رمضان:احتساب اور اصلاح کیسےہو؟

ایک مسلمان وہ مرد ہو یا عورت، جب تک اپنا بے لاگ احتساب نہیں کرتا، اس کی اصلاح کے مواقع سامنے نہیں آتے۔ کمی کہاں ہے؟ خطا کیا ہے؟ گناہ کیا ہیں؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ یہ سب ذاتی طور پر عوام الناس کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ صغیرہ ، کبیرہ، ظاہری، باطنی، جانے انجانے کیے گئے گناہوں کی معافی مانگ تو لیتے ہیں لیکن اس جملے کی روح سے نابلد ہوتے ہیں۔ ندامت کا کوئی جذبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ہوائی باتیں اور زبان کی ورزش کے سوا کچھ نہیں ہوتا، نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بھاٹا اٹھتا ہے، اور آنکھوں سے جواب دہی کے خوف کے برکھا تو کیا برستی، نمی تک نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی خطاؤں پر نظر ہی نہیں ہوتی۔ نفس تسلی دیتا ہے کہ ہم نے نہ کوئی قتل کیا ہے، نہ ڈاکہ ڈالا ہے، نہ زنا کیا ہے اور نہ ہی ملک و قوم سے غداری کی ہے۔ ہم ایک اللہ کو مانتے ہیں، اس کے محبوب نبی کریمﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں،حج و عمرہ کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور یہ سب اعمال کرنے کے باوجود ہم استغفار بھی کرتے ہیں۔

یقینا یہ سب ایک مسلمان کی صفات ہیں اور جنت ایسے مسلمانوں کے لیے واجب ہے، مگر کیا ہم حقوق اللہ، حقوق العباد کی ادائیگی میں معیار کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ نیکی کے معاملے میں کمتر معیا ر پہ راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کے لیے معیار اعلیٰ ترین ہے؟

میزان اسی لیے تو رکھی جائے گی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا پھر آخرت کی چاہت میں وزن زیادہ ہے۔ سچی اور کھری چاہت پر ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تلقین کی :

’’اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر نفس یہ جائزہ لیتا رہے کہ وہ اپنے کل (آخرت) کے لیے کیا جمع کررہا ہے، بے شک اللہ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔‘‘ (کہ وہ عمل کتنا معیاری ہے)

اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہےکہ’’اور فاسق اور مومن کبھی برابر نہیں ہوسکتے، جیسے اہلِ جنت اور اہلِ جہنم برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ اہلِ جنت میں شامل ہونے کے لیے ابھی سے اپنا بے لاگ احتساب کرنا ہوگا۔ کوئی نہیں جانتا کہ زندگی کی مہلت کب ختم ہوجائے اور پھر رب کے حضور پیش کردہ اعمال معیاری نہ ہونے پر کفارے کی کوئی صورت نہ ہو۔

محاسبہ احتساب بہتر سے بہترین کا سفر ہے۔ ٹارگیٹ، منزل یا نصب العین کو پورا کرنے کے لیے کماحقہ کوشش کرتے ہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بروقت تدارک کرنا ہے۔ جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کرلینا ہے، تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہوجائے۔ اس کو قرآنی زبان میں تقویٰ اختیار کرنا کہتے ہیں۔ یہاں تو مالک رب کائنات ہے اور اس کے حضور پیشی کسی لمحے بھی متوقع ہے اور اس کی نگاہوں سے کسی لمحے بھی ہم اور ہمارے اعمال اوجھل نہیں ہوسکتے۔ اس رب کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس رب کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا اسی قدر مومن ’’ولتنظر نفس ما قدمت لغد‘‘ کی حقیقت سے واقف ہوگا، اور جواب دہی کا احساس ہر لمحہ غالب رہے گا۔

