پکوان

پکوان کا مقابلہ (خیال فارسی حکایت سے ماخوذ)

کردار

۱۔ نواب صاحب ۲۔ بیگم صاحبہ

۳۔ دیوان صاحب ۴۔ بانو (مغنیہ)

۵۔ ملازمہ

[پردہ اٹھتا ہے۔ نواب صاحب نیم دراز حالت میں حقہ پی رہے ہیں اور دوسرے دیوان پر بیگم صاحبہ پان چبا رہی ہیں۔]

نواب صاحب : عید کا دن اور اتنا مختصر دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے!

بیگم صاحبہ:(مسکرا کر) نواب صاحب ، آپ کے لیے تو ہر روز روزِ عید ہے، ہر شب شب برات۔

نواب صاحب:لیکن شیر خرما ہر روز کہاں نصیب ہوتا ہے۔

بیگم صاحبہ:اگر حکم ہو تو روز بنا لیا کریں۔

نواب صاحب :نہیں نہیں، اسے معمول میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔

بیگم صاحبہ: شیر خرمے کی تخصیص کے لیے ؟

نواب صاحب :شیر خرمے کی یا عید کی؟

بیگم صاحبہ:(ہنستے ہوئے)آپ کے لیے تو عید معنی شیر خرما اور شیر خرما معنی عید ہے۔

نواب صاحب:(قہقہہ لگا کر) بیشک بیشک۔

بیگم صاحبہ:ویسے دیگر پکوان میں رساول جیسا کوئی پکوان نہیں۔

نواب صاحب :بھئی آپ ،فرخندہ صاحبہ بنیادی طور پر حیدر آباد سے تعلق رکھتی ہیں،گنے کے رس میں پکائے گئے میٹھے چاول جو مغزیات سے سجے ہوتے ہیں آپ کو کیوں پسند نہ بھلا؟

بیگم صاحبہ:جی، رساول کا ذائقہ غیر معمولی ہوتا ہے۔ اس جیسی کوئی ڈش نہیں نواب صاحب۔

نواب صاحب:یہ تو زیادتی ہے۔ ہمیں تو فیرنی بہت پسند ہے ۔

بیگم صاحبہ:جی نہیں، فیرنی میں وہ بات کہاں جو رساول میں ہے۔

نواب صاحب:آپ نے شاید ہمارے دار السرور، بلدۂ پر نور اچل پور کی فیرنی نہیں چکھی۔

بیگم صاحبہ:کیوں نہیں، پچھلی مرتبہ خطیب صاحب کے گھر نہیں تھی فیرنی؟

نواب صاحب :ہاں، اب بتائیے، فیرنی کیسی روح افزا ہوتی ہے !

بیگم صاحبہ:اب آپ ضد پر اڑ جائیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔

نواب صاحب :نہیں نہیں، یہ ضد کی بات نہیں۔ حقیقت ہے کہ فیرنی جیسا پکوان دوسرا نہیں۔

بیگم صاحبہ:حقیقت یہ ہے کہ رساول جیسا میٹھا پکوان اور نہیں۔

نواب صاحب :بھئی فیرنی کے لیے تو ہم دنیا سے لڑ سکتے ہیں۔

بیگم صاحبہ:یہ بھی خوب کہی، فیرنی نہ ہوئی ایمان ہوگیا۔

نواب صاحب :یہی بات ہم آپ کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں۔

بیگم صاحبہ:(غصہ سے)ٹھیک ہے، فیرنی ہی دنیا کا بہترین پکوان ہے، خوش؟

نواب صاحب :جی نہیں، ہم کسی کو ثالث مقرر کرتے ہیں تاکہ فیصلہ ہوجائے۔

بیگم صاحبہ:آپ کی راے کے آگے کسی ثالث کی کیا ضرورت ہے؟

نواب صاحب :(مسکراکر)آپ کے اطمینان کے لیے۔

(ملازمہ داخل ہوتی ہے۔)

ملازمہ:دیوان صاحب تشریف لائے ہیں۔

بیگم صاحبہ:دیوان صاحب کو یہیں بھیج دو۔ وہ ہمارے بزرگ ہیں۔ آج وہی ہمارے ثالث ہوں گے۔

نواب صاحب :ٹھیک ہے۔ انہی سے پوچھ لیتے ہیں۔

دیوان صاحب :(کمرے میں داخل ہوتے ہوئے) آداب!

