نیکی کا بدلہ

وسطی شہر میں آج چمکتے شیشوں کی بڑی بڑی خوبصورت عمارتیں بن گئی ہیں۔ یہ جگہ ہمیشہ سے ایسی نہ تھی۔ اب سے کم و بیش تیس سال قبل یہ ایک پرسکون آبادی تھی جہاں لوگ سادگی سے زندگی گزارتے اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجالاتے تھے۔

اس آبادی کے ایک معمولی سے بازار میں دینو کی دکان بھی تھی۔ اگرچہ وہ کرانےکی دکان تھی لیکن بوقت ضرورت اس میں تبدیلی ہوتی رہتی۔ کبھی دینو آلو کی بوری لے آتا تو کبھی پالتو طوطے فروخت کرتا نظر آتا۔

دینو کا کوئی مددگار نہ تھا، لہٰذا لوگ خود ہی سامان اٹھا کر اس کے پاس لے آتے۔ بسا اوقات تو ترازو میں سامان بھی تولتے نظر آتے، دینو ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، وہ ایک ہنس مکھ انسان تھا۔ ایمانداری اس کا شعار تھا۔

اکثر جب دکان پر گاہک نہ ہوتے تو وہ مطالعے میں مصروف نظر آتا۔ بچوں سے اسے گہری انسیت تھی۔ جب بچے دکان پر آتے تو وہ ان سے ہنس کر بات کرتا، کبھی لطیفے وغیرہ سناتا، بچے اسے پسند کرتے تھے۔

ایک دن اس کے پاس ایک نوجوان آیا۔ دکان میں کئی گاہک موجود تھے اور دینو بہت مصروف تھا۔ نوجوان ادھر اُدھر دیکھتا رہا لیکن اس نے نہ کچھ مانگا اور نہ ہی بات کی۔ جب دوسرے گاہک فارغ ہوکر چلے گئے تو دینو اس کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ ایک دبلا پتلا نوجوان تھا جس کا لباس بہت پرانا تھا۔

’’جی فرمائیے… آپ کو کیا چاہیے؟‘‘ دینو نے حسبِ روایت خوش اخلاقی سے پوچھا۔

نوجوان کچھ توقف کے بعد آہستہ سے بولا: ’’میں کچھ لینے نہیں بلکہ فروخت کرنے آیا ہوں۔‘‘ دینو نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دھوپ کا چشمہ نکالا اور دینو کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا: ’’دیکھیں بہت عمدہ چیز ہے۔ معمولی سا استعمال ہوا ہے۔‘‘

دینو نے چشمہ لے لیا، اس کا فریم سیاہ تھا اور کمانیوں پر چمک دار دھاریاں تھیں۔ ’’اچھا ہے… لیکن میں تو یہ استعمال ہی نہیں کرتا۔‘‘ دینو ہنس کر بولا۔

نوجوان یک دم افسردہ نظر آنے لگا۔ پھر اس نے مایوسی سے چشمہ واپس لے لیا۔

’’لیکن تم اسے کیوں بیچنا چاہتے ہو؟ ‘‘ دینو نے پوچھا۔

جواب میں نوجوان نے بتایا کہ اسے کل تک امتحان کی فیس جمع کرانی ہے اور اس کے پاس رقم نہیں ہے۔

’’لیکن تم طالب علم تو نہیں لگتے۔‘‘ دینو نے حیرت سے کہا۔

وہ کھسیانے لہجے میں بولا: ’’دراصل نامساعد حالات کے باعث کئی سال ضائع ہوگئے ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی دینو نے چشمہ لے لیا اور الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا، وہ اتنا قیمتی نہ تھا۔

’’اچھا اگر آپ خریدتے نہیں تو اسے گروی رکھ لیں، میں جلد آپ کے پیسے واپس کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

’’تمہیں کتنے پیسے چاہئیں؟‘‘

’’دو سو روپے۔‘‘

’’دو سو روپے؟‘‘

’’جی مجھے کچھ اور چیزیں بھی خریدنی ہیں۔‘‘

دینو نے چشمہ لوٹاتے ہوئے کہا:’’نہیں بھئی نہیں … میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔‘‘ وہ سوچ رہا تھا یہ دھوکے باز ہے اور مجھے بے وقوف بنا رہا ہے۔

’’جی اچھا …‘‘ اس نے مایوسی سے کہا اور چشمہ اٹھا کر بوجھل قدموں سے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ دینو اسے بغور دیکھ رہا تھا، اس کی چال میں زمانے بھر کی مایوسی تھی۔

