اطاعت رسول ﷺ

ساجدہ فرزانہ صادق

اللہ تبارک و تعالیٰ کایہ بے پایاں شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے امتی ہونے کا شرف عطا فرمایا۔ حضرت محمد ﷺ خاتم النبین ہیں آپؐ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے وہ آخری اور مکمل تعلیم و ہدایت نامہ بھیجا جو رہتی دنیا تک کے لیے مکمل رہنما ہے۔ اب اس سرزمین پر خدا کی اطاعت کا ایک ہی ذریعہ اور طریقہ ہے کہ اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ آپؐ کی لائی ہوئی شریعت اور ہدایت نامہ کی اتباع کی جائے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ : ’’اے محمدؐ ! کہو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی پر، جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے اور پیروی اختیار کرو اس کی، امید ہے کہ تم راہ راست پالو گے۔‘‘ (الاعراف: ۱۵۸)
اس آیت میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ فلاح اور ہدایت صرف انھی لوگوں کے لیے ہے جو خدا اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے کے ساتھ محمد ﷺ پر بھی ایمان اور آپؐ کی پیروی کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ جب تک انسان خدا اور رسولؐ سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہ کرے اس کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ اور خدا سے محبت اور خدا پر ایمان کا دعویٰ بالکل بے معنی ہے اگر زندگی رسول کریم ﷺ کی پیروی اور اتباع سنت سے آزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ بات صاف صاف کہلوائی ہے۔
’’اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، خدا بھی تم کو محبوب رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘ (آل عمران:۳۱)
پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس امر کی بھی وضاحت فرمادی کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت خوشدلی اور محبت کے ساتھ ہو اور اس کے احکام کی بجا آوری میں ہی انسان کو راحت ہو۔ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:
’’پس نہیں تمہارے رب کی قسم! (اے محمدؐ) وہ مومن نہیں ہوسکتے ہیں جب تک کہ ان تمام جھگڑوں میں جو ان کے درمیان واقع ہو ں تم کو حکم نہ بنائیں اور پھر تمہارے فیصلے سے اپنے دلوں کے اندر کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ (تمہارے فیصلے کو) سربسر تسلیم کرلیں۔‘‘ (النساء: ۶۵)
دوسری جگہ فرمایا: ’’اور مسلمانوں کا قول جب اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے یہ ہے کہ (خوشی خوشی) کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (النور: ۵۱)
جو شخص ایمان کا دعویدار ہے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کا دم بھرتا ہے اس کے دعوے کی صداقت کا سارا دارومدار اسی بات پر ہے کہ وہ احکام الٰہی اور احکام رسولؐ کی سچے دل کے ساتھ پیروی کرے۔
اللہ تعالیٰ سورئہ احزاب میں فرماتا ہے: ’’اور کسی مومن یا مومنہ کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کارسولؐ کسی امر کا حکم دیں تو پھر ان کو اپنے (اس) امر میں کوئی اختیار باقی رہ جائے۔‘‘ (آیت ۳۶)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ نے زندگی کے جن معاملات سے متعلق اپنے احکام صادر فرمادئے ہیں ان میں اہل ایمان کوئی من مانی کارروائی نہیں کرسکتے۔ ان سب معاملات میں انھیں احکام الٰہی اور ارشادات رسولؐ کی پیروی کرنی ہی ہے۔ اور یہی طرز عمل اختیار کرکے وہ مومن و مسلم کہلانے کے مستحق ہوسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔‘‘ (محمد: ۳۳)
سورئہ حشر میں فرمایا: ’’جو تم کو رسولؐ نے دیا اس کو پکڑلو اور جس سے تم کو روکا اس سے باز رہو۔‘‘ (الحشر: ۷)
اللہ و رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کا حشر انبیاء صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ اللہ رب العالمین فرماتا ہے :’’ اور جو خدا اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء صدیقین، شہدا اور صالحین اور اچھے ساتھی ہیں یہ لوگ۔‘‘ (النساء)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ارادے اور خواہشات اس شریعت کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔‘‘ (مشکوٰۃ)
ایمان کی صحیح کیفیت یہی ہے کہ آدمی کی خواہشات، اس کے میلانات اور اس کے ارادے و رجحانات سب کچھ اس ہدایت کے تابع ہوجائیں جسے لے کر اللہ کے رسول ؐ دنیا میںمبعوث ہوئے۔ جس نے اس ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفس کی اتباع کی وہ صحیح راستہ سے بھٹک گیا۔
سرور کونین ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے محمدؐ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمدؐ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی(اللہ کے ماننے اور نہ ماننے والے) لوگوں کے درمیان محمدؐ ہی نشان امتیاز ہیں۔‘‘ (بخاری)
ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے فرمایا:’’میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے مگر وہ جنت سے محروم رہیں گے جنھوں نے انکار کیا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔‘‘ (بخاری)
عملی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی دانستہ نافرمانی کرنا اور آپؐ کے اتباع سے گریز کرنا فی الحقیقت آپؐ کا انکار کرنا ہے اور رسول ؐ کے نافرمان اور منکر کا ٹھکانہ جنت نہیں، جہنم ہے۔ جو لوگ زبان سے محبت رسول و عشق رسولﷺ کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اسوئہ رسولؐ کی پیروی نہیں کرتے، من چاہی زندگی بسر کرتے ہیں، اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، جو کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کے رسول ؐ نے ہمیں کیسی زندگی گزارنے کی تاکید فرمائی ہے، کیا اخلاق و کردار اپنانے کا حکم دیا ہے، کن کن کاموں کو کرنے اور کن کو نہ کرنے کا حکم دیا ہے، خوشی و غم میں کیسا رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، شادی بیاہ کے لیے اللہ کے رسولؐ نے کیا ہدایات دی ہیں! ان تمام مسلمانوں کو یہ حدیث پڑھ کر لرز جانا چاہیے اور اپنا جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ کہیں دانستہ یا نادانستہ طور پر ہم سے اپنے پیارے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے میں کوتاہی تو نہیں ہورہی ہے۔ اگر ہماری زندگی اطاعت رسولؐ میں بسر ہورہی ہے تو ہم سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی ہمیں حاصل ہوگی اور ہم جنت کے حقدار بنیں گے۔ لیکن اگر خدانخواستہ ہماری زندگی خدا و رسولؐ کی اطاعت سے خالی اور نفسانی خواہشات اور شیطان کی پیروی میں گزررہی ہے تو پھر ہم سے زیادہ بدنصیب کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ آخرت میں ہمارے لیے ذلت کامقام ہوگا۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146