غزل

ایو ب بیگ دانش

کوتاہ قدوں سے ہاتھ ملاتے چلے گئے

قد گھٹ گیا تھا سربھی جھکاتے چلے گئے

پیکر حسین اُن کا غزل میں نہ لاسکے

لکھ لکھ کے بار بار مٹاتے چلے گئے

جل جل کے مر رہا ہے وہ بدلے کی آگ میں

جو کچھ ہوا وہ ہم تو بھلا تے چلے گئے

کڑوا کلام جب بھی قلم سے نکل گیا

میٹھا بنا کہ لہجہ سناتے چلے گئے

کیا کہہ رہے تھے؟کیا وہ کبھی پھر نہ آئیں گے

مہمان گھر سے ہاتھ ہلاتے چلے گئے

دولت نے بھائی بھائی کو دشمن بنا دیا

اک دوسرے کا خون بہاتے چلے گئے

معلوم تھا کہ ناگ کی فطرت ہے کیا ہمیں

پھر بھی ہم اُس کو دودھ پلاتے چلے گئے

دانش ؔ یہ اتفاق یوں ہر بار کیوں ہوا؟

جب بھی ملے نقاب اٹھاتے چلے گئے

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146