انسان! اپنے آپ کو پہچان

ایک شخص جو زندگی کے ابتدائی مرحلہ میں ڈاکو تھا، قرآن کی ایک آیت سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور اپنی زندگی میں ایسا انقلاب برپا کرتا ہے کہ تاریخ میں اسے صوفی اور محدث کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہارون الرشید جیسا بادشاہ اس کے پاس حاضر ہونے کو اپنی سعاد ت سمجھتا ہے اور جب خود اس کی خواہش پر اسے نصیحت کی جاتی ہے تو دیر تک گریہ وزاری کرتا رہتا ہے۔

یہ فضیل بن عیاض ہیں جن کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی زندگی میں جو خیروشر سے عبارت ہے، خیر کو نمایاں طور پر غالب کیا جاسکتا ہے اور ایسا کیا جانا انسان کے بس میں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اس مہم کو سرکرنے کا پختہ ارادہ کرلے۔

عزم کامل کو میرے ہر گام پر منزل ملی

بن گئیں دشواریاں، آسانیاں میرے لیے

تزکیہ کا مفہوم

عربی زبان میں تزکیہ کا لغوی معنی یہ ہے کہ کسی شے کو صاف ستھرا بنایا جائے اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھایا جائے لیکن اصطلاح میں تزکیہ سے مراد اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹاکر نیکی اور خدا ترسی کی راہ اختیا رکرنا ہے۔ یہی مفہوم قرآن سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا گیا:

’’اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں ڈال دی۔ فلاح پا گیا جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور بے مراد ہوا جس نے اس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:7-10)

اس کی اہمیت اور ضرورت

اسلامی نقطۂ نظر سے تزکیہ نفس چونکہ ’’کفروشرک چھوڑ کر ایمان لانا، برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیا رکرنا اور برے اعمال چھوڑ کر نیک عمل کرنا‘‘ ہے، اس لیے یہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ زندگی کے کسی شعبہ میں اس سے مفر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت آدمؑ نے بنی اسماعیل میں ایک رسول مبعوث کرنے کی اللہ سے دعا کی تو یوں کہا:

’’اے ہمارے رب! ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ،تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘ (البقرۃ:129)

اور اس دعا کو جب شرفِ قبولیت حاصل ہوا اور وہ ذات جو اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا، حضرت عیسیٰؑ کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کی خواب کا مظہر تھی، مبعوث کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے، ان کی زندگیاں سنوارتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ (الجمعہ:2)

معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام سنانے پر، کتاب و حکمت کی تعلیم دینے پر اور اہلِ ایمان کے تزکیہ نفس پر مامور تھے۔ گویا کہ نفس کا تزکیہ آپؐ کے فرضِ منصبی کا ایک حصہ تھا۔ اس عمل کی اہمیت کا تصور کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے جسے فرائض رسالتؐمیں شامل کیا گیا ہو۔

سورہ البقرۃ کی آیت 129 اور سورہ الجمعہ کی آیت 2 کے الفاظ کی ترتیب میں فرق ہے۔ سورہ البقرہ:129 میں تزکیہ کا لفظ آیت کے آخر میں آیا ہے جبکہ سورہ الجمعہ 2 میں تلاوت آیات کے متصل بعد ہی تزکیہ کا لفظ آیا ہے۔ اس لفظی ترتیب کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحیؒ، اپنی کتاب تزکیہ نفس میں فرماتے ہیں: ’’ایک غور کرنے والا شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایک ہی بات کے بیان کرنے میں اسلوب کا یہ ردوبدل کم از کم قرآن مجید میں بلاوجہ نہیں ہوسکتا، اب غور کیجیے اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ ہماری سمجھ میں اس کی وجہ یہ آتی ہے کہ اس تقدیم و تاخیر سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نبیؐ کی تمام جدوجہد اور اس کی تمام سرگرمیوں کا محور و مقصود دراصل تزکیہ ہی ہے کیونکہ اصل مقصد ہی کی یہ اہمیت ہوتی ہے کہ وہ شروع میں بھی ایک کام کرنے والے کے پیش نظر ہوتا ہے اور آخر میں بھی۔ وہی اس کی سرگرمیوں کا نقطۂ آغاز بھی ہوتا ہے اور نقطۂ اختتام بھی۔ وہیں سے وہ اپنا سفر شروع بھی کرتا ہے اور وہیں اس کو ختم بھی کرتا ہے۔‘‘

