’’ہاں یار… تمہیں پسند ہے یہ شرٹ تو تم رکھ لو!‘‘ منیب نے فیصلہ کن لہجے میں آصف سے کہا۔ آصف کھسیا گیا۔ ’’بھائی میاں! میںنے تو یوں ہی رسماً تعریف کی تھی تمہاری نئی شرٹ کی۔ اس قدر مہنگی ہے،کم از کم ایک مرتبہ تو تم پہن ہی لیتے، یہ کیا کہ حاتم طائی کی قبر پر فوراً ہی لات مار دی۔ پہن لو میاں، پہن لو۔‘‘ اسے ہر طرح سے رام کرنے کی کوشش کی مگر منیب کی ایک ہی رٹ تھی کہ شرٹ اگر تمہیں پسند ہے تو میری طرف سے یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔
مجبور ہوکر آصف نے وہ نئی شرٹ رکھی لی۔ کچھ دیر بعد آصف مینگو شیک پی کر اور نئی شرٹ کا تحفہ پاکر خوشی کی ہواؤں میں اڑتا گھر کو واپس جارہا تھا۔ اسے اپنے دوست منیب پر فخر تھا۔ دیگر دوستوں میں بھی وہ منیب کے تذکرے بڑی شان سے کرتا تھا۔ کچھ مہینوں بعد اس روز آصف صبح سویرے ہی سے خود کو کسی سلطنت کا شہزادہ محسوس کررہا تھا۔ اس نے ایک ماہ پہلے ہی اپنی سالگرہ کے تمام انتظامات کا ناقدانہ جائزہ لینا شروع کردیا۔ مہمانوں کی فہرست از سر نو ترتیب دی۔ آصف نے منیب کو دوستوں کی فہرست میں سر فہرست رکھا تھا۔
منیب رات کا کھانا کھا کر اٹھا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی ٹرا اٹھی۔
’’ہیلو… ہاں جناب۔‘‘ دوسری جانب کی آواز سنتے ہی منیب چہکا۔ وہ آصف کوپہچان چکا تھا۔
’’ہیلو … مائی ڈیئر منیب… حبیب لبیب… ۲۴؍اکتوبر میرا برتھ ڈے ہے جو شاندار طریقے سے سیلی بریٹ کیا جارہا ہے۔ آنے کی تیاریاں شروع کردو۔ بھائی میاں! ابھی سے ۔ جودھ پوری سوٹ تم پر بہت جچے گا۔ سارے دوست وہی تو…‘‘
’’فارگاڈسیک آصف یار… اب ہم کالج اسٹوڈینٹ ہیں اور تم ابھی تک ریسیپشن کے بچوں کی طرح سال گرہیں منا مناکر اور افشاں بھرے غبارے پھوڑ پھوڑ کر خوش ہو۔ کم آن یار، یہ آئی ٹی کا دور ہے، دنیا کہاں سے کہا ںپہنچ گئی اور تم ابھی تک چار پانچ یادیں بارہ پاؤنڈ کے کیک پر جراثیموں بھری موم بتیاں روشن کرکے کسی اناڑی قصائی کی طرح اس کے حصے بخرے کرنے اور اپنی زندگی کا ایک سال کم ہوجانے پر قہقہے لگاتے ہو۔ کیوں اپنی اور میری روشن خیالی کے در پے ہو۔‘‘
’’کک …کک کیا کہہ رہے ہو منیب؟‘‘ آصف ہکابکا رہ گیا۔ وہ پریشان کھڑا تھا۔ اس کی پیشانی عرق آلود تھی۔ اس کی تابناک سوچوں کے محل کو منیب نے ایک ثانیے میں زمیں بوس کردیا تھا۔ وہ توکچھ اور ہی آس لگائے بیٹھا تھا۔ کاش منیب اصلاح کے لیے یہ لیکچرانہ انداز نہ اپناتا۔ کاش وہ جگری دوست کا یہ روپ نہ دیکھ پاتا۔
’’ہیلو یار آصف … برا مت ماننا۔ میں ذرا کھلے دل و دماغ کا بندہ ہوں۔ اس لیے تمہارے منہ پر کہہ دیا۔ اچھا تمہارا تحفہ تم تک پہنچ جائے گا۔ اوکے بائے۔ میں نہیں آسکوں گا۔ بڑا ’’بیزی‘‘ ہوں۔ اس وقت بھی پی سی پرمیل چیک کرنے جارہا ہوں۔ مجھے ڈسٹرب نہ کرنا، اوکے جان!‘‘
