6

اس دن سے میں بدل گئی

بات ان دنوں کی ہے جب ہمارا خاندان اٹارسی میں رہتا تھا۔ والد صاحب ریلوے آفیسر تھے، اس لیے محکمہ کے تمام ملازمین ان کی عزت کرتے تھے لیکن ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو ان کی خوشامد میں لگے رہتے۔ میری والدہ بہت مذہبی، سیدھی سادھی اور روایت پسند خاتون تھیں۔
ہماری رہائش گاہ کے قریب ہی ریلوے کے درجہ چہارم کے ملازمین کی کالونی تھی۔ سب والدہ کو اماں جی کہتے تھے۔ ان لوگوں کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت پڑتی والدہ ان کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتی تھیں۔ کسی کا بچہ بیمار ہویا کسی کی طبیعت خراب ہو وہ ہر ایک کی مدد کے لیے حاضر رہتی تھیں۔ ان لوگوں کے ساتھ والدہ کا رویہ مجھے بالکل پسند نہ تھا، میں احتجاج کرتی لیکن وہ ہمیشہ ہنس کر ٹال جاتی تھیں۔
والد صاحب کا تبادلہ بھوپال ہوگیا۔ وہ گھر کے دیگر ممبران کے ساتھ بھوپال چلے گئے، مجھے اور میرے بھائی کو کچھ سامان کے ساتھ بعد میں جانا تھا۔ جو لوگ ان کے آگے پیچھے لگے رہتے تھے وہ اب کہیں نظر نہ آئے۔ جس دن ہمیں جانا تھا اس دن گھر کا سامان ریلوے اسٹیشن تک پہنچانے کے لیے ہماری مدد کرنے کوئی نہیں آیا۔ بہت سا سامان، میں اور میرا اکیلا بھائی، مئی کی تپتی دوپہر اور ہم دونوں بھوکے پیاسے پریشان کہ سامان اسٹیشن تک کیسے پہنچایا جائے۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد ہماری قریب کی کالونی کے کچھ ملازمین ہماری والدہ جن کی مدد کیا کرتی تھیں، اپنی شفٹ کی ڈیوٹی ختم کرکے گھر لوٹتے دکھائی دئے۔ ان لوگوں نے ہماری حالت دیکھی تو ان میں کچھ لوگ ہمارے پاس آکر بولے: بہن آپ پریشان نہ ہوں، ہم لوگ آپ کا سامان گاڑی تک پہنچا دیتے ہیں۔ پھر فوراً ہی ان لوگوں نے اپنے کئی دیگر ساتھیوں کو بلالیا ، ان لوگوں نے ہمارا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر گاڑی تک پہنچایا۔ جب ہمارا سامان ٹھیک طرح سے لاد دیا گیا تو میں نے ان کو کچھ روپیہ دینا چاہا لیکن ان سب نے منع کردیا اور کہنے لگے: آپ کی والدہ نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح پیار اور عزت دی ہے۔ ہم اپنی بہن سے روپیہ کیسے لے سکتے ہیں بلکہ ہم تو آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ آپ کو جب بھی ہماری ضرورت پڑے ہمیں خدمت کا موقع ضرور دیں۔
ان لوگوں کی باتوں سے میرا دل پگھل گیا۔ جن لوگوں کو میں پسند نہیں کرتی تھی آج ان ہی لوگوں نے بلا معاوضہ ہماری مدد کی تھی۔ اس دن سے میں سمجھ گئی کہ انسان کی عزت اس کے دل کی گہرائی سے ہونی چاہیے، عہدہ یا ذات پات سے نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: محمد اسلام عمری

تبصرہ کیجیے