Doubt

شک کا جرثومہ

شک ایک راز ِ حیات بن کرہماری زندگی میں دبے پاؤں داخل ہوتا ہے اور کہیں سے ایک اچٹتی ہوئی خبر ہمارے ہاتھوں میں تھما کر چمپت ہوجاتا ہے۔ پہلے پہل ہمارے ہاتھ ایک بات کا شوشا لگتا ہے جو ہمیں شہ دے جاتا ہے۔ پہلے ہی حملے میں یہ حیرت کا تحفہ تھما دیتا ہےاور یہی حیرت ، علمی انکشاف کاخوش گوار بہروپ لیے ہم سے دانش چھین لیتی ہے۔یہ عجائب پر اعتبار بڑھا کر حقائق کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے۔ ہم تشویش میں گھرجاتے ہیں۔ یہ تشویش ’آنے والے کل ‘ کے دکھوں کو کم نہیں کرتی بلکہ ’آج ‘کی طاقت گھٹا دیتی ہے۔شک اپنی شرط یعنی بے ثبوت ایمان لانے پر اصرار کرتا ہے۔ یہ شک جو دلیل کو چھوڑ کر توہّم کی طاقت پر جیتاہے، اس کے سبب ہم لوگ کہیں دور ہونے والی سرگرمی پر چراغ پا ہوجاتے ہیں، اور خود اپنے خیموں میں بھڑکنے والے چراغوں سے بے خبر رہتے ہیں۔یہاں سے زندگی بے ارادہ خدشوں کی مہمان نوازی میں خرچ ہونے لگتی ہے۔برا خیال ناپسندیدہ اور بن بلائے مہمان کی طرح ہوتا ہے۔ اسے ریشمی لحاف اورگاؤ تکیہ دے کر اپنے ساتھ بیڈ روم میں نہ سلاؤ۔ یہ تنہائیاں بربادکرتا ہے۔ پھر ہمارے ارادے خود ہمارے بہانوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ ہماری مصروفیت بدل جاتی ہے۔ ہر دم ٹوہ میں رہنا، کسی دھڑکے کو دل کی دھڑکن بنائے رکھنا، کسی جولاہے کی طرح الجھے ہوئے دھاگوں کے تانے بانے جوڑتے رہنا، کسی نیم حکیم کی طرح ادھورے مربّے اپنی بھیجہ کی کٹوری میں کوٹتے رہنا،یہاں پر شک اپنی ہی عقل کا چراغ بجھا دیتا ہے۔ جیسے آدم خور اپنی ہی نسل کو مار کھاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح اپنی ذات کے ہر بہتر امکان کو ہم مار کھاتے ہیں۔ کوئی بہتر تمنا اس کے ساتھ زندہ نہیں رہتی ۔

شک گونگا ہتیارا ہے جو ہماری متاع ِجاں اُچک لیتا ہے۔ سامنے پڑے سونے کے زیور کا اعتبار اٹھا دیتا ہے۔ یقین کی سیدھی نظر کو بھینگی بنا دیتا ہے۔ رشتوں کی قدر گھٹا دیتا ہے۔ اس کے سبب ہر طرح کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔دنیا چاہنے والوں کا بھی اور خداپانے والوں کا بھی۔ یہ امید کی راہیں بندکرتا ہے۔ ہر قدم پر اسے خطرات کا جوکھم لگتا ہے۔ پھولوں کی ڈالی پر کھلے گلاب نظر نہیں آتے بلکہ اسے پھولوں کے اطراف خاروں کا گھیراؤ کھٹکتا اور اندر کانٹوں کا گمان ہوتا ہے۔خوف کے تیزابی بادل اپنے اطراف یقین کی دنیا کو تاراج کردیتے ہیں۔ ذہن کی رہ داریوں ،روشوں میں ہر جگہ اسے شک کے سانپ نظرآتے ہیں۔ نئے اوہام جنم لیتے ہیں۔ جس کے سبب پیدا ہونے والی ذہنی تھکاوٹ بزدل بنا دیتی ہے۔ اپنے گھڑے ہوئے خیال کو سمیٹ کر اگر کوئی اپنی ذات کے کمرے میں بند رہے گا تو کائنات کے آنگن کے منظروں سے محروم رہ جائے گا۔

شک تنہا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک پورا قبیلہ ہوتا ہے۔یہ بڑی آسانی سے ہمارے قریہ جاں میں وبا بن کر پھوٹ سکتا ہے۔یہاںنہ آپ کی ڈگری کام آتی ہے نہ عہدہ۔شک سے ہمارے ارادوں میں تھکن پہلے ہوتی ہے ، بدن میں بعد میں۔ہمارے مقاصد میں الجھاؤ ہوتا ہے صلاحیتوں میں نہیں۔یہ اندیشے بڑھاتا ہے۔ ہلکے سے تردود کو بھی تباہ کن دشمن کی سفاک چوکی بنا کردکھاتا ہے۔

