افسانے

گاندھی مارگ

گاندھی جینتی پروگرام میں باپو کی زندگی پر دیے گئے، بھاشنوں کو سن کر دل میں اتارلینے کے بعد وہ شخص جھلایا ہوا سیدھا ہمارے پاس چلا آیا۔ اُس کے اندر ہنسا بھری ہوئی تھی، بالکل فرضی دیش بھکت کی طرح۔ ہمار…

مزید پڑھیں

اپاہج

میرے بابا میری دادی کی اکلوتی اولاد تھے۔ دادی کہتی تھیں کہ میری ماں جب بیاہ کر ان کے گھر آئیں تب ابا کی عمر بہ مشکل بیس برس رہی ہوگی۔ اولاد کی خواہش میں بابا کی شادی دادی نے کم عمری میں ہی کرا دی تھ…

مزید پڑھیں

بے ہاتھوں والا پتھر باز

طولکرم فلسطین کا ایک پُرامن قصبہ ہے۔ اسی قصبے کے چوک میں جہاں خاموشی کا ڈیرہ تھا، دفعتاً ایک بکتر بند گاڑی آکر رکی۔ اس میں سے کئی اسرائیلی فوجی سروں پر خود پہنے تیزی سے نیچے اترے اور چاروں سڑکوں پر …

مزید پڑھیں

زندہ بم

فلاں شہر میں تباہی کے لیے آتنک وادیوں نے حسبِ معمول بموں کا استعمال کیا۔ سات بم تو پھٹ گئے لیکن ایک زندہ بم مل گیا۔ وہ زندہ بم شہر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں رکھا ہوا تھا۔ بم جانتا تھا کہ اُسے کس ن…

مزید پڑھیں

قرض کا بوجھ

پردہ نشیں عالیہ نے بڑی معصومیت سے کہا کہ بابا میرے جہیز کی خاطر اس طرح پریشان ہوتے ہو، میرے بیاہ کے انتظامات میں اس قدر مصروف ہو؟ کبھی کوئی سامان خرید کر لاتے ہو، کبھی گھر کا کوئی سامان بیچتے ہو یہ ک…

مزید پڑھیں

تھپڑ

کارخانے کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ہوا میں اُڑتے لکڑی کے ذرّات نے اِستقبال کیا۔میں نے جلدی سے ناک پر رُومال رکھ لیا۔آرا مشین چل رہی تھی،لکڑی چیرنے والے مزدور سر سے پیر تک لکڑی کے بُرادے میں بھرے ہو…

مزید پڑھیں

قربانی کا گوشت

فیض اللہ نے قربانی کرنے کی نیت پچھلی بقرعید پر اسی وقت کرلی تھی جب اس کے گھر دوست نے گوشت کی پوٹلی بھجوائی تھی۔ اس کا بیٹا دہلیز سے سیاہ پولیتھن کی پوٹلی لے کر دوڑتا ہوا آیا تھا ’’ابا— ! احمد چاچا ن…

مزید پڑھیں

زندگی بدل گئی !

شوہر اچھا ہو بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہو تو زندگی پرسکون ہوجاتی ہے مگر یہاں تو زبردستی نوکری پر بھیجو پھر خود بازار جاکر ضرورت کا سارا سامان خود اٹھاکر لاؤ پھر گھر کی صفائی، کھانا بنانا، بچوں کو اسکو…

مزید پڑھیں

بے گناہ قیدی

شہر دھماکوں کی زد میں تھا ہر شخص ڈرا سہما اپنے گھر میں قید تھا۔ سارے شہر پر ایک ہفتہ سے جو خوف کے بادل چھائے تھے اب وہ دھیرے دھیرے چھٹ رہے تھے۔ یہ سنہری دوپہر تھی۔ وہ اپنے بیٹے کی دوا لینے میڈیکل پر …

مزید پڑھیں

اور کھانے مل گیا

سلیم اپنے آپ کو سلیم الفطرت سمجھتا تھا ۔ بظاہر ذہد و تقوی پابند تھا ۔ تہجد گزار، کثرت سے دعائیں کرنے والا۔ الله نے اسبابِ دنیاوی سے بھی خوب نوازا تھا ۔ اچانک موسم زیست نے کروٹ لی اور کو حالات کچھ خر…

مزید پڑھیں