صدائے دل (مولانا آزاد کی ایک زندہ اور جھنجھوڑ دینے والی تحریر جو موجودہ حالات کے تناظر میں ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔)

دنیا میں قوموں کے لیے بڑے بڑے کام ہیں۔ بہت سے ہیں جن کو اپنے ایوانِ حکومت اور تخت و جلال کی آرائش کرنی ہے، بہت سے ہیں جن کو اپنے عظیم الشان متمدن شہروں اور اپنی عالمگیر تجارت کی حفاظت مقصود ہے۔ بعض اپنی قومی دولت و ثروت کے بڑھانے کی فکر میں ہیں اور بعض خدا کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے انتظام میں ہیں۔ لیکن غور کرو کہ اب ہمارے لیے دنیا میں کیا باقی رہ گیا ہے؟ حکومتیں باقی نہیں رہیں کہ ان کے دبدبہ و سطوت کا نقارہ بجائیں ، دولت و ثروت کب کی جاچکی ہے اور جو رہ چکی ہے وہ بھی برف آتش زدہ ہے، نئی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کیا فکر کریں کہ جو چند گوشے اپنے ایام ذلت و نکبت بسر کرنے کے لیے باقی رہ گئے تھے ان کے لائق بھی نہ نکلے۔ تہذیب و تمدن کی جگہ وحشت و جہالت ہمارا مایۂ انسانیت سمجھا جاتا ہے اور دنیا کی قوموں کی فہرست میں ہمارے نام کے ساتھ ’’وحشی‘‘ اور ’’ناقابلِ حیات زندگی‘‘ کے القاب لکھے جاتے ہیں کیونکہ اللہ کی زمین پر رہنے کے اب قابل نہیں رہے ہم سے زمینیں چھین لینی چاہئیں اور جس قدر جلد ممکن ہو ہمارے بار ذلت سے دنیا کو پاک کردینا چاہیے۔ ہماری تیرہ سو برس کی تاریخ کے بعد آج کل کی سرگذشت حیات صرف اتنی ہی باقی … رہ گئی ہے : فیا للعار! ویا للاسف! واہ ! آہ ثم آہ!
گلگونۂ عارض ہے نہ ہے رنگِ حنا تو
اے خون شدہ دل تو تو کسی کام نہ آیا
ہماری تمام متاع اقبال لٹ چکی ہے۔ ایوانِ حکومت کھد رہے ہیں تختِ شاہی لٹ گئے ہیں۔ اب ہمارے پاس کچھ باقی رہ گیا ہے تو بس یہی چند مسجدوں کی محرابیں ہیں اور چند عبادت گاہوں کے صحن اور یا پھر وہ گنبدِ سبز جس کے نیچے دنیا کا سب سے بڑا انسان آرام کررہا ہے۔
پھر اے وہ لوگو! کہ اپنے ایوان حکومت کی حفاظت نہ کرسکے کیا آج خدا کی عبادت گاہوں کی محرابوں اور اس کی صدائے توحید بلند کرنے کے مناروں کی بھی حفاظت نہ کرسکو گے؟
غفلت سرشت انسان کاقاعدہ ہے کہ بہت سی مصیبتیں اس کے لیے اس قدر جگر دوز اور زہرہ گداز ہوتی ہیں کہ ان کا تصور بھی کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے لیکن پھر جب وقت آجاتا ہے اور وہ مصیبت سر پر آکر کھڑی ہوجاتی ہے تو کچھ دیر تک متحیر رہ کر، کچھ دیر رو دھوکر اور کچھ دیر تک ماتم و فغاں سنجی کرکے آگے بڑھ جاتا ہے اور جس وقت کے تصور سے لرز جاتا تھا اس کو اس طرح جھیل جاتا ہے گویا کوئی واقعہ ہوا ہی نہ تھا۔
