زندگی کا درد

محمد طارق

زندگیکتنی عجیب اور کتنی عزیز ہوتی ہے اس کی سچی تصویریں اسپتالوں میں ہی نظر آتی ہیں۔اُن دنوں جب میرے والدِ محترم محمد شفیق انعام دار بیمار ہوئے تب میں نے زندگی کو بہت ہی قریب سے دیکھا تھا۔
اسپتال کا ماحول بڑا ہی روح فرسا تھا، مریضوں سے کچھا کھچ بھرے وارڈ، بوڑھے، جوان، بچے ہر عمر کے مریض زندگی سے موت کی طرف اور موت سے زندگی کی سمت رسہ کشی کرتے ہوئے کچھ ڈاکٹر، کچھ نرسیںموت سے زندگی کو بچانے کی کوشش میں مصروف، کچھ جینے کی کوشش کرنے والے مریضوں سے لاپروائی برتنے والے، اپنے عیش کے لیے ٹوٹتی سانسوں کی من مانی قیمت وصول کرنے والے ڈاکٹرس، نرسیں، جیسے بھوکے گدھ! انھیں دیکھ کر بےاختیار جی چاہا کہ میں اپنے والد صاحب کو اسپتال سے واپس ہی لے جاؤں— مگر کہاں؟!
میں نے اپنے ماموس جان سے جو میرے ہمراہ تھے سرگوشی کی: ’’ماموں جان! یہاں تو بہت لاپروائی برتی جارہی ہے!‘‘
’’تم فکر نہ کرو، جس ڈاکٹر کے پاس ہم جارہے ہیں وہ میرے اچھے دوست ہیں۔‘‘ ماموں جان جو انکم ٹیکس انسپکٹر تھے، انھوں نے خود اعتمادی سے کہا۔ مجھے قدرے اطمینان ہوا۔
ہم اسپتال میں سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
’’میں کیسے فکر نہ کروں! کیسے سہ لوں یہ سب سچائیاں، میں خود سے مخاطب تھا۔ تم اکیلے کیا کرلوگے؟ یہاں تم جیسے کتنے ہیں؟! میری آنکھوں سے دیکھو مسٹر! میرے اندر کا آدمی جو اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لیتا تھا جو میں بظاہر نہیں دیکھ پاتا وہ بولا: ’’تم جیسا سوچنے والا یہاں کوئی نہیں۔ سماج جس طرح تمہیں ایک بازار لگتا ہے اور اس میں تم تنہا رہ جاتے ہو اسی طرح اسپتال بھی ایک بازار بن چکا ہے، جہاں زندگی اور موت کا بیوپار ہوتا ہے، اسی لیے خاموش سیڑھیاں چلتے چلے جاؤ… چڑھتے چلے جاؤ!‘‘
میں اپنے والد کو دیکھ رہا تھا جو اسٹک واک ہاتھ میں لیے کافی سیڑھیاں چڑھ چکے تھے، میں تفکر میں صرف تین سیڑھیاں ہی چڑھ پایا تھا۔
والد صاحب کو گھٹنوں میں درد کی شکایت تھی، زیادہ چل نہیں سکتے تھے مگر وہ ایک منزلہ سے دوسرے منزلہ کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ ماموں جان سے بھی آگے۔ ہم سیڑھیاں طے کرکے ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔
ڈاکٹر نے معائنہ کیا، پھر والد صاحب کو جانچ کیبن میں لے گیا۔ ہم بھی ساتھ گئے۔ ڈاکٹر نے پسلیوں کے درمیان سوجے ہوئے سخت ابھار سے بذریعۂ انجکشن خون نکالا اور پھر ہم سے مخاطب ہوا: ’’آپ انہیں لے جائیے اور کل آئیے، خون رپورٹ آنے کے بعد علاج شروع کریں گے۔‘‘
ہم کیبن سے نکلے۔ میں نے دیکھا کہ سامنے سفید دیوار پر کیکڑے کی تصویر بنی تھی۔ وہ کیکڑا اب میرے لیے ایک تصویر نہیں تھی۔ کیکڑے میں جان آچکی تھی اور وہ رینگتے ہوئے والد صاحب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے جیسے وہ کیکڑا ان کے قریب پہنچ رہا تھا، اس کی جسامت میں اضافہ ہورہا تھا۔ عفریت کی طرح۔
والد صاحب اور ماموں جان سیڑھیاں اتر رہے تھے۔ کیکڑا ان کے قریب پہنچ گیا اور جیسے ہی والد صاحب پر حملہ آور ہوا میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ ’’ابا جی!‘‘
والد صاحب اور ماموں جان رک گئے میں تیزی سے سیڑھیاں اتر کر ان کے قریب پہنچ گیا — کیکڑا جانے کہا ںچلا گیا تھا۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں تو نہیں!
