BOOST

’بابا‘

مجاور کو اپنا اور اپنے اہل و عیال کا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگا تھا۔ بات ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی جسے سن کر اسے اتنا طیش آگیا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ گندی گالیاں دے کر بھگادے۔ وہ ایسا کر بھی لیتا اگر مقابلہ غریب و بے حیثیت لوگوں سے ہوتا ۔ غریب و بے حیثیت لوگوں کا سماج میں مقام ہی کیا ہے؟ ہر اَیرا غیرا اُن سے من چاہا برتاؤ کرلیتا ہے، مگر وہ اجنبی لوگ غریب اور بےحیثیت نہیں لگ رہے تھے۔ پڑھے لکھے، سمجھ دار اور مالدار لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی وضع قطع سے مجاور نے اندازہ لگالیا تھا۔

مجاور کو مجاوری کرتے کرتے اتنی سمجھ تو آہی گئی تھی کہ کس کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جائے۔ کہتے ہیں وہ مجاور بھی ڈپلیکیٹ مزار کا مجاور نہیں تھا۔ اوریجنل مزار کا خالص مجاور، مجاوری کے گُر اس کے خون میں شامل تھے کیوں کہ اس کے ابا حضور بھی اسی مزار کے مجاور تھے اور دادا جان کا بھی مزار سے رشتہ تھا۔ مزار سے اُن کا شجرۂ نسب جڑا تھا یا شجرئہ نسب سے مزار، یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔

برسوں پہلے مزار کے بارے میں مجاور کے دادا جان نے یہ بات عام کردی تھی کہ جو ہستی اس مزار شریف میں آرام فرما رہی ہے وہ کوئی معمولی ہستی نہیں ہے۔ وہ چمتکاری ہستی ہے کوئی اُن کے در سے خالی نہیں جاتا۔ ایسے ہیں ’’چمتکاری بابا‘‘۔

قرب و جوار سے ہی نہیں دور دراز سے بھی لوگ ’’چمتکاری بابا‘‘ کے مزار پر اپنی اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں۔ مجاور مرادریں پوری ہوجانے کی گارنٹی اُسی وقت دیتا ہے جب مراد مند مزار کے پاس رکھی ہری پیٹی میں چراغی ڈال دیتا۔ مجاور چراغی ڈالنے والے کے سر پر پیار سے مورچھل کی تھپکیاں دیتا۔ جتنی زیادہ چراغی، اتنی پکی گارنٹی اور مورچھل سے اتنی ہی زیادہ شفقت بھری تھپکی۔ یہ سلسلہ مجاور کے دادا جان کے زمانے سے جاری تھا جس سے مجاور کے سارے اہل و عیال آرام سے اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے تھے۔

آج مجاور کو اپنا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ :

دو چمکیلی کاریں مزار کے سامنے سڑک کے کنارے آکر رکی تھیں۔ آستانہ سے باہر مجاور کا مددگار زائرین کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ کاروں کے دروازے کھلے اور دونوں کاروں سے دس افراد باہر نکلے، وہ سب لوگ سوٹڈ بوٹڈ تھے۔ مددگار کی باچھیں کھل گئیں۔ فوراً آستانے میں مجاور کو خبر دینے گھسا۔’’مرشد! … مرشد! بڑی پارٹیاں آئی ہیں!‘‘

مجاور مورچھل ہاتھ میں اٹھائے سنبھل کر بیٹھ گیا۔

مددگار آستانے سے باہر نکلا۔ ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھا۔ ویسے مددگار بھی جیسے زائرین ہوتے، ان کے ساتھ ویسا برتاؤ کیا کرتا تھا۔ اگر زائر پیدل آرہا ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ ہاں اگر وہ پیٹی میں چراغی کی رقم زیادہ ڈالتا تو مددگار اسے رخصت کرنے کے لیے چند قدم پیدل ضرور چلتا۔ کیوں کہ چراغی سے مددگار کو کمیشن ملتا تھا۔

کاروں سے آنے والوں کے استقبال کے لیے مددگار اس لیے آگے بڑھا تھا کہ اسے امید تھی کہ کار سے آنے والے زائرین زیادہ رقم چراغی میں دیں گے مگر یہ کیا!وہ سوٹڈ بوٹڈ لوگ آستانے سے لگے چبوترے کو دیکھتے کھڑے تھے۔ سب کے سب چہل قدمی کرتے ہوئے چبوترے کو دیکھ کر جانے کیوں مسکرا رہے تھے۔

ایک بولا: ’’ہم اتنی دور سے آئے ہیں تو چلو چبوترے پر بیٹھ ہی جائیں!‘‘

’’اونہہ— جانے دو یارو!‘‘ دوسرے نے بیزاری دکھائی۔ تیسرے نےکسی جذبے کے تحت چبوترے پر چھلانگ لگادی اور کھڑا ہوگیا۔ اپنے دونوں ہاتھ مٹھیاں باندھے ہوا میں لہراتے ہوئے آسمان کی طرف سر اٹھائے چیختی آواز میں بولا: ’’واہ چبوترا، آہ چبوترا‘‘ پھر وہ جھلاہٹ میں اپنے پاؤں پٹختے ہوئے چبوترے پر ایسا گھومنے لگا جیسے ابھی چبوترے کو روند ڈالے گا۔ اس کی اس حرکت پر سارے ساتھی ہنسنے لگے….

