قربانی کے سلسلے میں غلط روِش

سید مجاہد محمود

دس ذی الحجہ کو دنیا بھر کے مسلمان قربانی کی صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم یادگار کو تازہ کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی رب اور بندے کے تعلق کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل عزیز نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اسے تو تقویٰ (اسپرٹ) پہنچتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ سنت قربانی بھی امارت کے اظہار کا ذریعہ بن گئی۔ اخبارات میں خبریں اور تصاویر شائع ہوتی ہیں کہ فلاں آدمی نے اتنی قیمت کے بکرے کی قربانی کی، پھر اخبارات میں جانوروں، ان کی انتہائی اونچی قیمت اور پھر خریداروں کی تصویریں شائع ہوتی ہیں۔ بکروں اور بیلوں کی قیمتوں کے تذکرے ہوتے ہیں یہ سب قربانی کی روح کے خلاف ہے۔ میں ایک صاحب کو جانتا ہوں، وہ کہنے لگے کہ میں جس قیمت کے جانور لاتا ہوں علاقے میں میرے مقابلے میں کوئی ایسا جانور نہیں لاتا۔

قربانی ایک مقدس فریضہ ہے جو ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے۔ ہمارے ہاں کچھ ایسے مغرب زدہ افراد بھی ہیں،جن کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں اس کے باوجود وہ بقرعید کے دن کو بھی ایک عام دن کی طرح گزار دیتے ہیں۔ حالاں کہ یہ مسلمانوں کا ملی شعار ہے۔ ایک اچھے تندرست جانور کو ذبح کرنا، پھر اسے خود بھی کھانا اور اعزہ و اقربا اور مساکین کو بھی کھلانا نہ صرف قربانی کا جذبہ پیدا کرتا بلکہ مہمان نوازی اور فیاضی کی روایت کو بھی قائم و استوار کرتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں آج بہت سے نو دولتیوں کے طور و طریق سے جو نمائشِ بے جا، بسیار خوری، ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے، اس نے قربانی کے ادارے کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ مہنگی سے مہنگی قیمت کے جانور خریدے جا رہے ہیں اور اس پر مزید خرابی یہ کہ انہیں پھول، پتیوں اور زیورات سے مزین کیا جا رہا ہے۔ انہیں گلی گلی لے کر پھرا جاتا ہے۔ گویا قربانی نہ ہوئی اپنی دولت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہوگیا۔ اب اس پر مزید خرابی یہ ہو رہی ہے کہ قربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کے بجائے، جمع کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں کہ سالم جانور سرد نعمت خانے (ریفریجریٹر) اوریخ خانے (ڈیپ فریزر) کی نذر کردیے جائیں، خود بھی بسیار خوری کی جائے اور پیٹ بھروں کے پیٹ بھرے جائیں۔ ہمارے ہاں بقر عید پر موسم بہت شدید ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری رہتی ہے۔ ایسے میں ان سرد نعمت خانوں میں رکھے ہوئے گوشت کی کیفیت کس طرح صحیح رہ سکتی ہے! اب یہ گوشت کھاکر آدمی بیمار نہیں ہوگا تو کیا ہوگا…!

اس موقع پر مجھے سیرت پاک میں پڑھا ہوا ایک واقعہ یاد آگیا۔ نبی مہربانﷺ مدینہ منورہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے، آپؐ نے دیکھا ایک صحابی بکری ذبح کر رہے ہیں۔ ان سے سلام دعا کے بعد آپؐ آگے تشریف لے گئے۔ واپسی پر پھر ان صحابی سے ملاقات ہوئی۔ آپؐ نے صحابی سے پوچھا کہ گوشت کا کیا کیا؟ صحابی نے فرمایا: سارا گوشت بانٹ دیا، بس یہ ران بچی ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں، بچا تو وہ جو تم نے بانٹ دیا۔

دوسری طرف ہم اپنا جائزہ لیں کہ قربانی کے اصل فلسفہ اور مقصد کو بھول گئے ہیں۔ نہ ہی قربانی کا گوشت شریعت کے حکم کے مطابق تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جس میں سے ایک حصہ غربا اور مساکین کا، دوسرا اعزہ و اقربا کا، اور تیسرا اپنے گھر کے استعمال کا، اب تو سارا گوشت ڈیپ فریزر میں جمع کرلیتے ہیں اور پھر مہینوں اس کو استعمال کرتے اور بیماریوں کو فروغ دیتے ہیں۔ قربانی کے سلسلے میں یہ دکھاوے کے روش اور قربانی کے گوشت کے سلسلے میں یہ اکل خوراپن پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو تقویٰ اور غریبوں و حق داروں کوکھلانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔lll

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست 2023

شمارہ پڑھیں