6

اے میری بہن!

جو میں کہیں سر اٹھا کر دیکھ سکتی تو میرے اس یقین کو آنکھیں مل جاتیں کہ ہر چیز یہاں کس لیے ہے اور جس لیے ہے، وہی کچھ کررہی ہے۔ سورج دن بھر اپنی تابش اپنی حدت سے زمین پر زندگی کو باقی رکھنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اور سرد رات کو اپنی سکون بخش حرارت کی یاد دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ ہاتھ کی مرمریں خمیدہ انگلی کسی حقیقت کی طرح اشارہ کرتی نظر آتی ہے، اور بدرِکامل، محبوبِ ازل کے رخِ روشن کا عکس بن کر زمین کو دیکھتا رہتا ہے اور زمین کا سارا پانی ان آنسوؤں کی طرح جو حسن حقیقی کے لیے منتظر کسی دیدئہ مہجور میں بھر آئے ہوں، ادھر سے ادھر ڈھلکنے لگتا ہے اوران کی لہروں میں انسان کے نفع کی چیزوں سے لدے ہوئے جہاز رواں ہوجاتے ہیں اور چڑیاں پیٹ خالی ہونے پر بھی چونچوں میں بھرا ہوا دانہ اس لیے نہیں کھاتیں کہ کہیں ان کے بچے اللہ سے یہ شکایت نہ کریں کہ تو نے ہماری ماؤں کو ہمارا پیٹ بھرنے کا فرض سونپا تھا، مگر انھوں نے اس کے بجائے اپنی خواہشوں کو اپنا معبود بنالیا — افسوس، مگر اے مری بہن، تو کہاں جارہی ہے!

میں اس چبوترے پر اپنے شکستہ پر پھیلائے کھڑی ہوں۔ میں اس دور کی یادگار مورت ہوں جب انگریزوں کے ہاتھوں دیسی حکمراں صرف اس لیے اپنے حق سے محروم کیے جارہے تھے کہ اُن کے ہاں کوئی بچہ کیوں نہیں پیدا ہوا۔ مجھے لارڈ میکالے کا دور بھی یاد ہے اور اے میری بہن! تجھے دیکھ کر مجھے وہ انگریز حاکم اور اس کا زمانہ اور بھی یاد آجاتا ہے، کیونکہ تو اسی عہدِ ظلمت کے بنائے ہوئےنظامِ تعلیم کی پروردہ ہے۔ تو مجھے بے جان مجسمہ نہ سمجھ۔ میں محض چبوترےپر کھڑی ہوئی ایک مورت نہیں ہوں۔ میں تیری نوع سے زیادہ تیری سرشت سے آگاہ اور تیرے انجام سے باخبر ہوں اور اسی لیے زیادہ افسردہ ہوں۔ کاش! تجھے بھی ایک آنے والے دن کی خبر ہوتی۔ تو، اے میری بہن! تو روتی زیادہ اور ہنستی کم۔

میرے دل میں جو سرد اور سنگین ہونے پر بھی سرد مہر نہیں ہے، جو آرزوئیں بیدار ہوتی ہیں، ان میں جو آج سب سے زیادہ بے تاب ہے وہ یہ کہ میں تجھے وہ بتادوں جو میں بتانا چاہتی ہوں۔ اور کاش! اے میری بہن! وہ میں تجھے بتاسکتی!

میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ تجھے اور تیری بہنوں کو اپنے پاس سے گزرتے دیکھ کر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میں ایک پرندہ ہوں جس نے کوئی آنے والا خطرہ بھانپ کر اپنے پر پھیلائے۔ تاکہ اپنے پیاروں کو اس میں چھپا کر اُن کو خطرے سے محفوظ کردے۔ مگر مشیت نے اس کے پروں کو منجمد کرکے اس کی اس تمنا کو پورا ہونے سے روک دیا۔ میرے دل میں ایک ہوک اٹھتی ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو اے میری بہن! میں تجھے اور تیری اور بہنوں کو اپنے ان شکستہ پروں میں چھپا کر اُس آفت سے بچالیتی جو ڈائن کی طرح منہ کھولے تیرے پیچھے دوڑی چلی آرہی ہے۔ وہ ڈائن تیری یہ چمکدار سیاہ تہذیب ہے جس کی چمک نے تجھے اس کا اصلی رنگ دیکھنے کے قابل بھی نہیں رکھا۔میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ تو اس قابل نہیں رہی، مگر میں واقف ہوں کہ اس تہذیب کی سیاہ آندھی کب اٹھی۔ کب اس ملک کے افق پر نمودار ہوئی اور دیکھتے دیکھتے کس طرح ہر طرف چھا گئی، اور یہ بھی کہ تو کب اس کی جھپٹ میں آئی اور یہ بھی کہ اس کے تند بگولوں نے پہلے تیرا نقاب نوچا پھر تیرا اپنا لباس تجھ سے چھینا پھر تیری زبان بدلی اور اس طرح تیرے خیالوں کے محل، تیری عصمت کے قلعے تیری نگاہوں کے حجاب، تیری نگاہوں کا پاکیزہ حرم، سب اس کی یلغار سے مغلوب ہوتے چلے گئے، اور آج تو سب کچھ ہے، مگر وہ نہیں ہے جس کے ہونے سے نسائیت تجھے پیار بھری نظروں سے دیکھتی۔

میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ تو آج برف کے اس سفید ٹکڑے کی مانند ہے جو شمال کے سرد سمندروں کی دھلی ہوئی فضا میں اپنے کل سے جدا ہوکر جانب مغرب بہہ گیا ہو اور کسی ٹھہرے ہوئے سمندر کی بدبودار کائی نے اس کا وجود ڈھک کر اس کی پاکیزہ سطح نظروں سے اوجھل کردی ہو، اور اس ٹکڑے کو اب یہ احساس بھی نہ رہا ہو کہ وہ جس کل کا جزو تھاوہ کیسا تھا اور اب بھی وہ اس کی واپسی کا کیسا آرزو مند اور اس کے لیے کیسا بے قرار ہے۔ لوٹ جا اے میری بہن! یہیں سے لوٹ جا! مبادا کہ تیرا وجود گرم سمندر کی لہروں میں گھل جائے۔

میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ تو گردوں سے ٹوٹے ہوئے ایک ایسے چمکدار تارے کی طرح ہے جس نے چمک کر لوگوں کی آنکھیں خیرہ کردینے کی خاطر اس اونچائی سے اس پستی کی طرف شہاب کی طرح گرنا گوارا کرلیا اور جو اب انسانو ںکی تجربہ گاہ میں ایک نادر ٹکڑے کی طرح رکھی ہوئی ہے۔ ان انسانوں کی جنھیں اسے کھول کھول کر دیکھنا اور اس کے راز جان کر لطف اندوز ہونا بہت بھاتا ہے، تاکہ وہ دوسروں کو فخر کے ساتھ یہ بتا سکیں کہ ہمیں اس نادر چیز کا اس قدر قرب حاصل ہوا ہے۔ تو اے میری بہن! کیا تو واقعی پسند کرتی ہے کہ ایسے ہوس پرست ہاتھ تجھے چھوئیں، ٹٹولیں اور اس لمس سے اُن کے اندر کے اس بھیڑیے کو تسکین مل جائے جو اپنی زبان چاٹ چاٹ کر تجھے بے خبر شکار کی طرح دیکھ رہا ہے۔

اور میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ بارہا اس چبوترے کے پاس کھڑے ہوکر میں نے کتنے ہی نوجوانوں کو تیرے گرد حلقہ باندھ کر بڑی ہی میٹھی زبان سے تجھ سے لگاوٹ کی باتیں کرتے دیکھا ہے، اور یہ بھی دیکھا ہے کہ تو ان کی ملاطفت کا جواب ہنس ہنس کر، نظریں چرا چرا کر اور بن بن کر دے رہی ہے اور یہ بھی دیکھا کہ اُن کی آنکھوں میں معصیت کی نیلی چمک تھی، وہی چمک جو آدم کی اولاد میں سے اس پہلے انسان کی آنکھوں میں نظر آتی تھی جس نے اپنی روح کا سودا شیطان کے ہاتھ کرکے، آنکھوں کو پہلی بار غیر عورت کی طرف بدنگاہی کے لیے اٹھایا تھا، مگر تو ان نیلے شعلوں کو نہیں دیکھ سکتی۔ اے میری ہم جنس! کہ تیری آنکھوں پر چڑھے ہوئے سیاہ چشمے نے تجھے اپنے ارد گرد کی سب چیزوں سے بے خبر کر رکھا ہے۔