پہلا محاسبہ اپنے ایمان کا یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو۔ ’’اللہ ایک ہے۔‘‘ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کی ذات پر ایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کے ساتھ پورے کرنا ہی اس کو ایک ماننا ہے۔ شرکِ خفی اور جلی کا علم کما حقہ ہونا چاہیے۔ شرک تو کسی صورت معاف نہیں ہوگا اور شرک کی ملاوٹ کے ساتھ بڑے سے بڑا عمل صالح بھی ناقابل قبول ہوگا۔ افکار و اقوال میں، اعمال و معاملات میں اللہ رب العزت کی ذات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ بھی ہو اور شک، تذبذب اور شرک بھی موجود ہو، ’’دنیا کیا کہے گی‘‘ کا خوف بھی ہو، روزی کے حصول میں کامیاب ہونے کے لیے ’’مروجہ دنیاوی اصول‘‘ بھی سہارا لگتے ہوں، مشکل کشا اللہ کی ذات بھی سمجھی جائے مگر واسطے کے لیے غیروں کے در پہ حاضری بھی ہو، تو ایمان کی یہ کون سی شکل ہے؟ شرک کم ہو یا زیادہ، توحید کو خالص نہیں رہنے دیتا اور ’’ادخلوا فی السلم کافۃ‘‘ اور ’’للّٰہ الدین الخالص‘‘ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایمان وہی قابلِ قبول ہے جو خالص ہو،اور ہمہ پہلو مکمل ہو۔ ہم اپنے اعضا و جوارح سے، ذاتی پسند و ناپسند کے معیار سے، خاندان و برادری کے اصولوں سے پرکھ سکتے ہیں کہ ہم صرف ایک اللہ کے کتنے فرماں بردار ہیں۔ اس ایک اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کی جواب دہی کے لیے کتنے لرزاں ہیں۔ کیا واقعی ہم اللہ کو ایک مانتے ہیں؟ لیکن یہ کیسا ایمان ہے، کیسی محبت ہے کہ اس وحدہٗ لاشریک کی ایک نہیں مانتے، یا جو من کو پسند ہو وہ مانتے ہیں اور انفرادی و اجتماعی معاملات میں اپنے رب کو احکم الحاکمین تسلیم نہیں کرتے اور اس رب کائنات کے حضور پیشی کو معمولی حاضری جانتے ہیں۔ ہر مومن اپنا خود محاسب بنے اور سوچے کہ اس نے اپنے رب کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کو صرف اور صرف ’’ایک‘‘ تسلیم کرنے کے کیا ثبوت تیار کررکھے ہیں؟

’’ولتنظر نفس ما قدمت لغد‘‘ کی تلقین سراسر ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے، ورنہ وہ مالک یوم الدین تو’’علیم بذات الصدور‘‘ ہے ، یہ سب ریکارڈ تو ہمیں ہی دکھانے مقصود ہیں۔اس دن جب ذرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائی جائے گی اور کسی پہ ظلم نہ کیا جائے گا۔ جب حکم ہوگا پڑھو اپنے اعمال نامے، کہ آج ہر نفس کو اپنے کرتوت دیکھ کر خود ہی اپنا مقام سمجھ آجائے گا، اس دن کی شرمندگی یادر رکھنا بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ذات کو ایک ماننا ہے۔ دنیا کے انسانوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا اللہ کی ذات کو بھلا دینا ہے۔ جو دنیا کی خاطر اللہ کو بھلا دینا ہے تو پھر اللہ بھی اسے بھلا دیتا ہے، اور اللہ کا کسی کو بھلا دینا یہ ہے کہ اس سے اپنی حالت بہتر کرنے کا احساس چھین لیا جائے اور اس کے لیے ہدایت کے راستے بند ہوجائیں۔

اصلاح کے طریقے

تجدید ایمان کی تلقین ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا ذکر کرنے سے کی گئی ہے۔ جب بھی یہ ذکر کیا جائے تو اپنے اور اللہ رب العزت کے درمیان جو رشتہ ہے اس کو شعوری کوشش کرکے دل میں محسوس کیا جائے۔

اسماء الحسنیٰ کو یاد کرنے پر جنت کی بشارت ہے۔ اسماء الحسنیٰ دراصل اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔ معرفت محض زبان سے نام دہرانے سے نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی ذات کی معرفت مانگیں بھکاری بن کر، جس کی جھولی بھرگئی وہ ولی اللہ ہوگا۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کے شعوری تصور کی پریکٹس دن میں پانچ مرتبہ اس لیے فرض کی گئی ہے کہ دیگر اوقات میں بھی یہ عمل جاری رہے۔

رمضان المبارک کے ایام اس پریکٹس میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ اگلے گیارہ ماہ یہ مشق جاری رہے۔

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو اللہ کے رسولؐ کا یہ قول ہمیں بہ آسانی سمجھ میں آجائے گا جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے ایمان کے ساتھ اپنی ذات کا احتساب کرتے ہوئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پہلے گناہ (گویا) بخش دیے گئے، اور جس نے ایمان کے ساتھ اپنا احتساب کرتے ہوئے رمضان میں قیام (تراویح و نفل) کا اہتمام کیا تو (گویا) اس کے پچھلے گناہ بخش دیے گئے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

شیئر کیجیے
Default image
بشری تسنیم