ایک مدت سے ہم عالم اسلام کے آخری مصائب کے تصور سے کانپ رہے ہیں، ’’آخری وقت‘‘ اور ’’فیصلہ کن وقت‘‘ ہماری زبانوں پر ہے۔ ہم اس وقت کا ذکر کرتے تھے جب اعدائے اسلام ہمیں نیست و نابود کردینے کے لیے اکٹھا ہوجائیں گے۔ ہم اس مصیبت کبریٰ کے خیال سے لرز اٹھتے تھے۔ جب دشمن قسطنطنیہ کے دروازوں پر آپہنچیں گے۔ ہم غافلوں کو ڈراتے تھے کہ ہوشیار ہوں کیوں کہ ایک وقت آنے والا ہے جب آخری فیصلہ کی گھڑی سر پرآجائے گی۔ ہم سوتوں کو جگاتے ہیں کہ اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ فزعِ اکبر اور طامۃ الکبریٰ کا وقت بھی کبھی نہ کبھی آنے ہی والا ہے۔ جب فنا و بقا اور موت و حیات کا فیصلہ آخری ہوجائے گا۔
پھر اگر آنکھیں کھول کر دیکھو تو وقت موعود اور مصیبت منتظرہ کا دن تو آگیا اور اگر اس کی آخری ساعات نہیں آئی ہیں تو ان کو بھی دور نہ سمجھو۔ لیکن کیا اپنی غفلت پیشگی کی عام عادت کی طرح اس بارے میں بھی ہمارا ویسا ہی حال ہوگا جیسا کہ ہر آنے والی مصیبت کے آجانے کے بعد ہوا کرتا ہے؟ کیا ہم اسے جھیل جائیں گے؟ کیا چند آنسوؤں کی ریزش اور چند آنسوؤں کی کشش سے زیادہ اور کچھ نہ ہوگا؟ اور کیا پانی سر سے گزرجائے گا اور ہمارے ہاتھوں کو حرکت نہ ہوگی؟
خاکم بدہن تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلو کہ وہ سب کچھ ہوگیا جس کے ہونے میں اب کچھ دیر نہیں ہے، چشم تصور سے کام لو کہ جس آخری ساعت کے تصور سے ڈرتے تھے اور ڈراتے تھے وہ مع اپنی آخری ہلاکتوں اور بربادیوں کے آگئی۔ انگلستان نے عرب و عراق اور حجاز و حرمین کی ریاست کی دیرینہ آرزو پوری کرلی۔ شام پر فرانس نے قبضہ کرلیا۔ بقیہ ایشیا جرمنی کے زیرِ علَم آگیا۔ قسطنطنیہ اور درئہ دانیال کا بھی وہی حشر ہوگیا جو مسئلہ مشرقی کے انفصال کے وقت سب سے پہلے ہوکر رہے گا اور اپنی موت کی آخری خبر بھی ہم نے موجودہ جنگ کی خبروں کی طرح رپورٹر کی زبانی سن لی۔ تو پھر بتلاؤ کہ اس وقت اس کے سوا اور کیا ہوگا جو کچھ اس وقت ہورہا ہے؟ کیا در ودیوار سے سر ٹکراؤ گے؟ کیا آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور صحراؤں میں چلے جاؤگے؟ کیا گنگا اور جمنا کی سطح تم کو اپنی آغوش میں لے کر بچالے گی یا بحر عرب کی موجوں میں تمہیں پناہ مل جائے گی؟
اگر ایسا نہ ہوگا تو پھر کیا دنیا میں کوئی انقلابِ عظیم ہوجائے گا؟ کیا آفتاب اپنے مرکزِ حرکت کو چھوڑ دے گا؟ کیا زمین حرکت سے معطل ہوجائے گی؟ کیا یہ ستارے آپس میں ٹکرا جائیں گے؟
اگر یہ بھی نہ ہوگا تو کیا ہم رات کا سونا اور دن کا کاروبار چھوڑ دیں گے کیا کھانا پینا بالکل بند کردیں گے؟ کیا ہم میں زندگی کی احتیاج باقی نہیں رہے گی؟ حالانکہ ہم کو دنیا کے اندر تبدیلی پیدا ہونے کی خواہش کا کیا حق ہے جب کہ ہم خود اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتے؟
