2

اچھی شخصیت کا راز

الطاف حسین حالی نے کیسی پیاری بات دو مصرعوں میں سمودی ہے کہ :

فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

کیا ہم واقعی محنت کرکے انسانیت کی معراج تک پہنچنا چاہتے ہیں اور پہنچ پاتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو اس کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ایک متوازن شخصیت ہی ایک کارآمد اور کامیاب فرد کی خوبی ہے جو معاشرے کے لیے بھی اور خود انسان کی اپنی ذات کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جنھیںاپنا کر ہم اپنی ذات کو خود اپنے لیے اور پھر پورے سماج کے لیے نفع بخش بناسکتے ہیں؟ اگر اس کو مختصراً بیان کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسمانی صحت اور روحانی صحت دونوں مل کر انسان کو صحت مند اور کامیاب فرد بناتے ہیں۔

سب سے پہلے جسمانی صحت پر بات کرتے ہیں۔ اگر آپ جسمانی طور پر تندرست و توانا ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں اور اس صحت کی مہلت کو غنیمت جانتے ہوئے زندگی گزاریں۔ اس نعمت کی قدر کرنا ہمیں رسول پاکؐ نے اس حدیث میں سمجھایا ہے جس میں آپ نے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھنے کی تلقین کی ہے۔ اس میں ہے ’’صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ اس حدیث کی اہمیت ہمیں اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم بیمار پڑجاتے ہیں۔ آپ مسجد کے لیے نکلے اور اچانک گھٹنے میں ایسی تکلیف شروع ہوئی کہ مسجد پہنچنا دشوار ہوگیا۔ اس وقت اندازہ ہوگا کہ اللہ کی جانب سے ایک صحیح سلامت اور درست جسم کتنی بڑی نعمت ہے۔

اب بات کرتے ہیں صحت کو برقرار رکھنے اور اسے بہتر بنانے کی۔ اس سلسلے میں سب سے اہم رول ہماری غذا کا ہے۔ غذا میں دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک مفید چیزوں کا استعمال اور دوسرے نقصان دہ چیزوں سے پرہیز۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے گھر میں ایک غذائی چارٹ ہو اور اس کے مطابق کھانے کا نظم ہو جو چیزیں فقط زبان کا چسکا تو پورا کریں لیکن آپ کو راس نہ آتی ہوں تو انھیں اس چارٹ سے خارج کردیں۔ ایک دم سے اپنی پسند کو چھوڑنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا تو اس کا حل یہ ہے کہ یہ ہدف بنالیجیے کہ فلاں فلاں پسندیدہ لیکن صحت کے لیے نقصان دہ چیزیں چھوڑنی ہیں اور اس کی جگہ ایک مفید چیز چاہے وہ مجھے ناپسند ہی کیوں نہ ہو، اپنی خوراک میں ضرور شامل کرنی ہے۔ پھر خود پر ضبط کرتےہوئے اس پر کچھ عرصہ عمل کیجیے۔

ناشتہ لازماً کیجیے۔ عمدہ اور غذائیت سے بھرپور ناشتہ آپ کو دن بھر ہشاش بشاش رکھے گا۔ دوپہر میں مناسب کھانا ہو کیونکہ دن بھر کے کام کاج کے وقفہ میں اگر آپ بہت بھاری کھانا کھالیں گے تو شام تک طبیعت میں سستی غالت رہے گی جب کہ رات کو ہلکا پھلکا کچھ کھائیے جو بس اتنا ہو کہ معدہ کو خالی رہنے سے بچائے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پرہیز دوا سے بہتر ہے اور غذائی علاج بہترین چیز ہے۔ ہم جو کچھ کھاتے ہیں اسی کا اثر دیر سویر ہماری جسمانی صحت پر پڑتا ہے۔ مفید چیزیں صحت کو برقرا رکھتی ہیں مضر چیزوں کا بہ کثرت استعمال نقصان پہنچاتا ہے خواہ اس کا اثر فوری طور پر نظر آجائے یا دیر سے۔

دوسری اہم ترین چیز جو ہمیں جسمانی صحت حاصل کرنے کے لیے درکار ہے وہ ورزش ہے۔ اس سے آپ خود کو متحرک پائیں گے، ساتھ ہی آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ کام کرنے لگے گا کیونکہ خون کی گردش جب دماغ میں جاتی ہے تو وہ دگنا کام کرنے لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ جم ہی جائیں تو ورزش ہوگی، گھر میں رہتے ہوئے بھی تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ صرف چہل قدمی کے لیے 30 منٹ روزانہ مختص کرلیں تو آپ اپنے اندر واضح، مثبت تبدیلی دیکھیں گے، اس سے منفی سوچ سے نجات ملے گی۔تازہ ہوا اندر تک تازگی سے بھردے گی۔ چاہیں تو کوئی بھی آسان سی ایروبک ورزش بھی گھر میں کرسکتے ہیں۔ اگر آپ چست، توانا اور ذہنی طور پر مستعد رہنا چاہتے ہیں تو ورزش اور چہل قدمی کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنالیجیے، زندگی خوبصورت لگنے لگے گی اور بہت سے مسائل سے نجات مل جائے گی۔ جسمانی صحت کے حصول کے لیے تیسرا اہم چیز نیند ہے۔ آپ کتنا، کب اور کیسے سوتے ہیں یہ سب آپ کی صحت پر اتنا ہی اثر انداز ہوتا ہے جتنا آپ کا کھانا پینا اور ورزش کرنا وغیرہ۔ رات اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سونے کے لیے جبکہ دن کام کاج کے لیے بنایا ہے، جبکہ ہم راتوں کو دیر تک جاگ کر اور دن میں دیر تک سو کر فطرت کے خلاف چلتے ہیں اور حقیقتاً اپنی صحت کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں جب ہم سورہے ہوتے ہیں تو ہمارے جسم سے ایک ایسا ہارمون خارج ہوتا ہے جو ہمیں پرسکون کرتا ہے لیکن یہ صرف تب خارج ہوتا ہے جب اندھیرے میں ہم سورہے ہوں۔ کوشش کیجیے کہ عشاء کے بعد سوجائیں اور فجر سے قبل اٹھ جائیں یا پھر فجر کے وقت لازماً اٹھ جائیں۔ صبح کا بابرکت آغاز دن بھر تازگی سے ہم کنار کرے گا۔

روحانی صحت

ہماری روح پیاسی ہو اور اسے پانی نہ ملے باوجود اس کے کہ ہم اپنی جسمانی صحت پر بھرپور توجہ دینے والے ہوں تو کیا ہم ایک متوازن شخصیت کے مالک اور کامیاب فرد بن سکیں گے؟ یقینا نہیں، تو آئیے جانتے ہیں ہماری روح کی غذا کیا ہے؟

بحیثیت مسلمان ہم نہایت خوش قسمت ہیں کہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں۔ مغرب میں روح کی تسکین کے لیے میڈی ٹیشن کی جاتی ہے۔ مثلاً ااپ کو کسی ایک خاص نقطے پر نظر مرکوز کروا کر اسی لمحے میں جینے کو کہا جائے گا، مثلاً آبشار کے گرتے پانی پہ نظر جمائی جائے، اسی کو مکمل ارتکاز اور توجہ سے دیکھا جائے اور ذہن کو ہر طرح کی سوچوں سے آزاد کرکے صرف ان موجودہ لمحات کو محسوس کیا جائے۔ ہم ایسے ارتکاز اور توجہ سے نماز ادا کرنے لگ جائیں کہ سب فکریں ایک طرف رکھ کر فقط نماز پر مکمل توجہ دیں تو ہماری روح توانا ہوگی۔ یقینا ہم ایسا کرکے دنیا کی سب سے بہترین اور کارآمد میڈی ٹیشن کریں گے۔

اس سلسلے میں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ ہماری نماز یا عبادت محض عادت بن جائے ،تو ہماری زندگی پر کیسے اثر انداز ہوگی اور ہماری روح کا کیسے تزکیہ کرے گی۔ اس سلسلے میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ہماری عبادت تو عبادت کا مزہ دے ہی ہماری عادتیں بھی ہمارے لیے عبادت جیسے لطف کا ذریعہ بن جائیں۔ اگر ایسا ہو تو سمجھئے کہ ہم اپنی روح کے تزکیے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جس طرح ہمارا جسم بیمار ہوتا ہے اسی طرح روح بھی بیمار ہوتی ہے مگر اس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا اور فکر بھی نہیں ہوتی۔ روح اس وقت بیمار ہوجاتی ہے، جب ہمارے قلب و دماغ برائیوں اور بری سوچ و افکار کی آماجگاہ بن جاتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے بیڈٹاکسین ہمارے جسم کو آلودہ کرکے بیمار کردیتے ہیں۔

روح کو ان برے زہریلے مادوں سے پاک کرنے کو قرآن ’’تزکیہ‘‘ کا عمل قرار دیتاہے اور انبیاء کے بھیجنے کا مقصد یہی تزکیہ ہے یعنی روح کو برائیوں اور برے افکار و نظریات سے پاک کرنا۔

روحانی صحت کے لیے احتساب لازمی ہےکہ مجھ میں کیا غلط ہے جس کی اصلاح کرنی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے جسمانی اعضاء کے لیے ایکسرے اور دوسرے طبی ٹیسٹ۔ خود احتسابی ہمیں بے شمار روحانی بیماریوں سے بچائے گی۔ اس کے علاوہ روح کی تقویت کے لیے صدقہ کیجیے، کسی کی مدد کردیجیے، جو ہنر یا جو نعمت آپ کے پاس ہے اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیے۔ یہ سب بظاہر چھوٹے چھوٹے عمل ہیں لیکن آپ کی روحانی صحت کے ضامن ہیں۔ اسی طرح اللہ سے بہ کثرت دعا کرنا اور اس کا استغفار وہ اہم چیز ہے جو ہمیں روحانی اعتبار سے مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