شک کی دھیمی آنچ میں مضبوط گھرانوں کی قلعہ جل بھج جاتے ہیں۔ رشتوں کا تقدس باقی نہیں رہتا۔ وہ شک چاہے گرہستی میں آئے یا منڈی بازار میں۔ اس لیے اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے ٹھوک بجاکر دیکھ لیں کہ اپنی آنکھ کا تنکہ کہیں شہتیر نہ بن گیا ہو۔ ہماری آنکھوں کے آگے کسی خیال کارنگ عینک بن کر چھانہ گیا ہو۔ میرے پاس ہر الجھن کا ایک فارمولا ہے۔اس سے بچنے کا آسان حل یہ ہے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ نبی ٔ رحمتؐ نے کس طرح سے ان مسائل کو حل کیا ۔اس کا خلاصہ درج ذیل نکات میں پیش ہے:

1- حواس گم ہوتی گھڑیوں میں اپنے کمھلائے ہوئے یقین کی خبرلیں جہاں آپ نے بڑی مہات کی دنیا جیتی تھی۔ ہر اس کامیابی کو یاد کریں جو آپ کے حوصلوں کا حوالہ رہی ہیں۔

2-شک کے اسباب کا جائزہ لیں ۔ اُس خیال کا بدن ٹٹولیں ۔کہیں وسوسوں کی ریت ، شک کے گارے ، غیریقینی کا خیال روپ رنگ لے کر فریب نظر محل تو نہیں بنا رہا ہے۔ یہ بے وجود منظر دانش کو حماقت پر جھونک دے گا۔ اس کی خبر لیں۔

3- ہر طرح کی پستی میں شک کے سانپ رہتے ہیں۔ ذہنی پستی سے بلندی کی طرف قدم بڑھائیں۔ جہاں ایثار، قربانی دینے کا جذبہ اور محبت کی دنیا آباد ہے۔ وہیں سے شفا سے بھری تدبیریں لے کر اس شک کا زہر زائل کریں۔

4- غم شکن وسائل، حربے و ہتیار جو کہیں رکھ کر ہم بھول گئے ہیں اس پر قابو پائیں ۔ کیوں کہ کبھی کبھی کسی انجانے خدشے سے پیدا غم ہمیں ایک نئے شک میں الجھا دیتا ہے۔

5- اقدار کارنگ و نور اپنے ذہن میں واپس لائیں وہی قدریں جو ہماری اخلاقیات کا تعین کرتی ہیں۔ وہی قدریں جس کی بنیاد پر ہم نے اللہ کے نور سے دنیا دیکھنے کا ڈھنگ سیکھا۔ ان قدروں میں کھوٹ نہیں ہوتا۔ یہ شک ہی ہوتا ہے جو کھلی کائنات دیکھ کر بھی اللہ کو بھلادیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ گونگا گڑکھائے پر سواد بتا نہ پائے۔

6- شک کی ترنگ پہلے پہل خوش آہنگ ، نغمہ ریز اور دل کش لگتی ہے۔ بعد میں یہ آواز ذہن میں سرگوشی سے ہوتے ہوئے خوف ناک چنگھاڑ بن جاتی ہے۔ یہ پورے وجود پر اپنا ننگا ناچ شروع کردیتا ہے۔ اس وحشت کو ذکر ِرب، عبادات کی پرنور سرگرمی اور رب رنگ زندگی گزارنے کی تھوڑی سے کوشش سے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔

7- شک جیسے کہ تنہا حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ برائیوں کی ایک بھیڑ لاتاہے ۔ جس سے نجاست پر مزید نجاست کے ردے اٹ جاتے ہیں۔ اس کا ایک اشارہ ہم قرآن سے لیتے ہیں۔ جس میں تو ایک پوری کائنات آئی ہے۔ہم اس کے مفہوم سے ایک نکتہ اپنے لیے لیتے ہیں۔

’’البتہ جن لوگوں کے دلوں کو روگ لگا ہوا تھا ان کی سابقہ نجاست پر ایک اور نجاست کا اضافہ کردیاـ۔‘‘ (سورۃ التوبہ 124-125)

یہ بات تجربات کی کسوٹی پر کھری اترجاچکی ہے کہ اکثر گھرانے شک کے شعلوں میں جل بجھ گئے۔ کئی تعلیمی مہمات کے تازہ ذہن اوراپنی تمناؤں میں شک کے کانٹے ڈال کر طالب علموں نے اپنا راستہ کھوٹا کیا ۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے ۔ کچھ اور بن گئے بلکہ مریض بن کر جیتے ہیں۔ یہ صورت حال کاروبار کے ساتھیوں میں بار ہا دیکھی گئی۔ بڑے بڑے کارخانو ں پر شک کے سبب قفل چڑھا، منڈیاں لرز گئیں۔یہ ایک فرد تک نہیں بلکہ ملکوں ، براعظموں تک اپنے گندے نقوش چھوڑ جاتاہے۔ یہ فاصلے بڑھانے ، سرحدیں بانٹنے اور انسانوں میں تقسیم کی مہم پر روز اول سے مامور ہے۔ اس سے پناہ ہی انسانی فلاح ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

بدگمانی

شیئر کیجیے
Default image
نعیم جاوید

Leave a Reply