آصف کسی بت کی طرح ریسیور کو ایسے گھور رہا تھا جیسے یہ مکالمے اس کے عزیز از جان دوست نے ادا نہ کیے ہوں بلکہ ٹیلی فون ریسیور کی کارستانی ہو۔ گیارہ ماہ ہوئے تھے اس کی اور منیب کی دوستی کو۔ مگر آج؟ آج منیب نے اس کا مان توڑ دیا تھا۔ بڑی بری طرح اس کے احساسات کو اپنے لیکچر کے بٹے مار مار کر کچل دیا۔ آصف سسک اٹھا اور ریسیور کریڈل پر پٹخ دیا۔
…٭…
’’منیب بیٹا… ذرا چھوٹے بھائی کا میتھس (Maths) دیکھ لو۔ مجھے یہ نیا حساب آتا نہیں ہے۔ حسیب صبح سے پریشان پھر رہا ہے۔ میں اس کے لیے کوئی ٹیوشن رکھنے کی کوشش کررہی ہوں۔‘‘
’’ارے، ارے … وہ کیوں امی؟‘‘
’’ٹیوشن تو وہ پڑھا کرتے ہیں جن کے گھروں میںکوئی پڑھا لکھا نہ ہو۔ بھلا حساب، ریاضی، فزکس، کیمسٹری آپ کے بیٹے سے کوئی ڈھکے چھپے ہیں؟ کیوں ابو جان کا پیسہ ضائع کرنے کی سوچ رہی ہیں آپ… ادھر آؤ حسیب۔‘‘ منیب نے چھوٹے بھائی کو پکارا۔ لہجے میں شفقت اور پیار ٹھاٹھیں مار رہے تھے۔ ماں نے سرشار چہرے کے ساتھ اپنے بیٹے پر ستائشی نگاہ ڈالی اور کہا ’’میرا بیٹا تو علم کا سمندر ہے۔ واقع کیا ضرورت ہے مجھے کسی اور کا محتاج ہونے کی؟‘‘
حسیب کو اس نے ایسے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ اس کا چہرہ بڑے بھائی کے احسان کے آگے ممنونیت کے چراغوں سے چمک اٹھا۔
’’بھائی… ایٹ پوائنٹ ٹو کے سارے سوال حل کرکے دکھلا دو۔ باقی بعد میں کرتے رہنا۔ مجھے اسائنمنٹ تیار کرنی ہے ایک!‘‘ منیب نے کہا۔
’’اچھا بھائی جی!‘‘
حساب اللہ جانے کس کل کا علم ہے کہ اگر پہلا ہاتھ ہی غلط پڑجائے تو کایا ہی پلٹ جایا کرتی ہے۔ یہی حسیب کے ساتھ ہوا۔ سوال غلط حل ہوگیا ۔ منیب کا چہرہ مارے غصے کے تمتما اٹھا۔
’’یہ صلہ دیا ہے تم نے میری محنت کا!‘‘ اس کے بارود کے ڈھیر میں پہلی چنگاری چمکی۔
’’سوری بھائی!‘‘ حسیب شرمندگی سے بولا۔
’’سوری … کالر پر پڑی گرد ہے برخوردار … جب دل چاہا جھاڑ دی۔پتا چلتا جب ہزار روپے کسی ٹٹ پونجیے ٹیوٹر کو دیتے۔ اس کی خوشامد الگ کرتے۔ مفت کا مال تھا نہ میری تعلیم، اس لیے تم نے قدر نہ کی!‘‘ بارود کے ڈھیر میں باقاعدہ آگ بھڑک اٹھی۔
حسیب سسک اٹھا۔ ماں نے بڑے افسوس سے چہرے پر لہراتے دکھ کے ساتھ اپنے سمندر بیٹے کو دیکھا جو نہ معلوم کیوں کسی دریا، کسی کھالے کی مانند لگ رہا تھا۔
…٭…
’’ہاں … کیا ہوا وقاص … فیس کے لیے پیسے نہیں ہیں؟ چلو مجھ سے لے لو۔ جب انکل کو تنخواہ مل جائے تو ادا کردینا۔ جب تم پڑھ لکھ کر افسر بن جاؤ تو لوٹا دینا۔‘‘ منیب نے پریشان حال وقاص کے سامنے پانچ سو کے نوٹ لہرائے۔
’’رکھ لو… ابو کے نہیں۔ میری ٹیوشنز کی کمائی ہے۔‘‘
