ناتا

کے انتقال کے بعد اسے لگا تھا جیسے میکے سے اس کا ناتا ہی نہیں رہا۔ اکلوتا بھائی تھا جو عمر میں اس سے بڑا تھا، وہ بھی اُس سے ملنے نہیں آتا تھا، ہاں اُس کا بیاہ ہونے کے کئی دنوں بعد بھائی ایک بار آیا تھا اور بڑی مشکل سے ایک دن اس کے گھر ٹھہر کر چلا گیا تھا۔

اُس نے اپنے بھائی سے شکایت بھی کی تھی۔ ’’بھائی جان! آپ کافی دنوں بعد آئے ہو، وہ بھی صرف ایک دن کے لیے، بھابی کو بھی ساتھ نہیں لائے!‘‘ یہ بات اُس وقت کی ہے، جب اس کے بوڑھے والدین حیات تھے۔

جواب میں اُس کے بھائی جان بولے تھے: ’’سروس میں مجھے فرصت ہی نہیں ملتی، مصروفیت کافی ہے صابرہ! رہی بات بھابی کی، تم تو جانتی ہو وہ بھی اسکول میں ٹیچر ہے، ہم دونوں کافی مصروف ہوگئے ہیں۔‘‘

صابرہ اپنے بھائی جان کو ملتجیانہ نگاہوں سے دیکھنے لگی تھی۔ بھائی نے اس کی نگاہوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ جاتے وقت اس کے سر پر ہاتھ بھی نہیں رکھا تھا۔ سلام کا ٹکا سا جواب دے کر چلا گیا تھا۔

زمانہ گزرگیا ——

ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا بھائی ریٹائرڈ ہوگیا ہے۔ یہ سن کر وہ بے حد خوش ہوگئی تھی۔ سوچا تھا کہ اب میرے بھائی جان کے پاس فرصت ہی فرصت ہے سو مجھ سے ملنے ضرور آئیں گے۔

مگر بھائی کو ریٹائرڈ ہوئےاب ایک سال کا عرصہ بیت گیا مگر اس کا بھائی نہیں آیا۔

آج برسوں بعد بھائی جان کو اپنے کو بلو کے چھت والے شکستہ مکان میں دیکھ کر اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی تھی۔ اس کا شوہر جو نمازی، متقی اور پرہیزگار تھا اور ایک کپڑا مل میں مزدور تھا، وہ بھی نہایت پرتپاک انداز میں اس سے ملا تھا اور اس کا بھانجہ جو پلمبر تھا وہ بھی خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔

بہن نے بھائی کے لیے پرتکلف کھانا بنایا۔ سب نے دسترخوان پر ایک ساتھ کھانا کھایا۔

کھانے سے فراغت کے بعد فوراً بھائی بہن سے بولا: ’’صابرہ! میں ایک ضروری کام سے تمہارے پاس آیا ہوں۔‘‘

’’مجھ سے ایسا کون سا ضروری کام آن پڑا بھائی جان! ‘‘ بہن نے بے تابی سے پوچھا۔

بھائی جان ہاتھ کی مٹھی بناکر لبوں تک لائے پھر کھنکار کر کہا: گاؤں میں جو اپنا گھر ہے نا،وہاں اب کوئی رہنے والا نہیں ہے۔ اسے بیچنا ہے، گھر تمہارے دستخط کے بغیر نہیں بک سکتا، میں کاغذات تیار کرکے لایا ہوں۔ ان کاغذات پر دستخط کرو۔‘‘ بھائی نے چرمی بیگ سے کاغذات نکال کر بہن کی طرف بڑھا دیے۔

بہن کا کھِلا کھِلا چہرہ یکدم مرجھا گیا۔ بہنوئی اور بھانجہ بھی سکتے میں آگے، مگر زبان سے تینوں نے کچھ نہیں کہا۔

بہن نے بھائی جان کے دئیے ہوئے کاغذات پر خاموش دستخط کردیے۔ دستخط ہوتے ہی بھائی جان نے کاغذات بیگ میں رکھتے ہوئے کہا: ’’اچھا، اب میں چلتا ہوں۔‘‘

’اب کب آؤ گے بھائی جان!‘‘ بہن نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔

بھائی جان اپنے کلین شیو چہرہ پر ہاتھ پھیر کر بولے: ’’اب تم ہی آؤ میرے گھر، میں شہر میں مکان خرید رہا ہوں، عالیشان مکان ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بھائی چلا گیا۔

صابرہ کو لگا کہ بھائی سے اب اس کا ناتا ہی ٹوٹ گیا۔ اس کا یہ احساس غلط نہیں تھا۔

مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کریں افسانے

شیئر کیجیے
Default image
محمد طارق، کولہاپور

Leave a Reply