بہادری اور عزم و حوصلہ کی جانب!

امت محمدﷺ کو اس کے ابتدائی دور میں ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ:

’’اور ہم تمہیں خوف وخطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصان اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے اور (ایسے میں) صبر کرنے (جمے رہنے) والوں کو بشارت دے دیجیے۔‘‘ (البقرۃ:155)

’’ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میںڈالیں گے تاکہ جان لیں کہ تم میں سے کون مجاہد ہے اور کون صبر کرنے والا ہے۔‘‘ (محمد:31)

’’مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب سے بہت سی باتیں سنوگے اور مشرکین کی جانب سے تمہیں کافی تکلیفیں ملیں گی۔ (ایسے میں) اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کا راستہ اپنائے رکھو تو وہ بڑے عزم و حوصلے کا کام ہے۔‘‘ (آل عمران:186)

قرآن کریم کی ان منتخب آیات کے علاوہ بھی کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مختلف قسم کی آزمائشوں سے خبردار کیا ہے اور ہر جگہ پر ثابت قدمی اور تقویٰ کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ ایسے حالات میں صبر اور تقویٰ ہی اہلِ ایمان کا ہتھیار ہے اور اسی کو ہونا چاہیے۔

پوری دنیا اور وطن عزیز کی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے مخاطب ہم ہی لوگ ہیں اور یہ صبر و تقویٰ کی روش کی تلقین ہم ہی کو کی جارہی ہے —— اور —— اگر ہم تاریخ اسلام کو دیکھیں تو احساس ہوگا کہ ہم مدنی زندگئی رسولﷺ کی طرف جارہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دور کے اہلِ ایمان ایک دوسرے کو حق پر جمے رہنے اور صبر اختیار کرنے کی تلقین کے ساتھ جہدوعمل اور دعوت و انذار کے مشن میں جٹے ہوئے تھے اور ہم جمود اور مایوسی کے ساتھ حالات کا شکوہ کرنے میں لگے ہیں۔ ان کی سوچ اور جدوجہد خود کو بدلنے اور سماج کو تبدیل کرنے میں انتہائی طاقت لگا دینے کی تھی اور ہم احتساب ذات کی فکر سے بے خبر اور حالات میں تبدیلی کے لیے کسی لائحۂ عمل کی تیاری سے بے بہرہ ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ باتیں ہم نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں کہی ہیں جہاں تریپورہ کے منصوبہ بند فسادات کے زخم تازہ ہیں اور جہاں ماب لنچنگ کے واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اور ان حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کے اندر ایک خوف اور بے یقینی کی کیفیت نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ ان حالات کے سلسلے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ملک کے مسلمان گزشتہ دو صدیوں سے کسی نہ کسی صورت میں اس قسم کے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ قتل عام جیسے فسادات، لوٹ اور آگ زنی کمزور مسلمانوں پر ظلم، پہلے بھی ہوتا رہا ہے، مگر اس زمانے میں سوشل میڈیا نہیں تھا۔ اس لیے خبریں عام انسان کی پہنچ سے دور تھیں اور خبریں حقیقت کی صورت میں ہی لوگوں کے سامنے آتی تھیں جبکہ موجودہ دور میں خبروں کی صحت ہی نہیں بلکہ ان کی ماہیئت اور ان کا حجم بھی حقیقی انداز میں لوگوں کے سامنے نہیں آپاتا۔ بعض اوقات حالات و واقعات مبالغے پر مبنی ہوتے ہیں اور بعض اوقات فرضی اور بے بنیاد بھی ہوتے ہیں جنھیں حقیقت بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا صاف مطلب اور مقصد یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کردیا جائے اور جب کوئی گروہ خوف کی نفسیات میں گرفتار ہوجاتا ہے تو شکست اس کا مقدر ہوجاتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت اس کے اندر سے ختم ہوجاتی ہے۔ قوموں اور گروہوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرنا ہمیشہ سے دشمن طاقتوں کی ایک اسٹریٹجی رہی ہے اور آج بھی ہے۔ قرآن کریم نے ہماری اس سلسلے میں بھی رہنمائی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’پھر کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں یوں ہی داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ تم پر ابھی وہ سب نہیں گزرا جو تم سے پہلے لوگوں پر گزرچکا ہے۔ ان پر سختیاں آئیں، مصیبتیں آئیں، وہ ہلا مارے گئے، تاکہ وقت کا رسول اور اس کےساتھی پکار اٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اور سن لو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔‘‘ (البقرۃ:214)

