مسجد

عورت کا مسجد میں آنا!

بعض حضرات خواتین کی مسجد میں حاضری کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے حق میں وہ جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے ایک دلیل ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول بھی ہوتا ہے:لَوْ أدْرَكَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ما أحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ المَسْجِدَ (بخاري : 869 ، مسلم : 445) ’’جو کچھ عورتوں نے اب کرنا شروع کردیا ہے ، اگر اللہ کے رسول ﷺ اسے دیکھ لیتے تو انہیں مسجد جانے سے روک دیتے۔‘‘

ام المؤمنین کا اشارہ اس جانب تھا کہ آج کل عورتیں گھر سے باہر نکلتے وقت خوش بو لگاتی اور زیب و زینت اختیار کرتی ہیں ، مسجد میں آتے وقت بھی ایسا کرتی ہیں، حالاں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے گھر سے باہر نکلتے وقت ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ گھر سے باہر نکلنا ، چاہے جس کام سے ہو، یہاں تک کہ باجماعت نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد آنے کے لیے ہو ، لیکن اس موقع پر عورت کے لیے تزیّن اورتعطّر (یعنی زیب و زینت اختیار کرنا اور خوش بو لگانا) جائز نہیں ہے۔

ام المؤمنين کا مقصد عورتوں کو مسجد آنے سے روکنا نہیں ، بلکہ مسجد آتے وقت خوش بو لگانے اور بناؤ سنگھار کرنے سے روکنا تھا ۔ اگر انہیں مسجد سے روکنا مقصد ہوتا تو ضرور ان سے اس کی صراحت منقول ہوتی، بلکہ ان کا عمل اس کے برعکس معلوم ہوتا ہے۔ وہ خود برابر نماز باجماعت کے لیے مسجد جاتی رہیں اور انھوں نے اپنے خاندان کی لڑکیوں اور دوسری خواتین کو کبھی مسجد جانے سے نہیں روکا۔

دوسری طرف اللہ کے رسول ﷺ نے مَردوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: لا تَمْنَعُوا إماءَ اللّٰهِ مَساجِدَ اللّٰهِ (مسلم : 442)’’اللہ کی باندیوں (یعنی عورتوں) کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔‘‘

عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ ہی میں نہیں، بلکہ بعد کی ابتدائی صدیوں میں بھی اس حکمِ نبوی پر عمل ہوتا رہا، مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی، مسجد اقصٰی، مسجد اموی (دمشق) اور دوسری مساجد میں نماز اور تعلیم کے لیے خواتین کی حاضری جاری رہی ، لیکن بعد میں آہستہ آہستہ اس پر عمل موقوف ہوتا گیا۔ اس حکم کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہر مسجد میں خواتین کے لیے معقول نظم ہوتا اور خواتین کو آزادی ہوتی۔ ان میں سے جو چاہتیں مسجد میں آتیں اور جو چاہتیں ، ارشادِ نبوی : ’’خواتین کا اپنے گھروں میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔‘‘ ( صحيح الجامع : 7458) پر عمل کرتے ہوئے گھروں ہی میں نماز پڑھتیں، لیکن اس کے بجائے مسجدوں میں خواتین کے لیے کچھ انتظامات ہی نہیں کیے گئے ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مَردوں نے (اور مساجد کے منتظمین مَرد ہی ہوتے ہیں) اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔آج کل گھروں میں دینی تعلیم و تربیت کا معقول انتظام نہیں ہے، جب کہ مسجدوں میں وقتاً فوقتاً وعظ و ارشاد کی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں، قرآن و حدیث کے دروس ہوتے ہیں، مختلف مناسبتوں سے دینی موضوعات پر تقریریں ہوتی ہیں، ہر ہفتہ نماز جمعہ کے موقع پر مقامی زبان میں خطبۂ جمعہ یا الگ سے تقریر ہوتی ہے۔ اگر ان مواقع پر خواتین کی مسجدوں میں حاضری کی سبیل نکالی جائے تو ان کی بھی دینی و اخلاقی تربیت ہوسکتی ہے۔ ام المؤمنین نے اپنے زمانے کی عورتوں کو دیکھ کر فرمایا تھا: ’’ اگر اللہ کے رسول ﷺ آج کی عورتوں کو دیکھ لیتے تو انہیں مسجد جانے سے روک دیتے۔‘‘

ام المؤمنین اگر آج کی عورتوں کو دیکھ لیتیں تو ضرور ان کا احساس بدل جاتا اور ان کی دینی تعلیم و تربیت کی ضرورت اور مساجد کے ذریعے اس کی تکمیل کی صورتِ حال کو دیکھ کر وہ کہہ اٹھتیں کہ’’ اگر اللہ کے رسول ﷺ آج کی عورتوں کو دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجد جانے کو کہتے۔‘

مزید پرھیں!

مساجد میں خواتین کا داخلہ

مساجد میں خواتین کو نماز اداکرنے کے لئے عدالت سے رجوع؟

 

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

Leave a Reply