صحبت کا صدقہ

’’آپ ان ساری باتوں کا عدالتی حل کیوں حاصل نہیں کرتے۔‘‘ میر آفتاب حسین صاحب سے وکیل صاحب مخاطب تھے۔

’’کیا کروں وکیل صاحب، یہ مسائل ایک کے بعد دوسرا، تھوڑے تھوڑے وقفے سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ آخر کس زخم کو دیکھوں، کس درد کو روؤں۔‘‘

میر صاحب واقعی دنیا و ول دونوں کے امیر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جیب کے ساتھ اس کے پیچھے والا دل بھی بڑا دیا تھا۔ ان کی یہ کمزوری تھی کہ وہ کسی کی آنکھوں میں قطرے نہیں دیکھ سکتےتھے۔ کوئی بیماری سے آنکھیں برساتا آتا تو کوئی آسمانی بارش کے قطروں کا مارا گھر بار تباہ ہوجانے کا بہانہ کرکے آتا اور سرفراز ہوکر جاتا۔ لوگ ان کی یہ کمزوری جان چکے تھے۔ ذرا مشکل پڑی میر صاحب کے ہاں آدھمکے۔ صورت رونی، اور بھیگی آنکھیں، پھر کیا تھا میر صاحب اپنی دیرینہ صفت سخاوت کو آزاد چھوڑ دیتے۔ کوئی یونہی خیرات مانگتا اور کوئی قرض کی ادائیگی کے وعدے کرتا، کوئی ایسا کرتا اور کوئی کچھ اور ترکیب اختیار کرتا۔ میر صاحب ان باتوں پر توجہ نہ دیتے اور جو کچھ وہ دینا چاہتے وہ دے دیتے اور دیتے ہی رہتے اورکہتے رہتے: ’’بیچارے آج نہیں تو کل دے دیں گے۔‘‘ اور یہ کل ایک آدھ ہی کو نصیب ہوتی اور اکثروں کی کل تو ہر روز خود کل پر ٹلتی جاتی تھی۔ یہ بیچارے میر صاحب مقروضوں سے قرض واپسی کا تقاضا کرنا تو درکنار، اگر وہ دور سے آتے نظر آتے تو یہ خود راستہ کاٹ کر نکل جاتے یا اتفاق سے آمنا سامنا بھی ہوجائے تو یہ سر جھکا کر ایسے چلے جاتے جیسے انھیں جانتے ہی نہیں۔ ایسے وقت اُن مقروضوں کے سامنے سر اٹھاتے وہ شرمندگی محسوس کرتے تھے۔

’’آپ جب اس طرح کرتے ہیں تو لوگ اور ڈھیٹ ہوجاتے ہیں۔‘‘ وکیل صاحب فرماتے۔ ’’اگر آپ دستاویز لکھوالیتے تو لوگ ایسا نہ کرپاتے۔‘‘

’’دستاویز لکھوالینا ایک بڑے فتنے کا دروازہ کھولنا ہے۔ بیچارے قرض لیتے ہی کتنا ہیں؟ اس پر یہ اخراجات مصیبت کے ماروں کے سر پر اور پھر عدالتی کارروائی، اور آپ جیسے وکیلوں کو بھی تکلیف دینی پڑتی ہے۔‘‘ اس پر وکیل صاحب مسکرادیے۔

دراصل یہ دونوں پڑوسی تھے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے تھے۔ پھر بھی دونوں کے درمیان کچھ فرق بھی تھا اور کچھ اوصاف مشترک بھی۔ وصفِ مشترک یہ کہ دونوں شائستہ تھے اور مہذب بھی اس لیے دونوں اپنی باہم ملاقاتوں، بات چیت کی بیٹھکوں میں ضبط و تحمل اور اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتے تھے۔ اسی لیے باوجود شخصیتوں میں فرق کے ایک زمانے سے آپس میں نبھتی چلی آئی تھی۔ فرق یہ تھا کہ میر صاحب ’’دیتے تھے‘‘ اور وکیل صاحب جیسا کہ معروف ہے صرف ’’لیتے تھے‘‘ ۔ میر صاحب دینا نہیں چھوڑتے اور نہیں لیتے تھے اور یہ وکیل صاحب لینا نہیں چھوڑتے اور دیتے نہیں تھے۔ اسی لیے لوگ ان کی پیٹھ پیچھے کہتے۔ ان وکیل صاحب کی جیب چھوٹی ہے اور دل تو اتنا چھوٹا ہے کہ اسے تنگ کہا جائے۔ اور بعض تو لفظ وکیل کے ساتھ ’بخیل‘ کا قافیہ بھی جوڑ دیتے تھے جبکہ میر صاحب کو ’’دل کا امیر‘‘ گردانتے تھے۔