وقاص کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں۔ ’’لے لو بھائی… وہ دوست ہی کیا جو آڑے وقت میں کام نہ آئے؟ میں تمہارے گھر کے حالات جانتا ہوں۔ انکل پرائیویٹ جاب کے مسائل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اللہ خیر کرے گا۔ رکھ لو بھئی اس کو۔ کم ہیں تو اور لے لو۔‘‘
جواباً کچھ کہنے کے بجائے وقاص اس سے لپٹ گیا۔ ڈھیروں ڈھیر پیار کیا، ہاتھ چوم کر بولا ’’یار تو تو فرشتہ ہے۔ انسان کے روپ میں۔‘‘
’’توبہ کرو، میں عام سا آدمی ہوں۔ انسان ہونا تو بڑا درجہ ہے۔‘‘ منیب کے لہجے میں پوشیدہ انا اس کے لہجے کی چغلی کھا رہی تھی۔
’’نہیں یار تو وہ سمندر ہے جس میں اخلاص و مروت، اخلاق و محبت کے تمام دریا بڑے شوق سے گرتے ہیں۔‘‘ وقاص نے ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
نامساعد گھریلو حالات کی وجہ سے وقاص امتحانی فیس کا انتظام نہیںکرپا رہا تھا۔ ایسے میں منیب نے اس کی پریشانی سے آگاہ ہوکر رشتے داروں سے بڑھ کر اس کی مدد کرڈالی تھی۔
’’ہیلو… وقاص‘‘
’’اوہ… ہاں یار منیب… کہو کیا بات ہے؟‘‘
وقاص منیب کی آواز پہچان کر بولا۔
’’وقاص پڑھ رہے ہو نا۔‘‘ منیب نے پوچھا
’’ہاں یار تمہارا شکریہ کہ تم نے…۔‘‘
’’نہ نہ بھائی… میں نے اس لیے فون نہیں کیا تھا۔ میں تو یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ اندازہ تو کروں کہ میں نے ٹھیک دوست چنا ہے یا نہیں۔ یا تم بھی ان غریب لڑکوں میں سے ہو جو امیر گھرانوں کے لڑکوں سے جان بوجھ کر دوستی گانٹھتے ہیں اور انہیں اس دوست سے کم اور اس کے مال و دولت سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے۔ برا مت ماننا دوست، میں ذرا روشن خیال بندہ ہوں۔ میں نے سوچا کہ تم تو میرے لاجواب دوست ہو۔ ذرا پتا تو کروں کہ تم دوسرے کی تگڑی رقم خرچ کراکے پڑھ بھی رہے ہو یا پھر ادھر ادھر کنکوے اڑاتے پھر رہے ہو۔ دیکھونا … آج کل کے لڑکے تو اپنا پیسہ خرچ کرکے نہیں پڑھتے اور پھر تم پر تو بالکل غیر کا پیسہ لگا ہے نا، مبادا تم اسے ضائع کردو اور کسی مارواڑی کے سستے سے ہوٹل میں چائے پینے نکل جاؤ!‘‘
وقاص سن ہوکر رہ گیا۔
’’ہیلو… وقاص ہیلو…تم سن رہے ہونا؟‘‘
منیب نے زور سے پوچھا۔
’’ہاں‘‘ وقاص نے مری مری آواز میں کہا۔
’’منیب بھائی … میں ایسا لڑکا تو نہیں ہوں۔‘‘
’’ارے رہنے دو پیسہ دیکھ کر اچھے اچھوں کا ایمان ڈانواں ڈول ہوجاتا ہے۔ تم کہاں کی بات کررہے ہو یار۔‘‘ بارود بودینے لگا۔ وقاص کی آنکھوں میں آنسو آگئے، آواز رندھ گئی اور گلے میں حسرت و یاس کے گولے سے پھنسنے لگے۔
’’میں واقعی ایسا نہیں ہوں!‘‘ آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے۔ ’’اچھا … واقعی… ویری گڈ… ویری گڈ… تو پھرخوب پڑھو۔ یاد رکھو علم مومن کی میراث ہے۔ او کے بائے… میں ذرا لندن میں اپنے دوست کو خط لکھ لوں جو مجھے جی جان سے پیارا ہے اطہر۔ پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کرنا ورنہ پھر فون کے بل کے لیے بھی پریشان ہوتے پھروگے۔‘‘
