4

جانئے بلڈ پریشر کے بارے میں

میڈیکل سائنس کے ماہرین نے بلڈ پریشر کو زندگی کے لیے ایک خاموش خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ اس کی تشخیص کافی دیر بعد ہوپاتی ہے اور اس وقت تک یہ اپنی جڑیں گہری کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق جواں افراد میں سے ہر پانچواں شخص بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری اکثریت اپنے اس مرض سے مخصوص مدت تک بے خبر رہتی ہے بلڈ پریشر اگرچہ خود تو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے ہی مگر اس سے جڑے دیگر امراض اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ ان میں قلبی امراض، انجائنا، شوگر، گردوں کا فیل ہونا، فالج اور برین ہیمریج شامل ہیں جو اکثر و بیشتر ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے لاحق ہوسکتے ہیں۔ بلڈ پریشر کا مرض پیداکرنے میں درج ذیل اسباب کا بنیادی عمل دخل ہوتا ہے۔

— نظام ہضم کی خرابی یعنی معدے کی کمزوری وغیرہ۔

— خون میں کولیسٹرول کی زیادتی، چکنائیوں کا بے دریغ استعمال۔

— خون میں ایک مخصوص چربی کا شامل ہوجانا جو کہ کولیسٹرول کے مشابہ ہوتی ہے۔

— سگریٹ، چائے، کافی، قہوہ اور شراب نوشی۔

— بعض اوقات شوگر بھی بلڈ پریشر کا باعث بن جایا کرتی ہے۔

— جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی۔

— موٹاپا یعنی حد اعتدال سے بڑھا ہوا وزن۔

— صفراوی مزاج کے حامل افراد بھی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

— ذہنی دباؤ، اعصابی تناؤ وغیرہ۔

ایک بات ذہن نشین رہے کہ تمام تر بیماریوں کا گھر معدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا امراض سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ معدہ کو درست رکھا جائے۔ جو لوگ بڑھاپے میں بھی تروتازہ اور صحت مند تندرست و توانا دکھائی دیتے ہیں ان کا معدہ افعال کے لحاظ سے بہترین کارکردگی کا حامل ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں بلڈ شوگر کا لیول درج ذیل ہونا چاہیے، ۴۹ سال کی عمر کے افراد میں بغیر کچھ کھائے پئے ۸۰ فیصد سے ۱۰۰ فیصد ملی گرام، کھانے کے بعد ۹۰ فیصد سے ۱۰۰ فیصد ملی گرام کو نارمل خیال کیا جاتا ہے۔

جبکہ ۵۰ سال کی عمر سے زائد افراد میں بغیر کھائے پئے ۹۰ فیصد سے ۱۱۰ فیصد ملی گرام اور کھانے کے بعد ۱۰۰ فیصدسے ۱۲۵ فیصد ملی گرام تک نارمل سمجھی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا مقدار سے اگر تجاوز کرجائے تو اسے بیماری گردانا جاتا ہے۔ ایک تندرست جسم میں کولیسٹرول کا تناسب ۲۲۰ ملی گرام تک ہوتا ہے اگر یہ بڑھ کر ۲۶۰ تک چلا جائے تو اسے خطرہ تو نہیں کہا جاتا البتہ خطرے کے قریب قریب خیال کیا جاتا ہے کیونکہ کولیسٹرول کی یہ مقدار قابلِ علاج سمجھی جاتی ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ایک تندرست جسم میں یورک ایسڈ کا لیول درج ذیل ہوتا ہے : مردوں میں ۶؍ملی گرام تک کو نارمل خیال کیا جاتاہے جبکہ ۷؍ ملی گرام سے زیادہ اگرچہ خطرے کے زمرے میں آتا ہے مگر ۱۰؍ملی گرام تک قابلِ کنٹرول ہوتا ہے۔

خواتین میں یورک ایسڈ کی مقدار 5.5ملی گرام تک کو نارمل کہا جاتا ہے جبکہ 8.6ملی گرام تک قابل علاج ہوتا ہے اور اس سے زیادہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے ۔بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ جوڑوں کا درد اور موٹاپا جیسے خطرناک اور پریشان کن عوارض لاحق ہوجاتے ہیں۔

جسم انسانی کا بلڈ پریشر مختلف اوقات میں مختلف ہوتا ہے۔ عام طور پر جوان افراد میں ۸۰؍سے ۱۲۰؍ تک نارمل ہوتا ہے جبکہ حالت آرام میں یہی بلڈ پریشر ۹۰؍سے ۱۴۰؍ بھی مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ عمر کے مختلف حصوں میں بلڈ پریشر کی نارمل حالت کچھ یوں ہے:

