سراب

سراب

پھول خوشبو، روشنی: خوشیوں کے اور جو بھی استعارے ہیں، وہ میری زندگی سے ہوکر گزرتے ہیں۔ کوئی بھلا اتنا خوش کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ کب یقین کریں گے؟ برسوں کی اولاد کی تمنا اور دعائیں جب رنگ لائیں تو میرے والدین نے صد شکر کرتے ہوئے اس رحمت کو قبول کیا جو میری صورت میں انہیں ملی تھی۔ ہتھیلی کا چھالا کہیں یا نازوں پلی،ماں باپ کی محبتوں کی چھائوں میں کس طرح آسودگی کے ساتھ زندگی کے 18 برس گزر گئے پتا ہی نہ چلا۔ ہر خواہش پوری ہوئی، اور بسا اوقات تو کہنے سے قبل ہی پوری ہوگئی۔

ماں باپ نے کیا نہیں کیا میری خوشیوں کے لیے! وہ کوئی امیر کبیر نہ تھے، لیکن میری خوشیوں کی فراہمی کے لیے خود کو تھکا ڈالتے تھے۔ ان کے کام کے اوقات طویل ہوتے گئے۔ کبھی امی ڈانٹ بھی دیتیں تو ابو خاموش کرا دیتے کہ مت ڈانٹا کرو اسے… اور ویسے بھی اسے دوسرے گھر چلے جانا ہے۔ اور امی ’’ہوں…‘‘ کہتے ہوئے خاموش ہوجاتیں۔ انسان کو اکثر اُن اشیاء کی قدر نہیں ہوتی جو اسے وافر اور مسلسل مل رہی ہوتی ہیں۔ شاید مجھے بھی بے تحاشا ملنے والی ان محبتوں اور چاہتوں کی قدر نہ آئی، جبھی تو میں نے اپنے ہاتھوں سے سب کچھ ٹھکرا دیا۔

…٭…

’’نیلم بی بی! یہ مس خدیجہ کو دے آئیں اور آکر آفس کی ڈسٹنگ بھی کردیں، خاصی گرد جمی ہوئی ہے۔‘‘ میڈیم شائستہ کی آواز سے میں یکدم چونک سی گئی۔

’’جی اچھا…‘‘ میڈم سے فائل لے کر میں اسٹاف روم کی طرف چل دی۔

’’اوہو نیلم بی بی! آپ بھی نہ جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی ہیں، فائل میں سے کاغذات نکل نکل کر گر رہے ہیں اور آپ کو ہوش تک نہیں…!‘‘ مس خدیجہ سے ملنے والی جھڑکی نے مجھے ایک بار پھر ہوش کی دنیا میں لاکھڑا کیا۔ ’’وہ… وہ مس سوری…‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے، آپ جائیں۔‘‘ انہوں نے زمین سے کاغذات اٹھاتے ہوئے کہا۔

میڈم شائستہ کی میز صاف کرتے ہوئے کتنی بار خیال آیا کہ کاش کبھی اپنے دل پر جمی گرد کو بھی ایسے ہی صاف کرلیا ہوتا، کبھی تو مالک سے دل جوڑا ہوتا، اس کا شکر ادا کیا ہوتا۔ ہاتھ دھوکر ایک بار پھر اپنی جگہ آبیٹھی۔

’’دیکھو نیلم! ہم نے تمہارے سکون اور آرام کے لیے دن رات ایک کردیے…‘‘

’’وہ تو سب ہی اپنی اولاد کے لیے کرتے ہیں، امی آپ نے کوئی خاص تو نہیں کیا۔‘‘ میں نے امی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی۔

’’مگر بیٹا! تم کیسے کسی اجنبی پر بھروسا کرسکتی ہو! بھلا ہماری محبتوں کے آگے اُس کا کیا مقابلہ!‘‘ امی کی آواز لرز رہی تھی۔ وہ کمزور نہیں تھیں، میں نے انہیں کمزور کردیا تھا۔

’’امی جان! وہ اجنبی نہیں ہے، بہت مخلص ہے میرے ساتھ۔ اس قدر امیر ہے مگر غرور نام کو نہیں۔ اس کے پاس وہ کچھ ہے جو ہم نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ خوب صورت ترین بنگلہ، گاڑی اور حسین ترین…‘‘

’’نیلم…!‘‘ امی نے بآوازِ بلند میری بے حیائی پر ٹوک لگائی تو میں بھڑک گئی ’’ٹھیک ہے، اگر آپ لوگوں کو منظور نہیں تو میں خود کچھ نہ کچھ کرلوںگی ورنہ… خود کو کچھ کرلوں گی مگر مجھے جانا ہر صورت راحیل کے ساتھ ہی ہے، آپ سوچ لیں۔‘‘ میں تو پیر پٹخ کر کمرے سے جا چکی تھی، امی کب تک اپنے پیروں پر کھڑی رہیں مجھے نہیں پتا۔