’’کیوں؟ کیا ہوا؟ تم اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟‘‘ ابا جی نے تحکمانہ لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں — …کچھ نہیں ابا جی!‘‘ میں سرجھکا کر بولا۔
والد صاحب کی چہرہ شناس نگاہوں نے میری کیفیت بھانپ لی۔ مجھ سے کہا: ’’بیٹا طارق! جن کے پاس زندگی کی اہمیت دنیا تک رہ جاتی ہے، اسپتالوں میں اُن کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ زندگی کو سمجھو، اس کی اہمیت کو جانو!‘‘ میں نے سر اٹھا کر دیکھا، میرے والد کے چہرے پر سکون و اطمینان تھا۔ لہجے میں ویسا ہی عزم و استقلال تھا جیسا ہمیشہ ہوا کرتا تھا۔
’’مایوسی کفر ہے۔‘‘ اندر کا آدمی مجھ سے بولا۔
’’اباجی مایوس نہیں ہیں، یقینا جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔‘‘ میں نے خود کو تسلی دی اور سرجھکائے ابا جی و ماموں جان کے ہمراہ چل پڑا۔
۰۰۰
دوسرے دن ماموں جان ڈاکٹر سے ابا جی کے مرض کی رپورٹ لے آئے تھے۔ مجھے اپنے کمرے میں لے گئے۔ میرا دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیوں کا پنجرہ توڑ کر باہر آجائے گا۔ زبان لمحہ بھر میں ہی سوکھ کر تالو سے چپک گئی تھی۔ ماموں جان ڈاکٹر کی رپورٹ لیے میرے سامنے کھڑے تھے، ایک مجسمہ کی طرح ساکت۔ ان کے لب کانپ رہے تھے لیکن وہ کچھ کہہ نہیں پا رہے تھے اور وہ جو کہنا چاہ رہے تھے میں سمجھ گیا تھا۔ اندر ہی اندر میں لرز رہا تھا تاہم ایک دبا دبا سا احساس میرے لرزتے وجود کو تھپک رہا تھا، ماموں جان وہ نہیں کہیں گے جو میں سمجھ رہا ہوں۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘‘
’’ماموں جان آپ بتائیے تو سہی، رپورٹ میں لکھا کیا ہے؟ میں ضبط کرلوں گا، آپ سچ سچ بولیے، میں سچائی سننے اور سہنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
’’طارق! کسی سے کہنا نہیں، اپنی امی سے بھی نہیں، اپنے بھائیو ںسے بھی نہیں۔‘‘ ماموں جان کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’نہیں! میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘ جانے کیوں سب کچھ سمجھنے کے بعدبھی کس امید میں اُن سے پوچھ رہا تھا۔ ’’بولیے نا ابا جی کو ڈاکٹر نے کون سا مرض بتایا؟‘‘
ماموں جان نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور پھر میرے کان کے پاس تھرتھراتی آواز میں بولے:  ’’تمہارے ابا جی کو جگر کا سرطان ہے جو اتنا بڑھ چکا ہے کہ آپریشن بھی…‘‘ ماموں جان رو پڑے۔ بے اختیار میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب پھوٹ نکلا۔ سسکی آمیز چیخیں میرے دل سے نکل کر لبوں تک آئیں جنھیں میں نے بدن کی ساری قوت یکجا رکرکے پی لیا۔ سسکیاں پینے میں کتنی اذیت اور کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ آہ! میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو اس کیفیت کا اظہار کرسکیں۔’’ماموں جان! ڈاکٹر نے کچھ امید دلائی ہے؟ میں سسک کر بولا۔
’’نہیں! ڈاکٹر نے اُن کی زندگی کی مدت چھ ماہ بتائی ہے۔‘‘
