محنت کا رنگ

میں نے آسمان پر جمع ہوتے گہرے بادلوں پر نظر ڈالی اور موٹر سائیکل کی رفتار تیز کردی۔ اس وقت میں ایک نو تعمیر شدہ آبادی سے گزر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد بارش شروع ہوگئی، تو میں نے ایک اکیڈمی کی پارکنگ میں موٹر سائیکل کھڑی کی اور گرد وپیش کا جائزہ لینے لگا۔ چوکیدار سے پوچھ کر میں اکیڈمی کی کینٹین میں چلا گیا، میں نے چائے کا کہا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ چائے بنانے والے کے علاوہ وہاں کوئی عملہ نہ تھا آس پاس بیٹھے چند لڑکوں سے بات چیت کی تو علم ہوا کہ یہاں تمام طلبہ بلا معاوضہ پڑھتے ہیں۔ میں حیرت سے سوچنے لگا: ’’کیا ایسا ممکن ہے؟ شہر کے پوش علاقے میں ایسی شاندار اکیڈمی اور کوئی فیس نہیں۔‘‘

اچانک ایک لڑکے نے مجھے بتایا وہ ہمارے ’’سرذیشان بیٹھے ہوئے ہیں، انہی کا یہ ادارہ ہے۔‘‘

میں نے ذیشان پر نظر ڈالی تو دیکھتا ہی رہ گیا اور سوچوں کے دھارے میں بہتا ہوا دس برس پیچھے چلا گیا۔ جب میں کالج میں سال دوم پری انجینئرنگ کا طالب علم تھا اور اپنے دوستوں کے ہمراہ موج میلے بھری زندگی گزارتا تھا، تو اکثر و بیشتر کالج کی کینٹن ہمارا ٹھکانا ہوتی۔ وہاں ایک بیرہ کام کرتا تھا جسے سب شانی کہتے تھے۔ میں نے سنا تھا کہ وہ میٹرک کا امتحان نجی طور پر دے رہا ہے۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور درخواست کی کہ میں اسے حساب کا ایک سوال سمجھا دوں، جو میں نے سمجھادیا۔ پھر تو وہ اکثر مجھ سے حساب کے سوالات حل کروانے لگا۔

ایک دن ہم سب دوست بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ وہ آیا اور سوال پوچھنے لگا۔

میرے ایک دوست انور نے اسے ڈانٹ کر بھگادیا۔ مجھے بھی ڈانٹا کہ میں چھوٹے موٹے لوگوں سے خواہ مخواہ بے تکلف ہوجاتا ہوں، مگر دھن کے پکے شانی نے ہمارا پیچھا نہ چھوڑا، شاید اس لیے کہ دو دن بعد سالانہ امتحان تھا جس کی اسے بہت فکر تھی۔ اس کے دوبارہ آنے پر انور غصے میں کینیٹن سے باہر نکل گیا اور وہ نزدیکی بازار جاکر حساب کا خلاصہ خرید لایا۔ اس سے قبل کہ میں کچھ سمجھ پاتا اس نے خلاصہ شانی کے طرف پھینکا اور کہا کہ یہ لو، ہماری جان چھوڑو۔ خلاصہ زمین پر گرا، اس کی جلد کھل گئی اور ورق ورق جدا ہوگیا۔

شانی نے بہت احتیاط سے اوراق سمیٹے اور چلا گیا۔ ہم سب قہقہے لگانے لگے۔ مجھے آج افسوس ہوتا ہے کہ میں بھی اس عمل میں شریک تھا۔

’’سر آپ کی چائے‘‘ ایک نرم اور مؤدبانہ آواز نے مجھے واپس حال میں پہنچا دیا۔ ذیشان احمد میرے لیے چائے کی پیالی لے کر آیا تھا، ساتھ ہی کچھ لواز مات تھے۔ اس نے یقینا مجھے پہچان لیا تھا۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس کا جائزہ لینے لگا۔ ماضی کا بیرہ ’شانی‘ آج ’سر ذیشان احمد‘ بن چکا تھا۔

وہ میری نگاہوں میں اٹھنے والے سوالات پڑھ چکا تھا، اس نے اپنی داستان سنانی شروع کی۔

’’میں نے میٹرک کے بعد ایف ایس سی میں داخلہ لیا اور ساتھ ساتھ ہوٹل میں کام بھی کرتا رہا، پھر بی ایس سی میں داخلے کے کچھ عرصے بعد ٹیوشن پڑھانا شروع کی۔ بالآخر میں نے ایم ایس سی بھی کرلی۔کچھ عرصہ کالج میں پڑھایا، پھر میں نے اکیڈمی بنالی۔ اس وقت اس شہر میں میری چار اکیڈمیاں ہیں، تین سے مجھے آمدنی ہوتی ہے اور یہ چوتھی اکیڈمی مستحق طلبہ کو بلا معاوضہ علم کے زیور سے آراستہ کرتی ہے۔‘‘

میں نے اسے غور سے دیکھا، اس کے لہجے اور جذبے کی سچائی نے اس کے قد میں اضافہ کردیا تھا۔ میں خود کو اس کے سامنے حقیر محسوس کرنے لگا۔

’’سرآپ کو انور صاحب یاد ہوں گے؟‘‘ اس نے تھوڑی دیر بعد پوچھا۔

’’ہاں …. انور… وہ غالباً فیل ہوگیا تھا۔ ہم تو انجینئرنگ یونیورسٹی میں چلے گئے تھے، مگر وہ ایف ایس سی بھی نہیں کرسکا تھا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’انور صاحب نے مجھے ایک خلاصہ لاکر دیا تھا جو زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ تب مجھے یوں محسوس ہوا گویا میرے دل کے ٹکڑے ہوگئے ہوں۔ میں نے وہ صفحات اکٹھے کیے اور انہی کی مدد سے امتحان پاس کیا۔ اسی کی برکت سے میں آج اس مقام پرہوں اور انور صاحب؟

’’کیا ہوا انور کو ….‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’انھوں نے پڑھائی چھوڑ کر ٹھیکیداری شروع کردی۔ اس اکیڈمی کی عمارت بھی انہوں نے ہی تعمیر کرائی ہے اس واقعے کے بعد انھوںنے بہت کوشش کی مگر وہ کسی امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے…‘‘

ہم دونوں کے سر جھک گئے۔ میں تو ندامت کے مارے سر نہ اٹھا سکا مگر ذیشان کے چہرے پر الوہی چمک اسے منفرد و ممتاز بنارہی تھی۔

(مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض، وانم باڑی، اردو ڈائجسٹ سے ماخوذ)

مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کریں! افسانے

شیئر کیجیے
Default image
انجینئر خرم بیگ

Leave a Reply