اسی وقت مددگار ان کے قریب پہنچ گیا۔ سلام کیا اور مخاطب ہوا’’آئیے! چمتکاری بابا کی زیارت کے لیے آئے ہیں نا!‘‘

’’نہیں — !‘‘ سب ایک آواز میں بولے: ’’ہم اس چبوترے کو دیکھنے آئے ہیں جس پر ایک مضمون نگار نے اتنا طویل مضمون لکھا کہ اسے اخبار والے نے چار قسطوں میں چھاپا ہے اس مضمون کو پڑھ کر ہی ہم اس چبوترے کو دیکھنے آئے ہیں۔‘‘

’’کون ہے وہ؟! جس نے چبوترے کی اہمیت چمتکاری بابا کے مزار کی عظمت سے بھی بڑھا دی!‘‘ مددگار کے لہجے میں تلخی تھی۔

’’وہ ہستی اسی بستی کی ہے!‘‘ ایک مسکراتے ہوئے بولا۔

’’نام کیا ہے اس کا؟‘‘ اب مددگار کے لہجے میں جھنجلاہٹ تھی۔

’’نام جان کر آپ کیا کریں گے؟‘‘ دوسرا مددگار کے سامنے ہاتھ نچا کر کہنے لگا’’مضمون نگار نے تو اپنا کام کردیا۔ بہت ساروں نے اس کے مضمون کو پڑھ لیا۔ اب دیکھنا چبوترا دیکھنے کے لیے کتنے لوگ آتے ہیں۔‘‘ مددگار کے سلگتے جذبات کو اس نے شرارتاً ہوا دینے کی کوشش کی اور اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا۔

مددگار بھڑک اٹھا اور ان لوگوں کو سخت وارننگ دی ’’دیکھو! اگر آپ نے اس مضمون نگار کا نام نہیں بتایا تو میں بھی اس آستانے کا مددگار ہوں، لٹھ بازوں کو بلا کر تمہاری ٹھکائی کرادوں گا۔ یہاں آس پاس سب ’’چمتکاری بابا‘‘ کے چاہنے والے رہتے ہیں۔ یہ ہم سب کی آستھا کا معاملہ ہے۔ آستھا پر دیش میں کیا کچھ ہورہا ہے، یہ تم سب بخوبی جانتے ہو؟ نام بتاؤ اس مضمون نگار کا؟!‘‘ مددگار کی آواز اتنی بلند تھی کہ اسے سن کر آستانے سے مجاور نکل آیا۔ آتے ہی پوچھاکہ ماجرا کیا ہے؟

مددگار نے ساری بات بتادی جسے سن کر مجاور کو بھی طیش آگیا تھا۔ مگر کاروں میں آئے ہوئے باحیثیت دیکھائی دینے والے لوگوں کو دیکھ کر اس نے اپنا غصہ پی لیا اور ان لوگوں سے مخاطب ہوا ’’دیکھئے! آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں۔ وہ مضمون نگار جس نے چھوٹے سے چبوترے پر اتنا بڑا مضمون لکھ ڈالا، آپ اس کا نام نہیں بتانا چاہ رہے ہیں تو مت بتائیے مگر ایک بات سن لیجیے اس چبوترے کی اہمیت’’چمتکاری بابا‘‘ کے مزار شریف سے ہے، دیکھنا ’’چمتکاری بابا‘‘ کے چمتکار سے یہ چبوترا ہی ختم ہوجائے گا، چلو میاں!‘‘ مجاور نے مددگار کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دونوں آستانے میں چلے گئے۔

آستانے میں پہنچ کر مددگار مجاور سے مخاطب ہوا۔ ’’مرشد! بات کی گمبھیرتا کو سمجھئے، ان لوگوں میں سے ایک کہہ رہا تھا : مضمون نگار نے چبوترے پر ایسا مضمون لکھ مارا کہ لوگ اسے پڑھ پڑھ کر چبوترا دیکھنے آئیں گے۔ اس سے مزار شریف کی اہمیت کم نہیں ہوگی؟‘‘