میں تجھے بتانا چاہتی ہوں کہ تو جہاں معزز اور مقبول ہے، واں نہ معزز ہے، نہ مقبول۔ یہ تیرے ذہن کا فریب ہے جو وہ تجھے اس لیے دے رہا ہے کہ کہیں تو اس بات کی اصلیت جان کر چونک نہ پڑے اور چیخ نہ اٹھے۔ یہ تجھے عزت دینے والے، تیری تعریف کے پل باندھنے والے، تجھے آنکھوں پر بٹھانے اور دل میں جگہ دینے والے، اگر کہیں تو ان کی وہ باتیں سن پائے جو وہ تیرے موجود نہ ہونے پر، یہاں کھڑے ہوکر کرتے ہیں، اگر ان کے اُن ارادوں کی بھنک بھی تجھے مل جائے تو وہ یہاں میرے پاس رک کر تیرے متعلق باندھتے ہیں، تو اے مری مظلوم بہن! تو جنگل میں رہ کرگھاس پات کھانا گوارا کرلیتی، کسی ویران جزیرے میں تجھے اکیلے جاکر رہنا قبول ہوتا، بھیڑیوں اور ریچھوں کی رفاقت تجھے منظور ہوتی، مگر تو ان درندوں سے بدتر مہذب انسانوں کے پاس پھٹکنے کی جرأت نہ کرتی۔ یہ جب تیرےپیچھے تیرا ذکر کرتے ہیں تو تیرے جسم سے تیرا لباس اتار دیتے ہیں۔ تیری آنکھوں میں شہوت کی جوالا بھردیتے ہیں۔ تیرے وجود کے ہر جز میں ایک نہ ختم ہونے والی جنسی بھوک جگادیتے ہیں اور جب تیرا سراپا ان کے تصور میں، ہر طور سے لذت دے کر دھندلا ہوجاتا ہے، تب وہ بڑی بے تابی سے اس گھڑی کا انتظار کرتے ہیں جب تیرا جلوہ عام ہوکر اُن کے خیالوں کو حقیقت بنادے گا اور تو بازار میں جانوروں کے پینے والے پانی کا وہ حوض بن جائے گی جو گزرتے ہوئے ہر سانڈ اور ہر بیل اور ہر گھوڑے اور ہر خچر کو اپنی پیاس بجھا لینے کی دعوت دیتا رہتا ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ تو سورج کی تابش اور حدت سے زندہ رہنے کا سبق سیکھ لے تاکہ تو موت کی طویل سرد رات کو اپنے تابندہ کاموں کی حرارت سے راحت حاصل کرے۔ اب بھی موقع ہے کہ تو ہاتھ کی مرمریں خمیدہ انگلی کے اشارے سے اور بدر کے ازلی عکس کی مدد سے حقیقت کو پاجائے۔ ورنہ تیری آنکھ بھی زمین کے پانی کی طرح حسنِ حقیقی کی تلاش میں ڈبڈبائی رہے گی۔

یوں دیکھ، اے میری بہن! اور پھر سوچ، تو کدھر جارہی ہے ۔ میں تجھے بتانا چاہتی ہوں ، اگر میں بتاسکتی، میں چاہتی ہوں کہ یہ سب کچھ تجھے ابھی بتادوں۔ ورنہ ایک دن تو میں چاہوں یا نہ چاہوں مجھے وہ سب کچھ کہنا پڑے گا جو میں نےدیکھا ہے۔ جو میں نے سنا ہے۔ گو میں ابھی چوراہے پر ایستادہ پتھر کی ایک بے جان مورت ہوں، مگر اس دن میں کیا، ہر وہ چیز بھی جو آج بول نہیں سکتی، کل بولے گی۔ ان سب کا بولنا بھی تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
م۔ نسیم

تبصرہ کیجیے