لیکچر کی دیا سلائیوں نے یک لخت بارود کے ڈھیر کو آگ کے شعلوں میں تبدیل کردیا۔ دھڑ دھڑ دھڑ… شعلے لپکنے لگے۔ وقاص کی کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔ یہ بات، یہ انداز اور یہ لہجہ تو ا س کے پرانے سے پرانے غریب دوستوں کا نہ تھا جو علمیت میں، قابلیت میں منیب فریدی سے ہر طرح پیچھے تھے۔ جو ’’دریا‘‘ دل تو تھے مگر اس سمندر کی طرح تو نہ تھے جس کی حیثیت و وقعت محض ایک دریا جیسی تھی، ایک کھالے جتنی تھی۔ ان غریب دوستوں نے آج تک اس کے دل کو یوں نہ کچلا تھا۔ ساری رات آنسو بہانے کے بعد وقاص نے ایک فیصلہ کرلیا۔ ٹھیک تین دن بعد وہ منیب کا قرض اسے لوٹاتے ہوئے بولا: ’’یہ لیجیے سر… آپ کی بروقت امداد کا شکریہ۔ میں نے شام کو جوتوں کی ایک دکان میں ملازمت کرلی ہے۔ مالک کروڑ پتی اور اعلیٰ ظرف کا مالک ہے۔ وہ واقعی’’ انسان‘‘ ہے۔ اس نے میری داستان سن کر آپ کا کل اثاثہ مع دوستی کی ترازو کے واپس بھجوایا ہے۔‘‘
پھر اس دن کے بعد وقاص دریا بن کر کبھی سمندر میں گرتا نظر نہ آیا۔
…٭…
’’ہیلو، ہاں عظمیٰ بیٹا، کیا بات ہے؟‘‘
شہر کے معروف ترین کالج کے پرنسپل منیب فریدی، پروفیسر ڈاکٹر، ماہر تعلیم، علم کے سمندر نے انٹر کام پر رابطہ کرنے کی وجہ اپنی پی اے عظمیٰ سے پوچھی۔
عظمیٰ کو پرنسپل صاحب کی اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں اور بلند اخلاق پر خاصا ناز تھا۔ پرنسپل صاحب نے آج تک اسے کسی بھی غلطی پر ڈانٹا نہ تھا۔ بس ’’لیکچر‘‘ کے بعد بخش دیا تھا۔ اشارتاً یا کنایتاً بھی اس سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کی تھی۔ عظمیٰ پر ڈاکٹر منیب فریدی کی شخصیت کا عجیب سا سحر طاری تھا۔ وہ آرزو کیا کرتی کہ کاش ملک کے تمام کالجوں، یونیورسٹیوں کے پرنسپل ان جیسے ہوجائیں تو ملک کے تعلیمی نظام کی کایا پلیٹ جائے۔
’’لائق فائق… ذہین وفطین۔‘‘ وہ برملا کہا کرتی۔
ڈاکٹر منیب علم و ادب کا وسیع سمندر ہیں۔‘‘
سننے والے ہنستے ’’سمندر تو ہوتا ہی وسیع ہے۔‘‘ وہ کہا کرتی لیکن اس سمندر کا کوئی ذاتی دوست نہیں ہے۔ نہ کبھی کوئی ملنے آیا۔
’’عظمیٰ بیٹا کیا بات ہے؟‘‘ پرنسپل صاحب کی آواز سن کر وہ اپنی سوچوں کے بھنور سے نکل آئی۔ مسکراتے ہوئے بولی: ’’سر … ایک بہت ہی قد آور شخصیت آپ کو سرپرائزدینے کے لیے آپ سے ملاقات کی خواہش مند ہے۔ یہ شخصیت اتنی باوقار ہے کہ میری ان صاحب کو روکنے کی ہمت بھی نہیں پڑی ہے۔انھوں نے اپنا مکمل تعارف کروادیا ہے۔ لیکن وہ ویٹنگ روم میں تشریف رکھتے ہیں۔ آپ یقینا ان کو دیکھ کر کھل اٹھیں گے سر۔‘‘