’’سنو!‘‘ دینو نے پکارا۔ آواز نے اس کے قدم روک لیے۔

’’تم رہتے کہاں ہو؟‘‘ دینو نے پوچھا۔ اس نے چشمہ دینو کو دیتے ہوئے بتایا: ’’میں قریب کی آبادی میں رہتا ہوں۔ وہاں کا پتا آپ کو لکھوادیتا ہوں۔‘‘

غرض دینو نے وہ پرانا چشمہ جس کی قیمت بہت کم تھی دو سو روپے میں گروی رکھ لیا۔ اس شخص نے انتہائی مسرت سے اس کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ جیسے ہی اس کے پاس پیسے آگئے وہ واپس آئے گا۔

کئی سال گزرگئے وہ نہ لوٹا۔ دینو اکثر خود پر ہنستا کہ وہ کس طرح بے وقوف بنا، لیکن صابر وشاکر تھا، اس لیے کسی دوسرے سے بھی اس بات کا ذکر نہ کرتا، حالانکہ اس کے پاس اس شخص کا نام و پتا بھی موجود تھا جو زیادہ دور کا بھی نہ تھا، پھر بھی وہ کبھی وہاں نہ گیا۔

اس کی دکان داری ٹھیک چل رہی تھی۔ قسمت کی ستم ظریفی کہ ایک رات جب تیز ہوائیں چل رہی تھیں، تو دکان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ہوا کے باعث آگ اس تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کو بجھانے کا موقع نہ مل سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ راکھ ہوگیا۔

نقصان بہت بڑا تھا اور نئے سرے سے کاروبار جمانا دینو کے بس میں نہ تھا۔ کئی مہینے گزرگئے۔ وہ گزر اوقات کے لیے کچھ مزدوری کرلیتا پھر اتنا تھک جاتا کہ کئی دن تک کام کے قابل نہ رہتا۔ لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کی مدد کرنا چاہتے لیکن وہ منع کردیتااور بس اپنا بیشتر وقت اِدھر اُدھر گھوم پھر کر گزارتا۔ ایک دن وہ پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا کہ علاقے کا ایک آدمی اس کے پاس آیا اور بولا:

’’دینو تمہیں کوئی ڈھونڈ رہا ہے۔‘‘

’’مجھے کون ڈھونڈے گا؟‘‘ دینو نے حیرت سے پوچھا۔

’’ٹھہرو میں اسے لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہ واپس پلٹ گیا۔

کچھ دیر بعد دور سے وہ ایک آدمی کے ساتھ آتا نظر آیا، جس کا لباس بہت عمدہ تھا۔ قریب آنے پر دینو چونک اٹھا۔ وہ شخص گرمجوشی سے دینو کے قریب آیا اور اس سے ہاتھ ملایا۔

’’مجھے پہچانا‘‘ وہ گویاہوا۔

’’ہاں غالباً ہم پہلے بھی ایک دفعہ ملے ہیں۔‘‘ دینو آہستہ سے بولا۔

’’ہاں میرے دوست تم نے میری مدد کی تھی۔ دراصل تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں باہر چلا گیا تھا۔ دو دن پہلے ہی لوٹا ہوں۔ تمہیں ڈھونڈ رہا تھا تو لوگوں نے بتایا، تمہاری دکان میں آگ لگ گئی تھی۔ بہت افسوس ہوا … خیر اللہ مالک ہے۔ وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے جلی ہوئی دکان تک آپہنچے۔ دینو ایک بار پھر افسردہ ہوگیا۔ وہ شخص بغور دکان کا جائزہ لے رہا تھا۔ پھر بولا :’’میرے دوست بالکل فکر نہ کرو…. انشاء اللہ کل سے اس پر کام شروع ہوجائے گا۔ پہلے رنگ روغن ہوگا، فرنیچر بنے گا پھر تمام کرانے کا سامان بھرا جائے گا۔‘‘

دینو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا۔

’’ہاں… ہاں تم حیران مت ہو۔‘‘ اس نے دینو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: ’’میں تم پر کوئی احسان نہیں کررہا بلکہ نیکی کے اس سفر کو آگے بڑھا رہا ہوں، جو تم نے شروع کیا تھا۔

مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کریں! افسانے

شیئر کیجیے
Default image
جاوید بسام

One comment

Leave a Reply