ایک اور فرق یہ بھی تھا کہ میر صاحب جو بھی کہتے اور کرتے اس سے آخرت کی بو آتی تھی اور وکیل صاحب کے قول و فعل میں دنیا کی سج دھج اپنے جلوے دکھاتی تھی۔ میرصاحب کی تعلیم و تربیت قدیم طرز کی تھی اس لیے ان کی لوگ قدر کرتے تھے جبکہ وکیل صاحب کی تعلیم جدید زمانے کی تھی اس لیے لوگ بحیثیت مجموعی ان سے ڈرتے تھے۔

کسی زمانے میں وکیل صاحب کے آباء کی بڑی زمینداری تھی جو مقامی فرمانرواؤں کی باجگزار تھی۔ پہلی جنگ آزادی اور اس کے بعد کی سیاسی، سماجی اور معاشی افراتفری کے زمانے میں، جب آزادی کے پروانے اپنی جانیں نچھاور کررہے تھے اور دار ورسن کو سجا رہے تھے اس وقت ان کے اجداد وطن دشمن انگریزوں کے کفش بردار تھے جو انگریز حکومت کی مہربانیاں اور مال و دولت کی تھیلیاں پانے کے لیے ان کی چاپلوسی کرتے ہوئے اپنے وطن کے ساتھ غداری کررہے تھے۔ بدلے میں حاصل شدہ دولت کو تجارت اور صنعت میں لگا کر وہ مزید دولت و اقتدار کے مالک بنتے چلے آتے تھے۔ چنانچہ وکیل صاحب کے اکثر رشتہ دار نزدیک یا دور کے، بڑی بڑی تجارتی منڈیوں اور صنعتی کارخانوں کے مالک تھے۔ ایسے ہی خانوادوں کے چشم و چراغ یہ وکیل صاحب بھی’’ہرچہ آمد درگھسیٹ ۔ آم ہو یا ہو کبیٹ‘‘ کی پالیسی کے پکے پابند تھے۔ (یہ مزاحیہ شعرنما قول ہمارے ہاں دکن میں مشہور ہے۔ مفہوم اس کا سیاق و سباق سے سمجھ سکتے ہیں۔ کبیٹ ایک پھل ہے جو سردیوں میں ہمارے ہاں ملتا ہے)۔ ایسے امیروں کے پاس دولت سے متعلق ایک ہی راستہ ہوتا ہے اور وہ ہے صرف اندر آنے کا۔ چنانچہ ان کی دولت کا ’بے سایہ‘ درخت دن دگنی رات چوگنی سرسبزی و شادابی دکھاتا ہوا ترقی کررہا تھا۔

میر صاحب جیسے دلداروں کی صحبت بھی وکیل صاحب کو ہلا نہیں سکی۔ اس لیے کہ یہ میر صاحب کا ’’دیتے رہنے‘‘ کا کام ان کی نظر میں بے تکا اور ناعاقبت اندیش تھا۔ یہ خیال وہ ظاہر تو نہیں کرتے تھے البتہ دل ہی دل میں میر صاحب کو ’’دیوانا کہیں کا‘‘ سمجھتے تھے۔

آج کی بیٹھک میں جب وکیل صاحب میر صاحب سے اپنے قرض داروں سے دستاویزات لکھوالینے پر کچھ زیادہ ہی اصرار کرنے لگے تو میر صاحب نے بھی ٹھانی کہ فیصلہ کن بات بتادوں تاکہ اس موضوع پر آئندہ کے لیے گفتگو کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے۔