میں خود کلامی کرنے لگا۔ ڈاکٹر کوئی خدا نہیں ہے۔ زندگی اور موت تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ میں اس کے حضور میں گڑگڑاؤں گا۔ اپنی نیکیوں کے عوض والد صاحب کی صحت مانگوں گا۔ اللہ میری ضرور سنے گا۔ یا سمیع یا بصیر یا قدیر…میں اللہ کے صفاتی ناموں کا ورد کرنے لگا۔ مجھے سکونِ قلب ملا، بہتے ہوئے آنسو تھم گئے۔ ذہنی، قلبی و روحانی سکون کے لیے کتنا مجرب عمل ہے ذکرِ الٰہی۔
کچھ دیرخاموشی کے بعد میں ماموں جان سے مخاطب ہوا: ’’ماموں جان! ایلوپیتھی ڈاکٹر نے اپنا فیصلہ سنادیا، یونانی، ہومیوپیتھی و آیوروید میں تو کوئی علاج ہوگا۔‘‘
’’ہاں، کیوں نہیں… کوشش کرنا اپنا فرض ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ماموں جان کمرے سے باہر نکلنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں بمشکل اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجاکر ان کے ہمراہ کمرے سے باہر نکلا۔ اپنے سچے جذبات کا جھوٹا اظہار کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ لوگ روپ بدل کر کیسےجی لیتے ہیں! میں سوچ رہا تھا۔
ہم ابا جی سے ملے، اُن کا پرعزم اوراطمینان سے بھرا چہرہ دیکھ کر میرے دل میں ناقابلِ برداشت ٹیس اٹھی’’کیا سچ مچ ابا جی صرف چھ ماتک ہی……‘‘
’’نہیں…. نہیں۔‘‘ میرا سارا وجود اندر ہی اندر لرز کر رہ گیا۔
میں اپنے اباجی کی موت کے تصور سے کیسے پیچھا چھڑاؤں، میرے ذہن کے دریچوں کے پٹ میرے بس میں نہیں کہ انہیں بند کرلوں، میں من چاہی زندگی گزارنے والا انسان اپنے وجود میں کتنا مجبور اور بے بس ہوں۔ یہ مجبوری و لاچاری میرے وجود کا سب سے بڑا المیہ ہے حالانکہ میرا وجود، جس میں میں خود رہ رہا ہوں، اس سے بہتر وجود کا میرے پاس تصور نہیں۔
ابا جی نے ماموں جان سے رپورٹ مانگی۔ ماموں جان نے بہانہ کیا۔ جانے کیوں ابا جی بضد نہیں ہوئے۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔
ماموں جان نے کہا : ’’رپورٹ میں کوئی خاص بات نہیں بھائی جان! ہاں آپ کے مرض کا علاج ایلوپیتھی میں نہیں۔ ہومیوپیتھی میں ہے اس کی میں نے انکوائری کرلی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، علاج تو بس علاج ہی ہوتا ہے کسی بھی پیتھی میں کیا جائے۔‘‘ والد صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
۰۰۰
دوسرے دن میں ابا جی کو ناگپور سے واپس اپنے گاؤں لے آیا۔ کھولا پور میں ہومیوپیتھی کا ایک بزرگ تجربہ کار ڈاکٹر تھا۔ میں نے اسے ابا جی کے مرض کی جانچ رپورٹ دکھائی اس نے یقین سے تو نہیں کہا، ہاں امید ضرور دلائی۔ امید جس سے زندگی وابستہ ہے۔ امید جس سے حوصلہ ملتا ہے اور عمل کرنے کی قوت بھی۔
