اسبغول کو انگریزی میں Ispagolaکہتے ہیں۔ لاطینی زبان میں Plantagoovata کہا جاتا ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے لمبوترے بیج شام، مصر، ایران، عراق، پاکستان اور ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس کا مزاج سرد اور تر ہے۔ ان دانوں کے اوپر سے باریک چھلا علیحدہ کردیا جاتا ہے جسے اسبغول کی بھوسی کہتے ہیں۔ یہ بھی لعاب دار ہوتا ہے۔ تخم اور بھوسی دونوں بطور دوا استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس میں روغنی مادے موجود ہیں۔ اسی لیے ہندوپاک میں اعضائے بند کی خشکی اور گرمی دور کرنے، غذائیت اور نرمی پیدا کرنے کی یہ انمول دوا تصور کی جاتی ہے۔ اس کے استعمال سے آنتوں اور اعصاب کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔ قدرتی لچک برقرار رکھنے میں اسبغول خاص کام انجام دیتی ہے۔ آنتوں کی جلن، خراش اور دائمی قبض کے علاج کے لیے کوئی دوا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یونانی حکیموں نے صدیوں کی تحقیق کے بعد اسے ایک گھریلو عام اور فائدہ مند دوا بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت دودھ، دہی، لسی یا شکر کے شربت کے ساتھ ان گنت لوگ اسبغول کا ناشتہ کرکے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ثابت اسبغول کوٹ کر یا چبا کر نہیں کھانا چاہیے۔ اس سے نقصان ہوتا ہے۔ اسبغول کا لعاب نکال کر پینا چاہیے۔ اس سے تیز بخاروں میں بخار کی گرمی اور حدت، پیاس کم ہوجاتی ہے۔ پیچش کے لیے یہ خاص طور پر مفید ہے۔ اگر آپ پیچش کے لیے ثابت اسبغول ۱۰ گرام لے کر آدھ پاؤ دہی میں اچھی طرح ملا کر رکھ دیں اور گھڑی دیکھ کر پورے ایک گھنٹے بعد کھالیں۔ غذا میں صرف مونگ کی دال کی کھچڑی استعمال کریں تو تین روز میں پیچش ٹھیک ہوجائے گی۔
بہت پرانا قبض ہو تو ۱۰ گرام ثابت اسبغول ایک پاؤ دودھ کے ساتھ پھانکئے، چبائیے مت۔ آپ کو ثابت اسبغول پھانکنا مشکل لگے تو چار گرام اسبغول کی بھوسی دودھ یا پانی کے ساتھ کھائیے۔ کچھ لوگ ایک چائے کے چمچ سے لے کر تین چار چمچ بھوسی دودھ یا دہی کے ساتھ کھالیتے ہیں۔ پرانے طبیب غذا کی نالی میں خراش جلن اور زخموں کے لیے صبح ایک تولہ سے تین تولے تک حسبِ برداشت مریض ایک گلاس یا ڈیڑھ گلاس نیم گرم دودھ کے ساتھ چار پانچ روز کھلاتے ہیں۔
منہ پک جائے تو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ بولنے اور کھانے پینے سے دشواری ہوتی ہے۔ ایک تولہ اسبغول کے بیج آدھ کلو پانی میں ہلکا سا جوش دے کر رکھ لیجیے۔ دن میں دو تین بار غرارے کیجیے، دو تین دن میں آرام ہوجائے گا۔ خشک خانسی اور دمے کے لیے اسبغول مفید ہے۔ روزانہ ۱۰ گرام اسبغول پانی یا دودھ کے ساتھ پھانکنے سے آرام آجاتا ہے۔