’’میں بڑا گنہ گار ہوں، وکیل صاحب‘‘ میر صاحب نے شروع کیا۔ ’’بزرگانِ دین کہتے ہیں کہ آخرت بھی ایک دن قائم ہوگی اور اصل زندگی وہیں کی ہے۔ اس کے سامنے یہ دنیاوی زندگی سمندر میں خشخاش کے دانے کے برابر بھی نہیں۔ وہی کامیاب ہوگا جو آخرت کے وبال سے چھوٹا اور جنت میں داخل ہوا۔ لیکن اپنے ڈھیر سارے گناہوں کے ساتھ جنت کا تصور بھی میرےلیے زیب نہیں دیتا، اس لیے سوچتا ہوں کہ گناہوں کے بوجھ کو کچھ تو ہلکا کرلوں۔ بزرگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ دنیا میں دنیا کے سکے چلتے ہیں مگر آخرت میں اعمال کے سکے چلیں گے۔ اگر ظالم اور بیداد گروں کے پاس نیک اعمال ہیں تو مظلوموں کو ان کی مظلومی کے بہ قدر دے دیے جائیں گے۔ اگر ظالم کے پاس نیکیاں نہیں ہیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے سرتھوپ دیے جائیں گے اور یہ ہے بھی انصاف کی بات۔ جو یہاں میری امانت مجھے واپس کردیتے ہیں، لے لیتا ہوں اور جو مجھےدھوکہ دیتے ہیں، ان کا مجھ پر احسان ہے کہ وہ آخرت میں میرے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے والے ہیں۔ ‘‘

میر صاحب اور کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن انھوںنے دیکھا کہ وکیل صاحب کے چہرے پر کچھ نئے طور نظر آرہے ہیں، سنجیدگی چھائی ہے۔ پیشانی پر سوچ بچار کی لکیریں نظر آئی ہیں، پلکیں کچھ جھکی ہوئی ہیں اور آنکھوں کے نچلے کنارے کچھ چمک رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میر صاحب خاموش ہوگئے۔ ذرا سا اس طول بیان کا احتساب کیا کہ کہیں وکیل صاحب پر ذاتی چوٹ تو نہیں کی۔ ایسی تو ان کی نیت بھی نہیں تھی۔ ’’کیوں وکیل صاحب کیا مجھ سے کچھ گستاخی ہوگئی؟‘‘

’’نہیں نہیں، آپ فرماتے جائیے۔‘‘ وکیل صاحب نے جواب دیا۔

’’کیا میں آپ کا قیمتی وقت ضائع کررہا ہوں؟‘‘

’’ہرگز نہیں، آپ کی باتیں میں سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔‘‘

’’بات اتنی ہی تھی۔‘‘ میر صاحب کا موڈ بھی مجروح ہوگیا تھا۔ اس لیے خاتمہ پیش کردیا۔ ’’میں جو کچھ کھو رہا ہوں اس سے بہتر پانے کی مجھے امید ہے۔ فقط اسی لیے میں ہمیشہ مطمئن رہتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر میر صاحب نے وکیل صاحب سے اجازت لی اور ان کے دیوان خانے سے اپنے گھر کے دیوان خانے میں آدراز ہوئے۔

پھر دو تین دن تک وکیل صاحب نظر نہیں آئے۔ میر صاحب نے سمجھا کہ اپنے پیشے سے متعلق کسی دوسرے شہر کی عدالت گئے ہوں گے۔ چوتھے دن خود وکیل صاحب میر صاحب کے گھر آئے،ان کے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔ آج وہ کچھ کاغذات بھی ساتھ لائے جنھیں انھوں نے میر صاحب کے سامنے رکھ دیا۔

میں نے جب ان کاغذات کو دیکھا تو حیرت اور خوشی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ انھوںنے اپنی آبائی جاگیر سے تقریباً سو ایکڑ زمین ایک دینی اقامتی ادارے، مسجد اور ایک بڑا میڈیکل کالج بنانے کے لیے وقف کردی تھی۔ ادارے کے خود مکتفی ہونے کے لیے ضروری اسباب و وسائل کی تعمیر، تخلیق اور فراہمی کے لیے مکمل منصوبہ تھا ادارے کے قیام کے لیے سو کروڑ کا ایک تخمینہ بھی تھا جس کی نصف رقم وکیل صاحب اپنی ذاتی ملکیت سے خرچ کرنے جارہے تھے۔ یہ دیکھ کر میر صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اٹھ کر وکیل صاحب کو گلے سے لگالیا۔

وکیل صاحب نے کہا: ’’میر صاحب یہ صدقہ ہے آپ کی صحبت کا۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
قادر علی انور ، سری کالا ہتی (اے پی)