ایک سال سے ۱۳ سال تک ۷۰-۱۰۰

۱۳ سال سے ۱۸ سال تک ۸۰ – ۱۲۰

۱۸ سال سے ۳۵ سال تک ۸۵ – ۱۳۰

۳۵ سال سے ۶۰ سال تک ۹۰-۱۴۰

۶۰ سال سے اوپر ۱۰۵-۱۷۰

غذا اور پرہیز

بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ اور کولیسٹرول میں مبتلا افراد درج ذیل غذاؤں کو آزادانہ طور پر کھا سکتے ہیں:

سبزیوں میں مٹر، بندگوبھی، گاجر، مولی، شلجم، سلاد (کاہو کے پتے)، پیاز، کدو، پالک، ٹنڈے اور گھیا وغیرہ شامل ہیں۔ یاد رہے ان سبزیوں کو پکاتے وقت لہسن، ادرک، سرخ ٹماٹر، پیاز اور زیرہ سفید وہلدی کا معمول سے زیادہ استعمال کریں۔

پھلوں میں سنگترہ، مالٹا، کینو وغیرہ کا استعمال کرنے میںکوئی قباحت نہیں ہے مگر انگور، سیب اور کھجور حداعتدال میں رہ کر ہی کھائے جائیں، ۱۵ گرام کی مقدار سے شروع کریں اور بتدریج اضافہ کریں مگر دھیان رہے کہ ۵۰ گرام سے زیادہ مقدار ہرگز نہ ہو۔ پھلوں میں کیلا اور امرود سے ممکنہ حد تک بچا جائے۔ خربوزہ اور تربوز بھی کبھی کبھار تھوڑی سی مقدار میں کھائے جاسکتے ہیں۔ اگر صرف بلڈ پریشر کا مرض ہی لاحق ہو تویہ بہت ہی فوائد کے حامل ہوتے ہیں ۔ البتہ شوگر کے مریضوںکو خربوزہ تنگ کرتا ہے۔

اناجوں میں دال مونگ، دال چنا، سفید سیاہ چنے، مسور ثابت، دلیا وغیرہ بہترین غذائیں ہیں۔ چاولوں پر شوربہ ڈال کر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تڑکا لگے چاول نقصان کا باعث بن جاتے ہیں لہٰذا ابلے ہوئے چاول ہی استعمال کریں۔

توے پر پکائی ہوئی چپاتی، بیسن کی روٹی، جو کے آٹے کی روٹی (مکئی اور باجرے کی روٹی کبھی کبھار) بہترین غذائیں ہیں۔ گوشت ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔ کلیجی، مغز، گردے، کپورے اور سری پائے وغیرہ کولیسٹرول پیدا کرنے کی فیکٹریاں ہیں۔ لہٰذا ان کے کبھی بھی قریب نہ جایا جائے۔ ہاں پرندوں کا گوشت جیسے بٹیر، تیتر، مرغابی، کبوتر، فاختہ اور مرغ بہترین خیال کیا جاتا ہے۔ اور مچھلی کو مکمل اطمینان کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے۔

تلی ہوئی اشیاء مثلاً پراٹھے، سموسے، نمیکن اور چپس وغیرہ تو زہر قاتل کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان سے مکمل بچیں، اسی طرح بناسپتی گھی میں بنی ہوئی غذائیں، بازاری مٹھائیاں، بسکٹ، کیک، چاکلیٹ، پیسٹری، ٹافیاں وغیرہ بھی قطعی طور پر نہ کھائیں۔

کھانے پکانے کے لیے ہمیشہ کوکنگ آئل جیسے سورج مکھی کا تیل، سرسوں کا تیل، زیتون کا تیل وغیرہ کا استعمال کریں۔ بازاری مشروبات اور الکحل وغیرہ پینے سے ممکنہ حد تک احتیاط برتیں۔ اسی طرح سگریٹ نوشی اور پان کی عادت کو بھی بتدریج ختم کریں۔ ہمیشہ صحت مند رہنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عمر بھر نمک، چینی اور چکنائیوں کو کم سے کم استعمال کیا جائے۔ ہمیشہ رات کو جلد سویا جائے اور نیند پوری کی جائے کیونکہ جس طرح خوراک، ہوا اور پانی ہمارے جسم کی بنیادی ضروریات ہیں اسی طرح نیند بھی جسم کی ایک ضرورت ہے اگر اس کو پورا نہ کیا جائے تو کئی اہم عوارض سر اٹھائیں گے ، بلڈ پریشر بھی ان میں سے ایک ہے اسی طرح صبح نہار منھ لمبی چہل قدمی، لمبے اور گہرے سانس خون میں تازہ آکسیجن کو شامل کرتے ہیں، جس سے خون میں موجود ہیمو گلوبن کو تقویت ملتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر مشتاق احمد

تبصرہ کیجیے