ان سب مصائب و مشکلات کا مقصد اہل کفر کے نزدیک صرف اور صرف انہیں مایوس کرنا تھا کہ وہ پکار اٹھیں کہ ’’اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ خانۂ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے کہ ایک صحابی آئے اور انھوں نے اسی طرح کے الفاظ کہے کہ ’’اللہ کی مدد کب آئے گی؟‘‘ آپؐ کعبہ کی دیوار کا سہارا چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے اور ان سے اسی مفہوم کی بات کہی جو قرآن میں بیان فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ:

’’…. اور اللہ تعالیٰ یقیناً ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ بس وہ میری ہی عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔‘‘ (النور:55)

خوف افراد اور گروہوں، دونوں کے لیے قاتل اور مہلک ہے۔ یہ انسان کی قوتِ برداشت کو ختم اور عزم و حوصلے کو تباہ کردینے والا ہے۔ یہ زندگی کا جوش و جذبہ چھیننے والا حالات سے لڑنے کی صلاحیت کا قاتل ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خوف چاہے حقیقی ہو یا فرضی، ہر دو صورتوں میں تباہ کن ہے۔ یہ ایک نفسیاتی روگ ہے جس سے ہر صحت مند ذہن اور جسم کو بچایا جانا چاہیے اور اگر یہ اجتماعی خوف ہو تو اس کی ہلاکت اور شدید ہے کہ یہ قوموں اور گروہوں کو تباہ کرکے انہیں شکست خوردہ، غلام اور رحم کی بھیک مانگنے والا بناکر چھوڑتا ہے۔

خوف کی ضد بہادری ہے جو عزم و حوصلے اور جہدوعمل سے بھرپور جذبے کا نام ہے۔ بہادری اور عزم و حوصلہ افراد اور گروہوں کو کامیاب بناتا ہے، انہیں مشکلات و مسائل کے بھنور سے نکلنے کے قابل بھی بناتا ہے اور اس کے گُر بھی سکھاتا ہے۔ عزم و حوصلہ اور بہادری ممولے کوشہباز سے لڑادیتے ہیں اور کامیاب کرتے ہیں۔ جب خوف کی جگہ بہادری پیدا ہوجائے اور بے ہمتی کی جگہ عزم و حوصلہ لے لے تو افراد و اقوام اور گروہ ناقابل شکست قوت بن جاتے ہیں اور اگر بات اہل ایمان کی ہو تو پھر یہیں سے اللہ کی مدد اورنصرت انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے اور مخالف طاقتیں بالآخر اپنی انگلیاں چبا کر پوچھتی ہیں:

ظلم تھک کر سوال کرتا ہے

کیوں نہیں مرتے سخت جاں لوگو!

جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا محمد سراج الحسن صاحب مرحوم نے ان سخت حالات میں تین میم (م) فارمولہ امت مسلمہ ہند کو دیا تھا۔ وہ کہتے تھے:

مایوس نہ ہوں! معطل نہ ہوں! مشتعل نہ ہوں!

یہ تین ’م‘ فارمولہ آج بھی مسلمانوں کے لیے اہم ہے بلکہ اسی کی ضرورت ہے اور حقیقت میں یہ فارمولہ ہمارے بنیادی مسائل کی شناخت بھی ہے اور اسی فارمولے میں مسائل کا حل بھی ہے۔ مایوس نہ ہونا ہمیں زندگی کے لیے پرامید بناتا ہے اور معطل نہ ہونا ہمیں درست راہ میں جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے اور اشتعال سے پرہیز ایک طرف تو ہماری کوششوں کو تعمیری رخ دیتا ہے اور دوسری طرف مخالفین کو ناکامی کا ’تحفہ‘ دیتا ہے کہ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم مشتعل ہوکر منفی طریق زندگی اختیار کرلیں اور ہماری طاقت اور انرجی تعمیری کام میں اور ذہن مستقبل سازی کی منصوبہ بندی میں نہ لگ سکے —— حقیقت یہ ہے کہ مایوسی اور خوف کی سوچ اہلِ ایمان کی سوچ تو ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ:

گہرا ہوا رنگ اندھیروں کا جب حفیظ

امکان روشنی کے بھی بہت ملے

جب مایوسی ذہن و دماغ سے ہٹ جائے گی، جمود و تعطل جہدوعمل میں بدل جائے گا اور اشتعال کی جگہ مستقبل سازی کی فکر لے لے گی تو حالات بدلیں گے اور اللہ تعالیٰ خوف کی صورت حال کو ’امن‘ میں بدل دے گا۔ یہ اس کا وعدہ ہے، جس پر ہمارا ایمان ہے اور پورے ہونے کا یقین بھی۔

 

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply