رمضان کی تیاری!

رمضان وہ مہینے ہے جس کے آتے ہی عالم بالا کے اہتمام و انتظام کا عجیب حال ہوتا ہے۔ جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، شیاطین قید کردیے جاتے ہیں اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ ’’اے نیکی کے چاہنے والے آگے بڑھ اور اے بدی کرنے والے بدی سے رک جا۔‘‘

حضرت نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے اس مہینہ میں ایک نفل نیکی کی گویا اس نے دوسرے زمانے میں ایک فرض ادا کیا اور جس نے اس زمانے میں ایک فرض ادا کیا گویا اس نے اور زمانے میں ستر فرض ادا کیے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ غمخواری کا ہے۔ اس ماہ میں مومنوں کے رزق میں برکت دی جاتی ہے ، اس مہینہ کا پہلا عشرہ رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت ہے، اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کا حکم تھا کہ ’’شعبان کے چاند کا خیال رکھو رمضان کے لیے۔‘‘ (ترمذی)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو ماہِ مبارک کا کس قدر انتظار رہتا تھا۔

صحیح روایات میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ شعبان کے مہینہ میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ لمعات میں ان روزوں کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں کہ:

’’ماہ رمضان المبارک کے برکات قبول کرنے کی زائد زائد صلاحیت پیدا کرنے کے لیےیہ روزے رکھے جاتے تھے۔‘‘

شرح سفر السعادت میں فرماتےہیںکہ: ’’بعض  لوگ کہتے ہیں کہ ماہ شعبان میں حضورؐ کے روزوں کی کثرت کی وجہ یہ تھی کہ رمضان کے مہینے کی لذت و حلاوت بڑھ جائے۔‘‘

گیارہ مہینے کے صبر اور انتظار کے بعد یہ مبارک مہینہ پھر ہمارے درمیان جلوہ افروز ہونے والا ہے، کاش! ان مبارک دنوں اور راتوں کی ہم قدر کریں اور اس کے حقوق ادا کریں، کیا خبر دوبارہ اس مہمان عزیز سے ہماری ملاقات ہو نہ ہو، پھر کیوں نہ جی بھر کے اس کا اعزاز و اکرام کیا جائے، اور کیوں نہ اس کی برکات سے نفع اٹھایا جائے۔

بخاری و مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے رمضان کے روزے یقین اور احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کیے گئے جس نے یقین و احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کیے گئے۔ جس نے شب قدر میں یقین اور احتساب کے ساتھ قیام کیا (یعنی نماز پڑھی) اس کے پچھلے گناہ معاف کیے گئے۔‘‘

غور فرمائیے اس روایت میں یقین اور احتساب کو بار بار دہرایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یقین اور احتساب بہت ہی اہم چیز ہے اور ان عبادات کی روح ہے۔

حضرت مولانا انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احتساب کا لفظ احادیث میں اکثر استعمال ہوا ہے۔ جاننا چاہیے کہ اعمال میںایمان کا شرط کا ہونا تو ظاہرہے، اس لیے کہ ایمان کے بغیر عبادت کا کوئی اعتبار نہیں۔ باقی رہا احتساب تو اس کا منشاء یہ ہے کہ جو عمل ہو وہ غفلت کے ساتھ نہ ہو قلب میں اس کا شعور موجود ہو اور نیت کا استحضار رہے گویا احتساب کا مفہوم و مقصد نیت سے بھی آگے ہے۔

منشا یہ ہے کہ یہ عبادات محض عادتاً نہ ہوں بلکہ ہر عبادت کے لیے ضروری ہے اس کے بغیر بندگی کاذوق اور شوق تسکین نہیں پاتا۔

l

شیئر کیجیے
Default image
محمد اویس ندوی