ذہنی صحت

شخصیت سازی میں ذہنی صحت کی مسلمہ اہمیت سے سب ہی آگاہ ہیں۔ آپ مذکورہ بالا طریقے پر کاربند رہیں تو ذہنی مسائل کا سامنا کم ہوگا۔ یاد رکھئے اگر آپ کا ذہن منتشر خیالات کی آماجگاہ بن جائے، آپ زندگی کے منفی پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے لگیں، آپ کو خیر میں بھی شر نظر آئےتو ایسی صورتحال میں آپ اپنی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں گے۔ اپنے ذہن کو منفیت سے بچانے کے لیے اچھی، عمدہ اور معیاری کتب کا مطالعہ کیجیے۔ کتاب دوست انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ روزانہ کچھ وقت کتب بینی میں ضرور لگائیے۔ اپنے ذوق اور پسند کے مطابق کتاب منتخب کیجیے اور اسے پڑھ کر اپنی ذات کو نکھارنے کے لیے کچھ نا کچھ سیکھئے اور عمل میں لانے کی کوشش کیجیے۔ کہا جاتا ہے ’’جو نہیں پڑھتا اور جو نہیں پڑھ سکتا، دونوں برابر ہیں۔‘‘ ایسے افراد کی صحبت اختیارکیجیے جو آپ کو مثبت طرزِ عمل کی طرف ابھاریں، جن کے پاس بیٹھ کر آپ خود کو پرسکون محسوس کریں، جن کی گفتگو روشنی کی مانند ہو۔

اپنے ذہن کو مصروف رکھیں، کیسے؟ آپ اہداف طے کرلیجیے مثلاً یہ کہ آپ آج سے دس سال بعد خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ طے کرلیجیے اور پھر اس مقام تک پہنچنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیجیے۔ یوں آپ کے ذہن کو یکسوئی سے اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے ایک صحیح راستہ مل جائے گا اور آپ بہت سی ذہنی پریشانیوں سے محفوظ رہ پائیں گے۔ اخلاقی برائیوں حسد، جھوٹ، کینہ، غیبت، چغلی وغیرہ سے بچنے کی کوشش بھی آپ کے ذہنی سکون کو جلا بخشے گی۔

لوگوں کے ساتھ تعلقات

سب سے زیادہ صبر آزما مرحلہ جو شخصیت پر کی گئی تمام محنت کا عملی امتحان لیتا ہے، اپنے ارد گرد موجود افراد سے تعلق ہوتا ہے۔ ہمارے لڑائی جھگڑے زیادہ تر گھر میں ساتھ رہنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں ناکہ دوست احباب سے۔ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے صلہ رحمی پر بہت زور دیا ہے۔ جذباتی کنٹرول رشتوں کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ گھر میں ہوں یا گھر سے باہر، بس یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے کہ جیسے آپ اپنی ذات میں منفرد ہیں ویسے ہی ہر شخص اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جو دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اس چیز کو قبول کرلینے کے بعد آپ میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی ہمت بڑھ جائے گی۔ اس حقیقت کو سمجھئے اور قبول کیجیے کہ تعلقات ہمیشہ انا سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا انگریزی محاورہ ہے Agree to disagree يعنی آپ دوسرے کی کسی بات پر متفق نہ ہونے کو قبول کیجیے لیکن قطع تعلقی مت کیجیے۔

اپنا موقف نرمی سے واضح کیجیے، دلائل بھی دیجیے، اور اپنی بات بھی منوائیے لیکن نرمی سے۔ آپ کی آواز اور الفاظ کے انتخاب سے لے کر آپ کی حرکات و سکنات میں بھی شائستگی اور نرمی کا عنصر نمایاں ہونا چاہیے۔ کوئی زیادتی کردے تو معاف کردیجیے، اللہ کی خاطر اور اپنے سکون کی خاطر۔ یہ مشکل ضرور ہے لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے استقامت کی اور نرمیِ دل کی دعا مانگتے رہیے، یادر کھئے! نفسیات ہمیں ہمیشہ اپنی ذات پر کام کرنے پر اکساتی ہے کہ اپنی فکر کیجیے دوسروں کی فکر مت کیجیے۔ آپ کی ذات سے بس خیر عطا ہو مقابل بھلے شر انگیز ہو وہ آپ کا مسئلہ نہیں، آپ خود کو اتنا مضبوط بنائیے کہ جیسےایک چھتنار درخت جو ٹھنڈی چھایا بھی دیتا ہو اور میٹھا پھل بھی، اس سے قطع نظر کہ اسے کاٹا جارہا ہے، توڑا جارہا ہے، وقت پر پانی مل رہا ہے یا نہیں۔

لوگوں سے ہمارا تعلق ہمیں پرکھنے کی بنیاد بنتا ہے اور لوگ اسی سے اندازہ لگاتے ہیں کہ انسان کیا ہے۔ ایک پڑھا لکھا مگر اپنی ذات میں مگن رہنے والے انسان کو کبھی کبھی پڑوسی بھی نہیں جانتا لیکن ایک معمولی انسان اپنے اخلاق و کردار اور جذبۂ خدمت خلق کے سبب پورے علاقے میں پہچانا جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مدیحہ رحمٰن

تبصرہ کیجیے