’’آ… آچھا… اچھا اچھا… بھیج دو بھائی۔ بھیج دو… کوئی تعلیمی افسر ہی ہوگا۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے ہوگا کوئی۔ وزیرِ تعلیم نے میرا امتحان لینے کسی کو نہ بھیجا ہو۔ کیا پتا اعلیٰ افسران کو میرا در پردہ امتحان مقصود ہو، کوئی اور منصب میرا منتظر ہو۔‘‘ عظمیٰ ان کی گفتگو کے آخری جملے نہ سن سکی، وہ تو بس اتنا جانتی تھی کہ ڈاکٹر منیب فریدی کے بچپن کے دوست اطہر لندن سے اچانک آئے تھے اور اب سرپرائز دینے والے تھے۔ کچھ دیر بعد آفس کا دروازہ کھلا۔ پروفیسر منیب اپنے گہرے دوست اطہر کو دروازے میں ایستادہ دیکھ کر سٹپٹاگئے۔
وہ تو کچھ اور ہی توقع کررہے تھے۔ اطہر ان کے سینے سے لگنے کو بے چین تھا۔ پروفیسر بڈھا ہوگیا تھا، مگر تھا ان کا دوست۔ لندن میں پچیس برس سے کیسے کیسے دل موہ لینے والے خطوط لکھ کر بھیجا کرتا تھا کہ اطہر کا دل چاہا کرتا کہ کاش اسے پر لگ جائیں اور وہ اُڑ کر منیب کے پاس پہنچ جائے۔ ’’یہ … یہ حرکت کی ہے تم نے اطہر؟ لندن سے گھر آئے ہوتے۔ ملازم سے کمرہ لیا ہوتا۔ میری بیگم اور بچہ تمہیں دیکھ کر کس قدر خوش ہوتے؟ یہ … یہ تو آفس ٹائم ہے۔ سرکاری وقت میں خیانت ہے یہ اطہر۔ مجھے دیکھو حکومت کے خرچ پر لندن آیا اور تمہیں ڈسٹرب کیے بغیر واپس بھی آگیا کہ تمہاری آفیشل مصروفیات مجھے دیکھ کر متاثر نہ ہوں۔‘‘ پروفیسر کا بارودخانہ پھٹنے کو تیار تھا۔
اطہر کے اٹھے ہوئے مضطرب بازو ڈھیلے ہوکر لٹک گئے۔ اس کا چہرہ بجھنے لگا، وہ بے بسی سے اپنا نچلا ہونٹ کاٹنے لگا۔ اس نے ایک نظر اٹھا کر پرنسپل صاحب کو دیکھا جو اس سے بے نیاز ہوکر کمپیوٹر اسکرین پر اپنے موٹے عدسوں والی نگاہیں جمائے بیٹھا انگلیوں سے گٹ گٹ کررہا تھا۔ وہ آفس سے ایسے باہر نکلا جیسے بیٹا بوڑھے باپ کو قبر میں دفن کرکے قبرستان سے نکلتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر رشتہ ہر ساتھ ختم کرکے۔
’’سوری سر…‘‘ عظمیٰ نے اس سے معذرت کی۔ وہ پروفیسر صاحب کی اس دوست سے کافی ’’امپریس‘‘ ہوئی تھی۔ اس شخص کی گفتگو میں تجربہ اور ذہانت کثرت سے موجود تھی۔ اطہر زخمی پرندے کی طرح مسکرایا۔ ’’نہیں میڈم… غلطی آپ سے نہیں… آپ تو ابھی کہہ رہی تھیں ناکہ آپ کا باس علم کا وسیع سمندر ہے، یہ تو مجھے خبر نہ تھی کہ سمندر کا پانی جھوٹی انا اور دکھاوے کے گدلے پانی میں بدل گیا ہے۔ ہوتا ہے کبھی کبھی ایسا… انسان دوسروں پر اپنے علم اور برتری کا جعلی عکس ڈالتے ڈالتے اسی زندگی کو جینا شروع کردیتا ہے۔ یہ جانے بغیر کہ بنانے والے نے دوسروں کو سکھ دینے کو پسند کیا ہے۔ رویے اور لفظوں سے دکھ دینے کو نہیں۔ اور پھر ڈاکٹر اطہر بول ہی پڑے کہ’’ہمارے رسول کا قول ہے: بھلی اور میٹھی بات کہہ دینا اس صدقے سے زیادہ بہتر ہے جس کے بعد کسی کے دل کو تکلیف پہنچ جائے۔‘‘
——





