے گھر کی بنیا دپڑتی ہے تو یہ اپنے ساتھ کچھ ذمہ داریاں لے کر آتی ہے۔ یہ ذمہ داریاں کچھ تو گھر کے مالک کے لیے ہوتی ہیں اور کچھ گھر کی مالکہ کے لیے۔ مردوں کی ذمہ داریاں زیادہ تر باہر کی دنیا سے متعلق ہوتی ہیں اور عورتوں کی گھریلو ذمہ داریاں اور دونوں ایک سرحد پر آکر ملتی ہیں اور وہ سرحد ہے اولاد کی تربیت۔ جس کے لیے دونوں یکساں طور پر ذمہ دار ہیں۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لیے یہاں عورتوں اور مردوں کی سماجی حیثیت ایک دوسرے کی شخصیت کی تکمیل ہے۔ دونوں کے کام کرنے کے شعبے الگ الگ ہیں۔ خواتین کے فرائض میں گھر کی دیکھ بھال سے لے کر گھر کے افراد کی نفسیاتی اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے طریقوں کی جانکاری اور ان پر عمل درآمد تک کی باتیں آتی ہیں۔
قرآن کریم میں عورتوں کی ذمہ داری کا مختصراً مگر جامع ذکر ملتا ہے۔
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۝۰ۭ (النساء:34)
ترجمہ: ’’پس نیک بخت بیبیاں تو تابعداری کرتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے جس طرح خدا حفاظت کرتا ہے وہ بھی حفاظت کرتی ہیں۔‘‘
یہاں حفاظت کا صاف مطلب ہے شوہر کے مال اسباب کی حفاظت جب وہ کمانے کے لیے گھر سے چلا جائے۔ ہر قسم کی بربادی سے حفاظت چاہے چور اچکوں سے ہو یا دھول مٹی سے۔عورت کا فرض اولین مانا گیا ہے۔
ایک اچھی خاتون خانہ یہ بھی خیال رکھتی ہے کہ گھر کے تمام افراد کو ان کے شایانِ شان سلوک ملتا ہے یا نہیں۔ گھر کے کاموں میں مدد کے لیے خادمہ کی ضرورت کو سبھی عورتیں شدت سے محسوس کرتی ہیں مگر محنت کی عظمت کی بات کرنا ان کے نزدیک جہالت ہے اور خادمہ کی عزت کرنا حماقت۔ شخصی آزادی کے اس دور میں خاتون خانہ کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ خادمہ کی بحیثیت ایک فرد کے جو آزادی ہے اسے نہ چھینے اور اسے کسی طرح کوئی ایسی بات نہ کہے کہ اس کے دل کو ٹھیس پہنچے۔ عقل و انصاف کا یہی تقاضا ہے۔
اولاد کی پرورش اور تربیت اس کے لیے ایک ایسا منصب ہے جس پر وہ بجا طور پر ناز کرسکتی ہے لیکن اس پُرآشوب دور میں جب پورے سماج میں خود غرضی، تکبر اور بداخلاقی کا دور دورہ ہے، بچوں کو علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ بچوں کو کوئی بھی اچھی بات سکھانے کے لیے ماں کو خود اس پر عمل کرنا ہوگا تاکہ اس کا کردار خود پکار کر کہہ دے کہ وہ بچوں سے کیسا برتاؤ چاہتی ہے۔
بچوں کو بہ نسبت باپ کے، ماں سے زیادہ پیار ہوتا ہے، ماں کے دل میں خدا نے محبت کا ایک ایسا دریا لہرا دیا ہے جو اسے بچے کے علاج اور اس کی بہبودی کے لیے سوچنے پر اکساتا ہے اور بچے کے لیے دکھ اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ ماں کے اسی عظیم ایثار کے بدلے بچوں کو اس کی فرماں برداری کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے شکریہ کے ساتھ ہی ماں باپ کا شکریہ بھی ادا کرنے کو کہا ہے اور والدین کی نافرمانی کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی عورت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ سلیقہ مند بیویاں شوہر کی کم آمدنی کا رونا نہیں روتیں کیونکہ انھیں کم خرچ بالا نشینی کا گُر آتا ہے۔ اس کے برخلاف پھوہڑ اور بدسلیقہ عورتیں شوہر کی زیادہ سے زیادہ آمدنی کو فالتو چیزیں خریدنے میں صرف کردیتی ہیں۔ اور گرہستی بنانے پر توجہ نہیں دیتیں۔
ذمہ داری سے فرار شوہر اور بیوی میں نا اتفاقی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب حقوق کا خیال زیادہ ہوتا ہے، فرائض کے احساس کم تو دماغ میں غصہ پیدا ہوتا ہے اور یہ غصہ گھر کے کاموں سے اور بھی عدم توجہی کا سبب بنتا ہے۔ دوسروں سے ایسی امیدیں وابستہ کرنا جن کو پورا کرنا اس کے لیے ناممکن ہو، اکثر الجھنوں کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بجائے خود اپنے کردار کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے فرائض کہاں تک ادا کررہے ہیں۔ ایک مثالی گھر کا ہر فرد اپنے فرائض کی انجام دہی میں زیادہ توجہ کے ساتھ سرگرم رہتا ہے۔ حقوق کی اسے مطلق پرواہ نہیں ہوتی۔ دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دینا اور اپنی تکلیف کو بھلا کر دوسروں کو آرام پہنچانے کی کوشش میں تن من لگادینا انسانی فطرت کے ایسے محاسن ہیں جو گھر میں ہی سیکھے جاتے ہیں۔ ایسا گھر جنت کا نمونہ ہوتا ہے اور اس گھر کے افراد جہاں جاتے ہیں اپنے دلکش کردار کی خوشبو بکھیر تے ہیں۔ دراصل ہر فرد کی ذہنی زندگی کی بنیاد گھر میں ہی پڑتی ہے۔ گھر والوں کے ساتھ اس کا برتاؤ، اس کے سماجی برتاؤ کا آئینہ ہے اس لیے گھر کا کوئی بھی فرد عمدہ عادات و اطوار اختیار کرنے اور ہمدردی اور محبت کے اصولوں پر کاربند رہنے کی اپنی ذمہ داری سے بری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ خاص طور سے عورت پر تو بچوں کی تربیت کی ایسی عظیم ذمہ داری ہے جس کے لیے اسے نمونۂ عمل بننا ہی پڑے گا۔(ماہنامہ حجاب رامپور کے ستمبر 1981سے ماخوذ)

اس سے متعلق مزید پڑھیں!

گھر اور خاندان کی فکر

خواتین کی گھریلو مصروفیات اور دعوت دین

شیئر کیجیے
Default image
شبنم جعفری

Leave a Reply