آج کل بازار کے کھانوں کا بہت رواج ہے۔ طرح طرح کے روسٹ، بروسٹ، چکن کڑاہی، چکن تکہ، مچھلی اور مزید اس قسم کے روغنی اور مسالے دار کھانے تناول کرنے سے آنتوں میں خراش ہوجاتی ہے۔ خاص کر تیز مرچ مسالے آنتوں پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ ہاضمہ خراب اور دست آکر پیچش ہوجاتی ہے جو خونی پیچش کی شکل اختیار کرجاتی ہے، جو خاصی پریشانی کا باعث ہے۔ ایسی حالت میں روٹی، گوشت، مرچ مسالے کا استعمال بالکل بند کردینا چاہیے۔ اسبغول سوا تولہ سے استعمال شروع کرنا چاہیے۔ دودھ یا دہی کے ساتھ اس کی مقدار بڑھاتے جائیں ایک دو دن میں نمایاں فرق محسوس ہوگا۔ آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ تقریباً ایک چھٹانک اسبغول اور آدھ کلو دودھ یا دہی کھانے سے جسم کو پوری غذا کی توانائی ملتی ہے۔
آج کل لوگوں کی اکثریت فضاء میں گردوغبار، پٹرول کی دھویں اور سگریٹ پینے کی وجہ سے الرجی کا شکار ہے۔ یہ الرجی دمہ میں نظر آتی ہے۔ ایسے میں بھی اسبغول کا استعمال کسی اچھے حکیم کی نگرانی میں کرنے سے تکلیف میں نمایاں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔ روزانہ اسبغول کھانے سے یہ تکلیف دور ہوجاتی ہے۔
گیس اور تبخیر معدہ کا مرض عام ہوچکا ہے۔ سیون اپ اور پیپسی کولا پی جاتی ہے اس کے ساتھ گیس سے نجات کے لیے مختلف گولیاں اور دوائیاں لی جاتی ہیں۔ گیس کے ساتھ سر درد رہے، زبان خشک ہو، اعصاب کا تناؤ کوئی کام نہ کرنے دے۔ طبیعت کا بوجھل پن چڑچڑا کردے۔ قبض رہنے لگے تو صبح کے وقت دو سے چار چمچ اسبغول کی بھوسی شربت یا دودھ کے ساتھ پھانکنے سے فرق پڑتا ہے۔ غذا میں تازہ سبزیاں اور پھل شامل کرنے سے اور صبح شام سیر کرنے سے طبیعت بحال رہتی ہے۔
گرمی کے موسم میں سر درد تنگ کرے تو اسبغول کو ہرے دھنئے کے پانی میں تھوڑی دیر کے لیے بھگو دیجیے۔ پھر اسے پیشانی پر لگائیے، سر کا درد دور ہوجائے گا۔ اسی طرح گرمی میں بعض دفعہ خون میں حدت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسبغول خون کے جوش کو اعتدال پر لاتا ہے۔ اسی طرح گرمی اور پیاس کے لیے اسبغول بہت اچھی دوا ہے۔ پانی میں بھگو کر شکر یا شربت ملا کر پینے سے پیاس دور ہوجاتی ہے۔ پیٹ کے مروڑ اور آنتوں کے زخموں کے لیے گھریلو طور پر یہ صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ بزرگ خواتین اس کی افادیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ وہ گھر میں اسبغول اور اس کی بھوسی رکھتیں جب کسی کے مروڑ ہوتا فوراً کھلا دیتیں اس طرح مرض بڑھنے نہیں پاتا تھا۔ وہ جوڑوں کے درد میں اسبغول، سرکہ اور روغن گل کے ساتھ لیپ کراتیں۔ اسبغول ہر قسم کے ورم کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ثابت اسبغول غلطی سے کوٹ کر یا چبا کر کھالیا جائے تو زہریلا اثر کرتا ہے۔ ایسے میں فوراً قے کرانی چاہیے تاکہ فاسد مادہ باہر نکل جائے اور جسم کو نقصان نہ ہو۔