نواب صاحب :تسلیم ، آج آپ نہایت مناسب وقت پر تشریف لائے ہیں چچا جان!

دیوان صاحب :زہے نصیب، بندہ کیا خدمت کر سکتا ہے؟

نواب صاحب :بیگم صاحبہ کا خیال ہے کہ رساول اچھا پکوان ہے اور ہمارا خیال ہے کہ فیرنی جیسا کوئی پکوان نہیں۔ آپ فیصلہ کیجیے کہ کون سا پکوان بہتر ہے۔

دیوان صاحب :نواب صاحب، یہ تو کھا نے کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

نواب صاحب :بیشک، بیشک۔

بیگم صاحبہ:بی بی۔

ملازمہ:جی بیگم صاحبہ

بیگم صاحبہ:باورچی سے کہوکہ جتنی جلد ممکن ہو رساول اور فیرنی تیار کرے۔ آج فیصلہ ہو کر رہے گا۔

ملازمہ:جی بیگم صاحبہ۔

نواب صاحب :چلیے پکوان تیار ہونے تک شاہ غلام حسین اچل پوری کی غزل سے لطف اندوز ہوں۔

بیگم صاحبہ:ضرور، بانو کو آواز دے دو، بی بی۔

ملازمہ:جی بیگم صاحبہ

بانو:(داخل ہوکر ہاتھ سے سلام کرتی ہے) جی بیگم صاحبہ!

بیگم صاحبہ:بانو، وہ تان پورہ رکھا ہے، نواب صاحب چاہتے ہیں کہ شاہ صاحب کے کلام سے محفل آراستہ کی جائے۔

بانو:(تان پورہ لے کر گانا شروع کرتی ہے )

تُمنا کوں اے سہیلیاں میٹھے بچن سناؤں

ٹک کان دھر سنو تو پیوسوں لیجا ملاؤں

نواب صاحب:سبحان اللہ، بہت خوب۔

بانو:(سلام کر کے رخصت ہوتی ہے۔)

ملازمہ:بیگم صاحبہ دونوں پکوان تیار ہیں۔

بیگم صاحبہ:ٹھیک ہے، پیش کرو۔

ملازمہ:(رساول لے کر آتی ہے۔) دیوان صاحب ، رساول قبول کیجیے۔

دیوان صاحب :(رساول کھاتے ہیں۔)واہ واہ سبحان اللہ۔

بیگم صاحبہ :اب فیرنی پیش کی جائے۔

(ملازمہ فیرنی پیش کرتی ہے۔ )

دیوان صاحب :(فیرنی کھاتے ہیں۔)واہ واہ سبحان اللہ۔

نواب صاحب :اب بتائیے، رساول اچھا ہے یا فیرنی۔

دیوان صاحب :(کھنکھار کر) اب جبکہ میرے شکم میں دونوں یکجا ہو چکے ہیں تو کسی ایک کے حق میں فیصلہ کرکے ان کے بیچ دراڑ ڈالنا قطعی طور پر مناسب نہیں۔

بیگم صاحبہ :(حیرت سے نواب صاحب کی طرف دیکھتی ہے)

نواب صاحب :(قہقہہ لگا کر) ہم سمجھ گئے، چچاجان۔ یہی بہتر ہے کہ کسی کا دل نہ ٹوٹے۔ دونوں محبت سے رہیں۔

بیگم صاحبہ:(سر جھکا لیتی ہیں۔ )

دیوان صاحب :(سلام کرتے ہیں)

(پردہ گرتا ہے۔)

مزید پڑھیں!

نوکرانی ماں (ڈرامہ کی شکل میں معاشرتی افسانہ)

 

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر محمد یحییٰ جمیل

Leave a Reply