6

گزرجا

یہ منظرِ دلچسپ دمِ صبح، سرِ شام

افلاک کے زینے یہ ستاروں کے در و بام

یہ موجۂ انوار، جہاں سیر، سبک گام

دل بھی ہے کشاکش میں نگاہیں بھی تہِ دام

ہر مرحلۂ شمع و شبستاں سے گزر جا

یہ گردش ایام یہ تنظیمِ مہ و سال

رفتارِ زمانہ کبھی ماضی ہے کبھی حال

نیرنگیٔ عالم یہ بدلتے ہوئے احوال

ہر چیز پہ بس ایک اچٹتی سی نظر ڈال

اور ہر روشِ عالمِ امکاں سے گزر جا

شاخوں پہ دمکتے ہوئے شبنم کے یہ گوہر

فردوں کے آثار ہیں ایک ایک روش پر

یہ سرو و گل و لالہ و نسرین و صنوبر

گلشن کی ہوائیں ہیں معطر ہی معطر

اس انجمنِ سنبل و ریحاں سے گزرجا

یہ شوخ پری چہرہ، گل اندام و خوش آواز

سر تا بقدم شوخی و رنگینی و انداز

نو خیز، جواں سال، نظر باز، فسوں ساز

شوخی کبھی، غمزہ کبھی، نخوت ہے کبھی ناز

جذبات کے اٹھتے ہوئے طوفاں سے گزر جا

ساغر کی کھنک، قلقل مینا کی صدائیں

برسات کی رت، موسمِ گل، سرد ہوائیں

چھائی ہوئی افلاک پہ بدمست گھٹائیں

ساقی کی نوازش میں ادائیں ہی ادائیں

ٹھکرا کے مے و جام خمستاں سے گزرجا

یہ دشت و جبل، صحنِ چمن، وادی و صحرا

ساحل کی خموشی سے الجھتے ہوئے دریا

خشکی کہیں، پانی کہیں، اونچا کہیں نیچا

مغرب تری منزل ہے نہ مشرق تری دنیا

یونان و سمرقند و بدخشاں سے گزر جا

یہ مدرسہ و خانقہ و کوچہ و بازار

کچھ اہلِ تجارت ہیں بہت سے ہیں خریدار

تحریر گہر بیز ہے، تقریر گہر بار

الفاظ کے دھوکے کہیں رنگینیٔ افکار

بازیچۂ تعلیم و دبستاں سے گزرجا

طوفان کی طرف دیکھ نہ ساحل کی طرف دیکھ

لیلیٰ پہ نظر ڈال نہ محمل کی طرف دیکھ

ہشیار سے رکھ کام نہ غافل کی طرف دیکھ

سب کچھ ہے ترے پاس ذرا دل کی طرف دیکھ

اور دل کے سوا ہر سروساماں سے گزرجا

ہے تیرا سفر سلسلۂ لامتناہی

ہے تیری نگہباں تری خود دار نگاہی

دے اپنی خودی پر بھی کسی روز گواہی

تو اپنی جگہ آپ ہے تقدیر الٰہی

صوفی کے بتائے ہوئے ایماں سے گزرجا

شیئر کیجیے
Default image
ماہر القادری

تبصرہ کیجیے