’’ہم مزار کی اہمیت کم نہیں ہونے دیں گے۔ چمتکاری بابا کے چمتکار سے چبوترے کو ہی ختم کرادیں گے۔‘‘

مجاور نے بات دہرائی ’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔‘‘

’’کیسے؟!‘‘

’’کل رات خواب میں چمتکاری بابا آئیں گے اور کہیں گے ہمارے مزار کے پاس جو چبوترا ہے وہ چبوترا نہیں ہے۔ اس چبوترے میں ہمارے پیر دفن ہیں۔ لوگ چبوترے پر بیٹھ کر ہمارے پیر کی بے حرمتی کررہے ہیں اس لیے چبوترے پر ایک مزار بنادیجیے۔ ہمارے پیر بابار کا مزار۔‘‘

’’یہ آئیڈیا تو اچھا ہے۔‘‘ مددگار چہکا۔

’’ہاں دیکھنا پھر اس مزار پر کیسے کیسے لوگ آئیں گے۔ کیا شاعر، کیا افسانہ نگار، مضمون نگار، بال کی کھال نکالنے والے تنقید نگار، کھال کے بال گننے والے محقق، موسیقی کے فنکار، طبلے والے، بانسری والے ہارمونیم والے وغیرہ وغیرہ، اس کے علاوہ دیگر فن والے بھی مزار کی زیارت کے لیے آئیں گے، چراغی بھی خوب دیں گے۔‘‘

’’مرشد! اس مزار کا مجاور مجھے بنادینا۔‘‘ مددگار نے منت کی۔

’’ایک شرط پر‘‘ مجاور نے کہا۔

’’مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے مرشد!‘‘

’’چراغی میں آدھا …آدھا۔‘‘

’’وعدہ! پکا وعدہ!‘‘

’’ٹھیک ہے، کل تم چمتکاری بابا کے عقیدت مندوں کو یہاں بلا لینا میں ان کے سامنے خواب بیان کردوں گا۔ پھر مزار کا کام شروع کروادینا۔‘‘

’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر، مگر چمتکاری بابا کے پیر کا نام کیا ہوگا۔‘‘ مددگار نے پوچھا۔

’’ارے آج ہی سب کچھ پوچھ لے گا، رات میں چمتکاری بابا خواب میں آئیں گے اور اپنے پیر کا نام بھی بتادیں گے۔‘‘ مجاور نے مسکراتے ہوئے مددگار کی پیٹھ پر پیار بھری دھپ رسید کی۔ مددگار خوشی خوشی آستانے سے باہر آکر کھڑا ہوگیا اور اپنے ذہن میں چمتکاری بابا کے عقیدت مندوں کی فہرست بنانے لگا۔

دوسرے دن مددگار نے چمتکار ی بابا کے عقیدت مندوں کو چبوترے پر جمع کیا۔ عقیدت منداتنے تھے کہ چھوٹا سا چبوترا ان کے لیے ناکافی تھا اس لیے بہت سارے معتقد چبوترے کے نیچے کھڑے تھے۔ مجاور نے ان کے سامنے وہی خواب بیان کردیا جو مددگار کو سنایا تھا اور چمتکاری بابا کے پیر کا نام بھی بتادیا۔

نام سنتے ہی چبوترے پر بیٹھے ہوئے لوگ یکدم کھڑے ہوگئے اور گھبرا کر ایک دوسرے سے بولے ’’چلو، چبوترے سے اترو، یہاں چمتکاری بابا کے پیر دفن ہیں ان کی بے حرمتی ہوجائے گی۔ یہاں ہم سب مل کر ان کا مزار بنائیں گے۔

فوراً اینٹ، سمنٹ، ریت منگالی گئی اور پھر چند گھنٹوں میں ہی چبوترے کی حیثیت ختم ہوگئی۔ چبوترے پر ایک مزار بن گیا۔ سمنٹ کا چکنا مزار۔

نئے دن کا جب سورج نکلا تو لوگوں نے دیکھا نیا مزار ہری چادر سے ڈھکا ہے۔ مزار کے سرہانے چراغی کی پیٹی رکھی ہے اور اگر بتیاں جل رہی ہیں، چمتکاری بابا کا مددگار مجاور بنا مورچھل ہاتھ میں لیےبیٹھا ہے۔

مزار کے پائنتی، چبوترے کے کنارے آہنی بورڈ لگا ہے جس پرہندی اور اردو زبان میں لکھا تھا ’’ہر فن مولا بابا‘‘ بورڈ کے نیچے کرسی پر ایک شخص مددگار بنا بیٹھا تھا۔ وہ شخص بستی کے ’’باذوق‘‘ لوگوں کا پسندیدہ شاعر قوالی گا رہا تھا مگر تھا متشاعر۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق

تبصرہ کیجیے