رسول ﷺ کا انقلاب

محمد اختر

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت در حقیقت ایک انقلاب کی آمد تھی۔ ایک عالمگیر انقلاب جس کے ذریعے دنیا اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھی۔ و اشرقت الارض بنور ربھا۔ یہ اسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ وہ قوم ۔۔۔ جو بکریوں کی نگہبانی کرنے اور انہیں درندوں سے بچانے میں مصروف رہتی تھی، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت وجود کی بدولت انسانیت کی نگہبانی اور مظلوم انسانوں کو ظالموں سے نجات دلانے والی قوم بن گئی۔

وہ قوم ۔۔۔ جو اپنے قبیلے اور نسل کو دوسرے قبائل اور نسلوں پر فوقیت دیتی تھی، رنگ، نسل اور زبان کے اختلاف کے غیر فطری معیاروں سے بلند ہوکر اسلام کے جھنڈے تلے وحدتِ انسانی کو انسانیت کی معراج سمجھنے لگی۔

وہ قوم ۔۔۔۔ جو لڑکیوں کی پیدائش کو نحوست تصور کرتے ہوئے انہیں زندہ دفن کر دیتی تھی، وہی قوم عورت کو اس کا فطری مقام عطا کرکے اس کی عفت و عصمت کی حقیقی و مثالی محافظ بن گئی۔

وہ قوم۔۔۔ جو اپنی بھوک مٹانے کی خاطر دوسروں کو لوٹ لیا کرتی تھیں، حضور ختمی مرتبتؐ کی تعلیم کی بدولت دوسروں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود بھوکی رہنے لگی۔

وہ قوم۔۔۔۔ جو ہمیشہ منتشر رہی، جو حکومت کے اجتماعی تصور سے یکسر ناآشنا تھی، جو’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے اصول پر کاربند تھی، حضور اکرمؐ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے دنیا کی پہلی آئین پسند، قانون کی پابند، حقیقی جمہوریت کی دلدادہ قوم بن گئی۔

وہ قوم ۔۔۔۔ جو عملی زندگی میں عدل و انصاف سے ناآشنا تھی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت عدل و انصاف کا ایک مثالی نمونہ بن گئی۔ جس نے دشمن سے بھی عدل کر کے انصاف کی تاریخ میں ایک زریں باب کا اضافہ کیا۔

وہ قوم۔۔۔ جو اپنے بڑے آدمیوں کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتی تھی، شخصیت پرستی اور شرک کا شکار تھی، اسی قوم نے ختمی مرتبتؐ کی بدولت خدا کی وحدانیت پر ایمان لاکر دنیا سے بت پرستی، شخصیت پرستی اور شرک کو ملیا ملیٹ کر دیا۔

وہ قوم۔۔۔ جس کے نزدیک عزت کامعیار رنگ، نسل، حسب و نسب اور مال و دولت تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت تقویٰ، احسان اور مکارم اخلاق کو عزت کا معیار سمجھنے لگی۔

وہ قوم۔۔۔۔ جو شراب و زنا، سود اور جوئے کی دلدادہ تھی، حضورؐ کی بدولت اسی قوم نے شراب کے خم سڑکوں پر انڈیل دیے، نکاح کو شعار بنایا، سود اور جوئے میں دوسروں کا مال لوت کر کھانے کے بجائے زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے، دوسروں کی کفالت کرنے والی قوم بن گئی۔

انقلاب مکہ کے نتائج کوئی کہاں تک گنائے۔ اس انقلاب کے بانی آقائے نام دار حضرت محمدؐ کی دعوت کی بنیاد تھی ، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یعنی ’’سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں‘‘ اور اب انہی کی رہبری ہمارے لیے کافی ہے۔ یہ اعلانِ توحید محض علم کلام یا فلسفہ یا مابعد الطبیعیات کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں یہ زندہ قوت تھی۔ ایک خدا… اس کے سب بندے، اسی کے قانون کے پابند، اس کے قانون کی نظر میں سب یکساں، سب کو اپنی امنگوں اور آرزوؤں کی تکمیل کے مواقع، سب کو کسب معاش کی سہولتیں حاصل۔ کسب معاش کی صلاحیتوں میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتاکہ کوئی معاش سے محروم رہے اور کوئی ضرورت سے زیادہ حاصل کر کے لہو و لعب کی نذر کردے۔ در حقیقت اسلامی معاشرہ میں کسب حلال، اکل حلال اور بذل حلال کے اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

ایک خدا کے تصور نے ذات پات، اونچ نیچ اور مختلف طبقات کے وجود ہی کو ختم کر دیا۔ سب ملت واحد بن گئے۔ حضور اکرمؐ کے فرمان کے مطابق ملت ایک جسم ہے جس کا کوئی حصہ تکلیف میں ہوگا تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرے گا، جس کے ہر عضو کو اس کی ضرورت کے مطابق خون کی ضرورت ہے۔ اگر کسی عضو کو خون کی مناسب مقدار نہ ملے تو وہ عضو شل ہوجائے گا۔ اسی طرح قوم کے معاشی وجود میں دولت کو گردش میں رہنا چاہیے ورنہ قوم کا ایک حصہ شل ہوجائے گا اور باقی حصے بھی اس کی وجہ سے ناکارہ رہیں گے۔

ایک خدا کے تصور نے مذہبی اجارہ داریوں کی گنجائش ہی ختم کردی۔ قانون خدا کا اس کا شارح خدا کا رسولؐ… یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح پوپ یا پادری کا قول یا اس کی تشریحات اور توجیہات قانون نہیں بن سکتیں۔ بلکہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر علم سیکھنا فرض قرار دے کر احبار و رہبان کے وجود ہی کو ختم کر دیا گیا۔ علم عام کیا ہوا کہ ہر شخص اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے واقف ہوگیا۔ در حقیقت یہی انسانیت کا شرف اور جمہوریت کی بنیاد ہے۔ الغرض کیا معاش اور کیا معاد، ہر شعبہ زندگی میں اجارہ داریاں ختم ہوگئیں۔ چشمِ دنیا نے اس انقلاب عظیم کے ذریعے جو کامیابیاں دیکھیں وہ در حقیقت حضورؐ کی دعوتِ توحید اور ایمان بالآخرت کا نتیجہ تھیں۔

اس انقلابِ عظیم کے متعلق مشہور مفکر کارلائل اپنی مشہور زمانہ تصنیف "Heroes and hero worship” میںلکھتا ہے:

’’عربوں کے لیے یہ انقلاب ایک نئی زندگی تھی جو انہیں تاریکیوں سے نور کی طرف لے آئی تھی۔ عرب اس کے ذریعے پہلی دفعہ زندہ ہوا۔‘‘

جس کلمہ اور جن تعلیمات نے یہ ہمہ گیر انقلاب برپا کیا، وہ سب آج بھی ہمارے پاس موجود ہیں مگر ہمارے آج کے سماج اور معاشرے پر وہ انقلابی کیفیت کیوں نہیں آتی اور اس کا ڈھانچہ کیوں تبدیل نہیں ہوتا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات واضح اور صاف ہے کہ آج کی مسلم دنیا ان تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے راضی نہیں جو ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اور جس کے ذریعہ یہ انقلاب آیا تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہمارے مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے؟lll

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست 2023

شمارہ پڑھیں