راحیل سے میری ملاقات کب اور کہاں ہوئی، یہ الگ داستان ہے۔ لیکن اُس نے میرے دل و دماغ پر اس قدر قبضہ کرلیا تھا کہ میں سوچنے، سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوچکی تھی۔ ہم مڈل کلاس لڑکیوں کا شاید یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ دولت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہیں۔ صبر، شکر اور قناعت جیسی صفات آنکھوں پر لگی سیاہ پٹی کے پیچھے کہیں جا چھپتی ہیں— میں کئی بار راحیل کے ساتھ اُس کی گاڑی میں جا چکی تھی۔ وہ دنیا میرے خوابوںکی دنیا تھی۔ ماں باپ نے بہت کچھ دیا تھا، مگر وہ آسائشیں تو نہ تھیں۔ میرے سامنے شہزادیوں جیسی زندگی کھڑی تھی، پھر بھلا میں اسے کیوں ٹھکراتی؟ ایک نہ ایک دن تو ماں باپ کا گھر چھوڑ کر رخصت ہونا ہی تھا تو یوں ہی سہی۔ میں جانتی تھی کہ امی مجھے کبھی اس راستے پر نہ جانے دیں گی اس لیے ان کے لاکھ سمجھانے کے باوجود میں نے اپنا راستہ الگ کرلیا اور ایک رات خاموشی سے گھر چھوڑ گئی۔ بیٹیاں تو مان ہوتی ہیں، ماں باپ کا سر فخر سے بلند کرنے والی مگر میں نے ان کا سرجھکا دیا تھا۔

’’نیلم تم کیسی بیٹی ہو…؟‘‘ راحیل کے ساتھ کار میں بیٹھتے ہوئے ایک دو بار اندر سے کچھ آوازیں بھی آئیں، جنہیں میں نے وہیں دبا لیا۔ راحیل نے ایک اپارٹمنٹ کے آگے کار روکی۔ میں نے اچنبھے سے اُسے دیکھا، ’’وہ بنگلہ کہاں گیا حسین ترین؟‘‘

’’ارے میری جان! تم جانتی تو ہو، ہم کتنے بھی ماڈرن ہوجائیں ہمارے والدین پر ابھی تک پرانے وقتوں کے کچھ سائے موجود ہیں، وہ اتنی جلدی کہاں قبول کریں گے ایک مڈل کلاس کی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو۔‘‘ اُس کے لہجے میں کچھ عجیب سا تھا، یا شاید مجھے لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی اُس نے مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور میں کسی روبوٹ کی مانند اُس کے پیچھے چلتی چلی گئی۔ نہایت حسن و آراستگی کا شاہکار اپارٹمنٹ مجھے اندر تک مسحور کر گیا، اور میں نے ایک بار پھر اپنے ماضی کو سر سے جھٹک دیا۔ چند ہی دنوں بعد مجھ پر وہ تمام راز عیاں ہونے شروع ہوگئے جو ایک غلط سمت اٹھائے گئے قدم کے پیچھے ہوتے ہیں۔ راحیل کے دوستوں کی آمد اور میزبانی میں لوازمات سمیت مجھے بھی پیش کردینا۔ ہماری کئی بار لڑائی ہوئی مگر بات طعنوں اور تشنوں پر آکر ختم ہوجاتی کہ جو لڑکیاں اپنے محبتوں سے لبریز والدین کے گھر کو ٹھکرا کر آتی ہیں اُن کی نہ تو زمین ہوتی ہے اور نہ آسمان،سو ایسا ہی تھا۔ میں کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اپنے گاؤں کی وسیع سڑکوں سے شہر کی بند گلیوں تک کا سفر مجھے بہت کچھ سکھا اور سمجھا چکا تھا۔ وقت بہت ہی کم تھا، آگے کھائی تھی اور پیچھے… شاید والدین کی کچھ دعائوں کا اثر۔ میں نے والدین کی سچی محبت کی قدر نہ کی تو راحیل کی جھوٹی دنیا کی قدر کیسے کرتی! ایک بار پھر گھر چھوڑنا تھا۔ در بدر کی ٹھوکریں کھاتی آبلہ پا جب والدین کے گھر پہنچی تو محلے والوں کی نظروں میں حقارت واضح تھی۔ تمسخرانہ نگاہیں ’’یہ تُو ہی ہے ناں؟‘‘، ’’ارے نیلم تم کب آئیں؟‘‘ ماں باپ نے گلی سے اٹھاکر گھر میں جگہ تو دے دی مگر میں نے ان کا دل بہت دُکھایا تھا، میں کچھ بھی کرلیتی، اُن گزرے لمحات کو واپس لانے پر قادر نہ تھی۔ بس پچھتاوا ہی مقدر تھا۔ چند ماہ بعد دنیا میں میری بیٹی کی آمد نے مجھے اندر تک لرزا کر رکھ دیا۔ اب میں ماں تھی۔ مکافاتِ عمل؟ میری راتوں کی نیندیں اڑ چکی تھیں، ہوش و حواس رخصت ہوچکے تھے۔ میرے والدین میری صورت میں ملنے والی سزا کو کب تک برداشت کرتے! ایک ایک کرکے اپنی مدت پوری کرگئے۔ اب میں ہوں، میری بیٹی زینت ہے اور ماں باپ کا خالی گھر۔

مگر اب میرے والدین کی فکریں مجھ میں سما گئی ہیں… آٹھ سالہ زینت اور اس کی آئندہ زندگی کی فکریں۔

’’ٹن… ٹن… ٹن…‘‘ اسکول کی چھٹی ہوچکی تھی، زینت میرے پاس آکر کھڑی ہوئی ’’امی آپ کو پتا ہے فرح اور اُس کا بھائی اتنی بڑی گاڑی میں اسکول آتے ہیں… اتنی حسین…‘‘

زینت کی بات سن کر مجھے کرنٹ سا لگا تھا… میں یکدم کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ تھام کر اسکول سے باہر نکل آئی، میں نے تہیہ کرلیا تھا کہ مجھے اپنی بیٹی کو قناعت، حیا، پاکیزگی اور شکر گزاری کا درس دینا ہے، وہ سب کچھ جو اس کی ماںکے پاس نہ تھا۔

ll

شیئر کیجیے
Default image
عظمیٰ ابو نصر صدیقی