غزل

احمد نثار

میری آنکھوں کا اُجالا بھی وہی تھا

میرے اندر جلنے والا بھی وہی تھا

اس کی ہی توفیق سے مہتاب تھا میں

میرے گرد و پیش ہالہ بھی وہی تھا

سب سے گھل ملنے کی عادت بھی تھی اس میں

ساری دنیا سے نرالا بھی وہی تھا

عابد و معبود کا وہ تھا تسلسل

اپنے اندر اک شوالہ بھی وہی تھا

خاک کی تہہ میں جب اترا وہ تو جانا

میری شہرت کا حوالہ بھی وہی تھا

مسئلوں سے تھا وہی سینہ سپر بھی

وحشی لمحوں کا نوالہ بھی وہی تھا

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست 2023

شمارہ پڑھیں