دنیا اس طرح کبھی نہیں بدلی ہے اور وہ ہماری امیدوں اور ولولوں کی تابع نہیں۔ ایران نے بابل کو مسمار کردیا مگر آفتاب اسی طرح طلوع ہوا جیسا کہ روز ہوتا تھا۔ سکندر نے ایران میں آگ لگادی مگر انسان نے اپنے گھروں کو اور صحرا کی چڑیوں نے اپنے آشیانوں کو نہیں چھوڑا۔ بابل و نینوا کے عظیم الشان تمدن برباد ہوگئے، مگر ان کی بربادی کے ماتم میں شاید کائنات کے ایک ذرے نے بھی زحمت نہیں اٹھائی۔ یونان اور رومۃ الکبریٰ کے طلائی مندروں اور سنگی دارالعلوموں کی دیواریں سرنگوں تھیں اور اسکندریہ کے بیت العلم کا چراغ گل ہوگیا تھا۔ مگر عرب کے شتر سواروں نے کب اس کی پروا کی اور انقلابِ عظیم نے کب کاروبارِ عالم کو معطل کیا؟
اس کائناتِ ارضی کی گھڑی اپنے کیل پرزوں پر چل رہی ہے اور وہ ان حوادثات و تغیرات سے بند نہیں ہوسکتی۔ پس اس کی تبدیلی کی خواہش بے فائدہ ہے۔ اس میں نہ کبھی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ ہماری خاطر اب ہوگی۔ یہ کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں ۔ البتہ ایک دنیا خود تمہارے اندر موجود ہے۔ سخت تعجب اور حیرت ہے اگر ان حوادثات و انقلابات سے خود ان کے اندر کوئی تبدیلی نہ ہو! اور اگر اس وقت نہ ہوگی تو پھر کس وقت کا انتظار ہے؟
ہماری ساری بدبختی اس میں ہے کہ ہم اپنی فتح و شکست کو ایڈریانوپل کے سامنے ڈھونڈھتے ہیں، حالانکہ اس کا اصلی میدان ہمارے دل کے اندر ہے۔ جب تک ہم خود اپنے اندر فتح یاب نہ ہوں گے اس وقت تک باہر بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
ہاں! ایک وقت آنے والا تھا اور وہ آگیا۔ ایک یوم الفصل تھا، جس کا آفتاب طلوع ہوگیا۔ پرانی پیشین گوئیوں میں کہا گیا ہے کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکل چکا ہے اور توبہ کا دروازہ (کہ فقط مایۂ امیدواری ما بدبختاں عالم بود) روز بروز ہم پر بند ہورہا ہے۔
پس وقت آگیا ہے کہ جس کو اٹھنا ہے اٹھے، جس کو چلنا ہے چلے اور جس کو اپنے روٹھے ہوئے خدا سے صلح کرلینی ہے کرلے۔ کیونکہ ساعت آخری، نتائج سامنے، مہلت قلیل اور فرصت مفقود ہے۔
موسم گزر رہا ہے۔ آسمان ہمیشہ مہربان نہیں ہوتا اور وقت جاکر واپس نہیں آتا۔ آج آٹھ ماہ سے دیکھ رہا ہوں عالم اسلام میں جو ایک عام حرکت بیداری ہوگئی ہے اور موجودہ مصائب نے بالخصوص مسلمانانِ ہند کے دلوں پر اضطراب طاری کردیا ہے۔ وہ ایک اصلی اور حقیقی قوتِ کار اور آخری فرصتِ عمل ہے جس سے اگر کوئی صحیح اور موصل الی المقصود کام نہ لیا گیا تو پھر ہمیشہ حسرت و ماتم کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔
——

شیئر کیجیے
Default image
مولانا ابوالکلام آزادؔ

One comment

  1. بہت عمدہ تحریر اور سبق آموز دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا واقعی آج بےبسی کا رونا ہم رو رہے ۔۔ہمسے اچھے اور بہت اچھے وہ ۳۱۳ تھے جو ۱۰۰۰ سےلڑے بھی اور ۷۰ کو بندی بھی بنا لئے۔اللہ رحم فرمائے آمین

Comments are closed.