ہومیوپیتھی سے ابا جی کا علاج شروع ہوا۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق دوائیں دی جانے لگیں۔ پرہیزبھی کروایا گیا۔ تاہم ابا جی کی صحت دن بہ دن گرتی رہی۔ گھر کے سارےافراد ان کی صحت و تندرستی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ امی رات دن اللہ کے حضور میں گڑگڑاتی رہیں۔ گاؤں کی مساجد میں ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں ہوتی رہیں اور ابا جی ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ’’میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ یا اللہ! جب میں تجھے اپنا منہ دکھانے کے لائق ہوجاؤں تب مجھے اپنے پاس بلالینا!‘‘ یہ کہہ کر وہ ہم سے مخاطب ہوئے ’’میری اس دعا پر تم سب آمین کہو۔‘‘
گھر کے تمام افراد کے ساتھ میرے لب بھی ہل جاتے مگر نہ جانے کیوں میں اُن کی اس دعا پرآمین نہیں کہہ پایا۔ ابا جی ہمارے سلے لبوں کو دیکھ کر مسکرائے۔ جانے اُن کی مسکراہٹ میں کیا بات تھی کہ ہماری گردنیں جھک گئیں۔
ایک رات ابا جی کو بہت تیز بخار چڑھا۔ وہ عالم بے چینی میں کروٹیں بدلنے لگے۔ کروٹ کروٹ، درود شریف، استغفار اور کلمۂ توحید کا ورد کرتے رہے۔
میں نے ڈاکٹر کو بلالیا۔ ڈاکٹر نے انہیں انجکشن لگایا، انجکشن نیند کا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی ان پر غنودگی طاری ہوگئی۔
30 اپریل 1991 ء بروز منگل علی الصبح ابا جی بیدار ہوئے۔ تیمم کرکے بستر پر ہی لیٹے لیٹے اشاروں سے نمازِ فجر ادا کی اس کے بعد ان پر پھر غنودگی طاری ہوگئی۔ کچھ دیر تک وہ عالم غنودگی میں پڑے رہے پھر قبلہ کی طرف کروٹ کرلی۔ اس کے بعد چت لیٹ گئے اور با آواز بلند کلمۂ توحید لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پڑھا۔ گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجا رہی تھیں اور ان کی روح پرواز کرگئ۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا، ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ کیسا فانی ہوتا ہے دنیا میں جسم اور روح کا رشتہ!
سب دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ میرا ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ گیا۔ آنسوؤں کا سیلاب میری آنکھو ںسے بہنے لگا۔
ابا جی کے انتقال کی خبر سوکھے جنگل کی آگ کی طرح گاؤں اور گاؤں کے اطراف کے علاقے میں پھیل گئی۔ بہت سارے لوگ ہمارے گھر آئے جن میں ایک ابا جی کا نہایت قریبی دوست بھی تھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا مجھے تسلی دی۔ ’’بیٹا! تمہارے ابا جان نہایت صبر و برداشت کرنے والے انسان تھے۔ انھوںنے مجھ سے کہا تھا: صحت و تندرستی، بیماری اور قوت سب خدا کے اختیار میں ہے۔ میں اپنی بیماری کا واویلا کرکے اپنے اہل و عیال کو پریشان کیوں کروں۔ وہ جانتے تھے کہ انہیں جگر کا سرطان ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔‘‘
یہ سن کر یکلخت مجھ پر بجلیاں گر پڑیں۔ موت کو پاس دیکھ کر بھی ابا جی کس طرح مسکرا کر جیتے رہے۔
میں اب خاموش آنسو بہاتے ہوئے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو تسلی دے رہا تھا۔ ’ابا جی کی موت ایمان پر ہوئی، ہماری موت کا کیا بھروسہ، کس حالت میں ہوگی!‘‘

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست 2023

شمارہ پڑھیں