جس طرح آپؐ کی بعثت کا مقصد تزکیہ نفس بتایا گیا، ٹھیک اسی طرح حضرت موسیٰؑ کے حوالے سے کہا گیا:

’’فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے۔‘‘ (النازعات:17-18)

گویا کہ حضرت موسیٰؑ بھی اسی کام پر مامور تھے اور اسی نفس کی پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے فرعون سے کہا گیا۔

فلاح قرآن و سنت کی ایک معروف اصطلاح اور کثیر الاستعمال لفظ ہے جس کے معنی ہر مراد کا حصول ہے اور ہر تکلیف سے دوری۔ فلاح کامل تو دنیا میں کسی کو بھی بشمول انبیاء و رسل حاصل نہیں ہوسکتی البتہ آخرت میں اس کا مکمل حصول ممکن ہوگا لیکن اس کا حصول بھی تزکیہ سے وابستہ ہے جیسا کہ فرمایا گیا: ’’یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔‘‘ (الشمس:9-10)

اسی طرح فرمایا: ’’فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔‘‘(الاعلیٰ:14)

ہر کوئی جانتا اور مانتا ہے کہ ہر چیز کے خالق کو ’’اس چیز‘‘ کے حوالے سے جو کچھ معلوم ہے کسی دوسرے کے علم میں نہیں۔ اسی کلیہ اور ضابطہ کے رو سے انسان کے خالق، اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہے کہ اس کے لیے کون کون سے اعتقادات، نظریات، جذبات، میلانات اور اعمال مفید ہیں اور کون کون سے مضرہیں۔ یہ اس کی رحمت خاص ہے کہ اس نے وحی کے ذریعہ ہمیں پہلے ہی سے آگاہ کردیا ہے کہ انسان کے لیے مضر نظریات اور اعمال کون کون سے ہیں۔ انہیں ’’بدی‘‘ کہا گیا اور ان سے بچنے کے لیے حکم دیا گیا ہے اور مفید کون کون سے ہیں انھیں ’’نیکی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ نیکی کے راستے کو اختیار کرنا اور بدی سے اجتناب کرنا، انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور چونکہ فرائض کی پابندی اور منکرات سے اجتناب کی راہ اختیار کرنا ہی تزکیہ نفس کاذریعہ بنتا ہے اس لیے یہ کہنا درست اور صحیح ہوگا کہ جہاں تزکیہ نفس انسانی زندگی کی ایک اہم ضرورت ہے وہیں یہ انسانی فطرت کے اہم تقاضوں میں سے ایک عمل ہے جس کے بغیر انسان دائمی عذاب میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس سے بڑا نادان بھلا اور کون ہوسکتا ہے جو جاننے کے باوجود نفس کا تزکیہ کرنے سے دور رہے اور خلود فی النار کا مستحق ٹھہرے۔

ایک حدیث قدسی میں فرمایا گیا:

’’اے میرے بندو! اگر اول سے آخر تک سب انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی دل والے کی طرح ہوجائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ بڑھ نہیں جائے گا۔ اے میرے بندو! اگر اول سے آخرتک سب انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار دل والے آدمی کی طرح بن جائیں تو اس سے میرے ملک میں کوئی نقص واقع نہیں ہوگا۔‘‘ (مسلم)

اس حدیث قدسی میں جس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں یا جنوں کے نیک یا بد بن جانے سے اللہ کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ :

’’تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی اور اگر برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔‘‘ (بنی اسرائیل:7)

اپنا تزکیہ نفس کرنا ہر انسان کی اپنی ضرورت ہے اور اس کا فائدہ بھی وہ خود ہی اٹھائے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر منصور علی