بعض دفعہ انگلی میں بسہری ہوجاتی ہے۔ اسے انگلی بیڑا یا چندری کہتے ہیں یہ انگلی کی پور میں ناخن کی جڑ میں ہوتا ہے۔ اور اس سے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ سارا بازو درد کرتا ہے۔ اس کا درد آسانی سے ختم نہیں ہوتا۔ اس موذی تکلیف کے لیے اسبغول بڑی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ دو چمچ ثابت اسبغول لے کر پانی میں بھگودیجیے۔ ۱۰ منٹ بعد بھیگی ہوئی اسبغول کو ماؤف انگلی پر لیپ کی طرح چڑھا دیجیے۔ اچھی موٹی تہہ چڑھائیے۔ کچھ خواتین باریک ململ کی تھیلی سی کر اس پر چڑھا دیتی ہیں۔ اب اس پر پانی ٹپکاتے رہیے، اگر تھیلی چڑھائی ہو تو پانی کے پیالے میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد انگلی بھگوتے رہیے تاکہ گیلی رہے۔ چھ سات گھنٹے بعد دوسرا اسبغول بھگو کر انگلی پر لیپ کیجیے۔ چوبیس گھنٹے میں تین چار بار ایسا کرنے سے ورم پک کر پھوٹ جائے گا۔ اب اس پر آپ کوئی مرہم لگائیے ٹھیک ہوجائے گا۔
اسبغول کی پلٹس پھوڑوں اور ورم کو پکادیتی ہے۔ اسبغول گلے کے غدود کا ورم جسے کنٹھ مالا کہتے ہیں اس ورم کو بھی لیپ سے گھلا دیتا ہے۔ بواسیری خون کو روکتا ہے آنتوں کی جلن دور کرتا ہے۔
کچھ لوگوں کے بال بہت سخت ہوتے ہیں۔ اسبغول بھگو کر اس کا لعاب نکال کر کچھ عرصہ بالوں پر لگانے سے نرم ہوجاتے ہیں۔ لڑکے اور لڑکیوں کے بال اوائل عمر میں گرنے لگتے ہیں۔ بال کمزور ہوجاتے ہیں بالوں کی دو نوکیں نکل آتی ہیں۔ بالوں میں چمک نہیں رہتی۔ سیاہی کے بجائے پھورا پن آجاتا ہے۔ ایسی صورت میں دو تولہ اسبغول ثابت لے کر اسے ایک گلاس پانی میں بھگودیجیے پھر ہاتھ سے ایک گھنٹے کے بعد خوب مل مل کر اس کا لعاب نکالیے۔ اب اس پانی کو چھان کر بالوں کی جڑوں میں لعاب کی مالش کیجیے۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد بال دھو لیجیے۔ ڈیڑھ دو ماہ یہ عمل کیجیے۔ اس کے ساتھ آپ گیارہ بادام، ایک چمچ چھوٹا چہار مغز، سات دانے منقّہ کے بیچ نکال کر سردائی بنا کر پیجئے۔ جن کا مزاج بلغی ہو، ہاضمہ خراب رہتا ہو اور پیٹ میں گیس کثرت سے پیدا ہوتی ہو، ان کو چاہیے اسبغول استعمال نہ کریں۔ ان کو یہ نقصان دے گا۔
قبض دور کرنے کے لیے اسبغول کی بھوسی دو سے چار چمچ دودھ یا پانی کے ساتھ کھائیے۔ اسبغول کی صاف ستھری بھوسی بازار میں کسی پنساری کی دکان سے آسانی سے مل جاتی ہے۔ خواتین کو چاہیے گھر میں ضرور اسبغول کی بھوسی رکھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔
پرانی اسبغول کی بھوسی کا رنگ مٹیالہ ہوجاتا ہے جب بھی آپ خریدی دیکھ کر لیجیے۔ پیکٹ میں آپ کو صاف ستھری مل جائے گی۔ پیچش کے لیے آپ بھوسی کو دہی میں ملا کر کھائیے۔ دہی ڈبہ کا ہو تو بہتر رہے گا کیونکہ بعض دفعہ کونڈے کا دہی صاف ستھرا نہیں ہوتا۔ اس سے نقصان ہوجاتا ہے۔
چھوٹے بچوں کو آپ اسبغول کی کھیر بنا کر دے سکتی ہیں۔ آدھا کپ دودھ گرم کرکے اس میں ایک چمچ چینی ملا دیجیے اور نیچے اتارلیجیے۔ آپ کسی پلیٹ میں ایک چائے کی چمچ اسبغول کی بھوسی ڈالیے اور اس میں دودھ ملا کر اچھی طرح چمچ سے ملا کر رکھ دیجیے۔ تھوڑی دیر میں کھیر کی طرح جم جائے گی اور بچے شوق سے کھالیں گے۔